میانمار(برما) کے مظلوم مسلمان

میانمار(برما) کے مظلوم مسلمان

  

روزنامہ ”پاکستان“ کے قارئین کی بھاری تعداد نے گزشتہ چند روز کے دوران ہماری توجہ متعدد مرتبہ ایک ایسے مسئلے کی طرف متوجہ کرائی ہے ،جس کا تذکرہ بین الاقوامی اور ملکی ذرائع ابلاغ میں اس شدت سے نہیں کیا جا رہا،جس کا یہ متقاضی ہے۔یہ مسئلہ برما( میانمار) کے صوبے اراکان میں بدھ مت کے پیروکار قبیلے رہاکین اور اس صوبے میں بسنے والے مسلمان قبیلے روہنگیا کے مابین جاری تنازعہ ہے۔ برما نے 1948ءمیں برطانوی راج سے آزادی حاصل کی تھی۔1962ءمیں اقتدار پر فوج قابض ہوگئی اور2010ءتک اقتدار کے ایوانوں میں فوج کا ہی بول بالا رہا۔اس عرصے کے دوران اسے انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے باعث بین الاقوامی برادری کی جانب سے اقتصادی پابندیوں کا سامنا کرنا پڑا۔2010ءمیں بالآخر انتخابات منعقد کئے گئے،لیکن اس پر بھی عالمی مانیٹرنگ اداروں نے شدید تحفظات کا اظہار کیا۔ان انتخابات میں فوج کی حمایت یافتہ جماعت یونین سولیڈیریٹی اینڈ ڈویلپمنٹ پارٹی کو فاتح قرار دیا گیا۔اس کے بعداصلاحات کا عمل شروع کیا گیا اور بہت سے زیر حراست جمہوریت کے حامی افراد کو رہا کردیا گیا۔گزشتہ برس امریکہ نے اقتصادی پابندیوں میں کچھ نرمی کا اعلان کیا اور دسمبر میں امریکی وزیرخارجہ ہیلری کلنٹن نے برما کا دورہ بھی کیا۔تاہم اب بھی عالمی ذرائع ابلاغ کے پاس برما تک مکمل رسائی موجود نہیں، لہٰذا رہاکین اور روہنگیا قبائل کے درمیان جاری تنازعہ کی اصل وجہ اور نوعیت معلوم کرنا ممکن نہیں۔اس کے باوجود روزنامہ ”پاکستان“ نے کوشش کی ہے کہ دستیاب ذرائع سے حقائق پر مبنی معلومات اپنے قارئین کے مطالعہ کے لئے پیش کرے۔

رہاکین اور روہنگیا قبائل کے درمیان جاری حالیہ تنازعہ کی کڑیاں جون 2012ءمیں رونما ہونے والے ایک واقعہ سے جا ملتی ہیں۔ رہاکین کی جانب سے الزام لگایا جاتا ہے کہ تین روہنگیوں نے بدھ مذہب سے تعلق رکھنے والی ایک خاتون کو اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنایا۔بظاہر اس واقعہ کے ردعمل میں چند روز بعد دس مسلمانوں کو ایک بس سے اتار کر اتنا تشدد کیا گیا کہ وہ اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے۔دس روز بعد رہاکین اور روہنگیا قبائل کے لوگوں کے درمیان جھڑپ ہوئی، جس کی وجہ صحیح طور پر معلوم نہیں ہو سکی۔یہ جھڑپ جنگ کی شکل اختیار کر گئی اور دونوں طرف سے تعلق رکھنے والوں نے ایک دوسرے کے گھروں اور گاﺅں کو نشانہ بنایا۔ فسادات شروع ہونے کے بعد ایمرجنسی نافذ کر دی گئی اور علاقے میں کرفیولگا دیا گیا، تاہم انسانی حقوق کی تنظیموں کا کہنا ہے کہ کرفیو کا نفاذ صرف روہنگیا پر کیا گیا اور انہیں گھروں سے باہر نکلنے کی اجازت نہ دی گئی۔یہاں پر یہ تذکرہ ضروری ہے کہ ریاست اراکان میں روہنگیا اقلیت میں ہیں اور ان کی کل تعداد سات سے آٹھ لاکھ کے درمیان بتائی جاتی ہے۔یہ ریاست غربت کی دلدل میں ڈوبی ہوئی ہے، جس کے باعث بیماریاں عام ہیں اور بین الاقوامی غیر سرکاری تنظیموں کی بھاری تعداد یہاں لوگوں کی امداد کے لئے سرگرم ہے، تاہم حکومت کی جانب سے سخت پابندیوں کے باعث دنیا کو اس خطے کے بارے میں بھرپور آگاہی نہیں۔ رہاکین برما کی آبادی کا پانچ فیصد سے زائد ہیں اور عوامی و حکومتی سطح پر حالات یہ ہیں کہ کوئی روہنگیا کو برما کاشہری قبول کرنے کے لئے بھی کوئی تیار نہیں۔روہنگیا کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہ بنگلہ دیش سے ہجرت کرکے برما گئے تھے ۔ تاہم یہ اپنے آپ کو برما کا حصہ کہلاتے ہیں اور کم از کم چھ دہائیوں سے یہاں آباد ہیں۔ اب جب برما کی زمین ان پرتنگ ہوگئی تو تقریباً 300 روہنگیا مسلمانوں نے سمندر کے راستے بنگلہ دیش میں داخلے کی کوشش کی تو بنگلہ دیشی حکام نے انہیں قبول کرنے سے انکارکرتے ہوئے واپسی کا راستہ دکھا دیا۔

اب تک کتنے روہنگیا ان فرقہ وارانہ فسادات کی نذر ہوچکے ہیں حتمی طور پر کچھ نہیں کہا جا سکتا، لیکن اندازوں کے مطابق 30000سے زائد گھر جلائے جا چکے ہیں اور مارے جانے والے مسلمانوں کی تعداد بھی ہزاروں میں ہے۔افسوسناک بات یہ ہے کہ برما کے لیڈروں کی جانب سے اس معاملے کے حل کے لئے سنجیدگی کا اظہار نہیں کیا جارہا۔برما کے صدر تھائین لین نے گزشتہ ہفتے اقوام متحدہ سے درخواست کی کہ روہنگیا مسلمانوں کو برما سے منتقل کرکے کسی اور ملک لے جایا جائے۔اقوام متحدہ نے اصولی طورپر اس مو¿قف کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ کسی قبیلے کو ملک بدر نہیں کیا جا سکتا۔ اس سے بھی زیادہ افسوسناک رویہ برما سے تعلق رکھنے والے انسانی حقوق کے نام نہاد علمبرداروں کا ہے۔ ان میں آنگ سان سوکیئی بھی شامل ہیں۔ انہیں ایک لمبے عرصے تک فوج کی جانب سے قید میں رکھا گیا اور تھوڑا عرصہ قبل ہی رہا کیا گیا ہے، وہ نوبل امن انعام یافتہ بھی ہیں۔ اُن کا کہنا ہے کہ انہیں نہیں معلوم کہ روہنگیا برمی باشندے ہیں ۔ آنگ سان نے ایک لمبے عرصے تک انسانی حقوق کے لئے فوجی آمریت کے خلاف جدوجہد کی۔ اُن کی جانب سے اِس قسم کا ردعمل مایوس کن ہے۔ کہا جاتا ہے کہ برما کے رہنماﺅں کا اقلیتی روہنگیا کے خلاف یہ رویہ سیاسی وجوہات کے باعث ہے۔ روہنگیا بے حد چھوٹی اقلیت ہیں اور عوامی جذبات اُن کے خلاف ہیں، لہٰذا حکومت اور اپوزیشن میں سے کوئی بھی اُن کی مدد کے لئے تیار نہیں۔

برما کے یہ حالات نہ صرف مسلمانوں، بلکہ پوری دُنیا کے انسانوں کے لئے لمحہ ¿ فکریہ ہیں۔ وجہ چاہے جو بھی ہو، کسی انسان کا ناحق خون بہانے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ اقوام متحدہ کو چاہئے کہ وہ برما میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا سخت نوٹس لے۔ او آئی سی (آرگنائزیشن آف اسلامک کنٹریز) کو بھی چاہئے کہ وہ اپنا کردار ادا کرے اور برمی مسلمانوں کے تحفظ کے لئے تمام سفارتی ذرائع بروئے کار لائے۔ برما کی حکومت سے رابطہ کر کے ذرائع ابلاغ اور انسانی حقوق کے تحفظ کی تنظیموں کے ارکان پر مبنی وفد تشکیل دیا جانا چاہئے جو اراکان جائے اور جا کر متاثرین سے مل کر معاملے کی تہہ تک پہنچے۔ ضروری ہے کہ حقائق کا پتہ لگایا جائے اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے مرتکب افراد کے ہاتھ روکے جائیں اور بین الاقوامی قوانین کے مطابق انہیں سزائیں دی جائیں۔ حکومت پاکستان پر بھی لازم ہے کہ برما کی حکومت سے رابطہ کرے اور ان مظالم کی روک تھام کا مطالبہ کرے۔ اسی طرح چین سے بھی گفتگو کی جانی چاہئے کہ وہ اِس حوالے سے برما میں اپنا اثرو رسوخ استعمال کرے۔ یہ ہم سب کی ذمہ داری ہے کہ برما میں مظالم کا شکار مسلمانوں کی مدد کے لئے انفرادی اور اجتماعی سطح پر جو ممکن ہو سکے کیا جائے۔

مزید :

اداریہ -