آئی ایس آئی کا سیاسی سیل

آئی ایس آئی کا سیاسی سیل

  

سپریم کورٹ نے اصغرخان کیس کی سماعت کے دوران قرار دیا ہے کہ تمام ریاستی امور صرف آئین کے تحت ہی چل سکتے ہیں، اور 31 جولائی کو سابق صدر پرویز مشرف کے اقدامات کو کالعدم قرار دیئے جانے کے عدالتی فیصلے کے بعد ملک میں آئی ایس آئی کا کوئی سیاسی سیل کام نہیں کرسکتا۔ اگر کوئی سیاسی سیل کام کررہا ہے تو اسے فوری طور پر بند کیا جائے.... فاضل عدالت میں سماعت کے دوران آئی ایس آئی کے سیاسی سیل کے قیام کا نوٹی فکیشن ایک بار پھر پیش نہیںکیا گیا۔ اٹارنی جنرل کا کہنا تھا کہ نوٹی فکیشن 39 سال پرانا ہے، اس لئے مل نہیں رہا۔ تاہم انہوں نے عدالت کویقین دہانی کرائی کہ وہ نوٹی فکیشن تلاش کرنے کی کوشش کریں گے۔

اٹارنی جنرل کے بیان سے یہ تو واضح ہوگیا کہ جس نوٹی فکیشن کی تلاش ہورہی ہے، وہ 1973ء(39 سال قبل) میں جاری ہوا تھا، اُس وقت پاکستان میں پیپلز پارٹی کی پہلی حکومت کا دور تھا، جس کے سربراہ جناب ذوالفقار علی بھٹو تھے، انہوں نے پہلی مرتبہ آئی ایس آئی میں سیاسی سیل قائم کیا، جو ملک میں سیاسی سرگرمیوں پر نظررکھتا ہے۔ اصغر خان کیس میں جو طویل تاخیر کے بعد اس وقت زیر سماعت ہے، سیاست دانوں میں آئی ایس آئی کی جانب سے رقوم تقسیم کرنے کا الزام ہے۔ یہ رقوم تقسیم کرنے کا مقصد انتخابات پر اثرانداز ہوناتھا۔ اس مقصد کے لئے آئی جے آئی بنوائی گئی۔ سپریم کورٹ نے قرار دیا ہے کہ کسی کو حکومتیں گرانے کا اختیار نہیں، ماضی میں انتخابات پراثر انداز ہونے کے لئے سیاست دانوں میں رقوم تقسیم کی گئیں، ملوث افراد کو ضرور سزا ملے گی۔ ماورائے آئین مداخلت کے بغیر جمہوری عمل جاری رہے گا۔ 

بدقسمتی کی بات ہے کہ آئی ایس آئی میں سیاسی سیل ایک جمہوری دور میں قائم ہوا اور بعد میں آنے والے فوجی اور جمہوری دونوں ادوار میں اس کو بند کرنے کی ضرورت محسوس نہ کی گئی۔ ہر حکومت نے اس سیل کو سیاسی مقصد براری کے لئے استعمال کیا۔ جنرل پرویزمشرف کے دور میں سیاسی جماعتوں کی توڑ پھو ڑ اور حکومت سازی کے لئے بھی اس سیل کو استعمال کیا گیا، جو سیاست دان حکومت کا ساتھ دینے کے لئے تیار ہوگئے، انہیں پو ّتر قرار دے دیا گیا اور جنہوں نے لوٹا بننے سے انکار کیا، انہیں طرح طرح سے تنگ کیا گیا۔ اب مقامِ مسرت ہے کہ سپریم کورٹ نے اپنے حکم میں ایک ماورائے آئین سرگرمی بند کرنے کا حکم دیا ہے۔ اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ جس سیل کے قیام کا نوٹی فکیشن ہی نہیں مل رہا، اس کی باقی سرگرمیوں کا ریکارڈ کہاں ہوگا؟ اصولاً تو جمہوری حکومتوں کو ہی اس سیل کو بند کردینا چاہئے تھا لیکن بدقسمتی سے ایسا نہیں ہوا تو اب سپریم کورٹ کا حکم خوش آئند ہے۔ توقع کی جانی چاہئے کہ اب سیاسی امور میں غیر سیاسی مداخلت کا ناروا باب ہمیشہ کے لئے بند ہوجائے گا اور نئی صحت مند سیاسی روایات کا آغاز ہوگا۔ 

مزید :

اداریہ -