”فاسٹ“ کے لاہور کیمپس میں کانووکیشن کا منظر

”فاسٹ“ کے لاہور کیمپس میں کانووکیشن کا منظر
”فاسٹ“ کے لاہور کیمپس میں کانووکیشن کا منظر

  

فاﺅنڈیشن فار ایڈوانسمنٹ آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی نے جو اختصاراً ”فاسٹ“ کہلاتی ہے 16 جولائی 2012ءکو اپنے 29 ویں کانووکیشن کا انعقاد کیا جس میں ”نیشنل یونیورسٹی آف کمپیوٹر اینڈ ایمرجنگ سائنسز“ کے ریکٹر ڈاکٹر امیر محمد نے بطور مہمان خصوصی جلوہ آرائی کی چند روز پہلے ہمارا خیال ہوا کہ ہم ڈاکٹر امیر محمد کو اپنے ”منظوم مفہوم قرآن مجید“ کی زیارت کراتے چنانچہ ملاقات کا مرکز طے کرنے کے لئے انہیں اسلام آباد میں فون کیا تو انہوں نے فرمایا کہ وہ 16 جولائی 2012ءکو ”فاسٹ“ کے کانووکیشن پر لاہور آئیں گے تو وہیں ملاقات ہوجائے گی چنانچہ ”فاسٹ“ لاہور کے ڈائریکٹر ڈاکٹر ارشد کو ان کے سیکرٹری کے ذریعے آگاہ کردیا گیا جبکہ ہمارا خیال تھا کہ اس تقریب کا جو دعوتی کارڈ ہمیں موصول ہوا تھا اس پر درج پروگرام کے مطابق ڈاکٹر امیر محمد سے ہماری ملاقات ”کانووکیشن“ کے بعد ہوسکے گی کیونکہ دعوتی کارڈ پر درج پروگرام کے مطابق اس کانووکیشن نے ٹھیک 9 بجے صبح شروع ہوکر قبل از دوپہر گیارہ بجکر بیس منٹ پر اختتام پذیر ہوجانا تھا مگر ڈاکٹر ارشد کے سیکرٹری نے ہمیں فون کردیا کہ اگر آپ جلدی آجائیں تو ڈاکٹر امیر محمد سے اس وقت بھی ملاقات ہوجانے کا امکان ہوگا جب ”کانووکیشن“ ابھی شروع نہیں ہوا ہوگا چنانچہ ہم ”فاسٹ“ پہنچ گئے اور ہماری خوش قسمتی کی انتہا تھی کہ وہ کانووکیشن کارڈ پر درج اپنے وقت اختتام کو لمحہ آغاز بنانے پر مجبور ہوگیا یعنی گیارہ بجے کے بعد شروع ہوا حالانکہ اس کانووکیشن میں کوئی شہبازشریف چیف گیسٹ نہیں تھے کہ اس کے دو گھنٹے تاخیر سے شروع ہونے کا کوئی جواز پیش کیاجاسکتا شہبازشریف تو عین اس وقت غالباً ایوان کارکنان تحریک پاکستان میں ڈاکٹر رفیق احمد کے زیراہتمام منعقدہ سمر سکول کی اختتامی تقریب میں بطور مہمان خصوصی براجمان تھے جبکہ ”فاسٹ“ کے آڈیٹوریم میں بیٹھے ہوئے مہمانان گرامی ایک منتظم سٹوڈنٹ وقاص احمد سے بار بار پوچھ رہے تھے کہ آخر کانووکیشن کے دو گھنٹے تاخیر ہوجانے کے باوجود شروع نہ ہوپانے کا سبب کیاتھا، انہوں نے بار بار وہی جواب دیا کہ ایک روز قبل ”فل ڈریس ریہرسل“ کے دوران متوقع ڈگریز ہولڈر کو بتا دیاگیاتھا کہ کانووکیشن کا وقت اگرچہ کارڈ پر 9 بجے صبح ہی لکھا گیاتھا مگر واقعتاً کانووکیشن گیارہ بجے قبل از دوپہر ہی شروع ہونے والا تھا مگر انہوں نے اپنے والدین کو اس حقیقت سے باخبر کرنے میں کوتاہی کی ہوگی، کیوں؟ نہ جانے پھر کیوں؟ خیر ہم تو وہی سمجھے کہ قدرت کاملہ نے ڈاکٹر امیر محمد سے ہمیں پرلطف ملاقات کا موقع فراہم کرنے کے لئے اس تعویق کو دخل در کارروائی کی اجازت عطا فرما دی چنانچہ ہم جب ریکٹر کے کمرے میں داخل ہوئے تو ڈاکٹر امیر محمد نے اٹھ کر ہمارا استقبال کیا وہ سانولے سلونے رنگ کی قدرے بھاری جسم والی پرشکوہ شخصیت ہیں ، اتنے بڑے منصب پر فائز ہونے کے بعد بھی وہ تصنع اور بناوٹ کی گرفت میں نہیں ہوتے، ان سے ہماری وہ ملاقات ان سے ہماری پہلی ملاقات تھی مگر جب فون کیا تو ان کے تربیت یافتہ سٹاف نے فوراً ان سے ملایا اور انہوںنے ہر بار خود ٹیلی فون سماعت فرمایا اور پوری توجہ اور تحمل سے بات کی جبکہ فاسٹ کے ”تمام اداروں“ کے سربراہ اور ہمارے دیرینہ واقف کار وسیم سجاد سے ٹیلی فون پر بات کرنا راقم الحروف جیسے یگانہ روز گار صحافی و شاعر و خطیب و ادیب کے لئے آج بھی ایک خواب وخیال ہے کیونکہ وسیم سجاد نے شائد اپنے سٹاف کی وہ تربیت کی ہوئی ہے کہ کم از کم ہماری آواز تو اس نے وسیم سجاد کے کانوں تک نہ جانے دی شاید ان کا مزاج ان کے ماضی میں حاصل شدہ ان کے مناصب کے معیار کے مطابق اس لئے نہیں کھل سکا کہ ان کی ساری سیاسی ترقی اور سرکاری سربلندی محض چانس اور اتفاق کی مرہون رہی وہ اپنی کسی صلاحیت کے باعث اتنے سرفراز نہ ہوسکے خیر ڈاکٹر امیر محمد نے ڈاکٹر ارشد اور اپنے رجسٹرار شبیر حسین کی موجودگی میں ”منظوم مفہوم قرآن مجید“ کو بڑی توجہ سے ملاحظہ کیا اور منظوم مترجم کی کاوش و عرق ریزی کے ساتھ ”منظوم مفہوم قرآن مجید“ کی اعلیٰ رنگین طباعت اور صوری حسن وخوبی کی بھی کھل کر داد دی، واقعہ وہ ہے کہ ڈاکٹر امیر محمد کھل کر گفتگو کرتے ہیں ، ان کو اپنے مقام کا احساس تو ہوگا ہی مگر وہ دیگر شعبوں کی شخصیات اور ان کے معیار کار کا اعتراف بھی بھرپور اندازمیں کرتے ہیں چنانچہ انہوں نے جس طرح اٹھ کر ہمارا استقبال کیا اسی طرح ایستادہ ہوکر ہمیں رخصت بھی کیا پھر ہم نے ان کو ڈگریز عطا کرتے ہوئے اور گولڈ میڈل حاصل کرنے والے طلباءوطالبات کو داد دیتے ہوئے بھی دیکھا وہ نہایت فرحاں و شاداں نظر آرہے تھے، آج جن سٹوڈنٹس نے گولڈ میڈل حاصل کئے تھے ان میں ایم بی اے کی صدف اقبال، عاطر فضل، عثمان بدر، تیمور طارق بٹ، الیکٹریکل انجیئرنگ کے زمان ملک، کمپیوٹر سائنس کی عشرت فاطمہ، میتھیمیٹکس کی روبی پرویز، سافٹ ویئر پروجیکٹ مینجمنٹ کے نعمان احمد خان، بزنس ایڈمنسٹریشن کی زہرہ (ZAHRA ISAAD) کمپیوٹر سائنس کے وقاص معراج، کمپیوٹر انجینئرنگ کی سحر الایمان اور ٹیلی کام انجینئرنگ کی ماریہ شعیب شامل تھیں۔ فاسٹ کی زندگی کا ہم واقعہ وہ بھی تھا کہ آج دو عالی دماغ خواتین یعنی مس عمرانہ کوثر اور مس قمر عباس نے پی ایچ ڈی کی ڈگریز بھی حاصل کیں اور جب ان کو ڈگریز عطا کی جارہی تھیں تو پورا ہاﺅس ایستادہ ہوکر بھرپور کلیپ دے رہاتھا۔ ڈاکٹر امیر محمد نے اپنے خطاب کے دوران واضح کیا کہ آئندہ پی ایچ ڈی کرنے والوں کی تعداد بڑھ جائے گی انہوں نے ڈگریز حاصل کرنے والوں کو دلی مبارکباد دی اور فرمایا کہ ہم نے آپ کو بہترین فن وہنر سے متصف کردیا ہے۔ آپ کی بہترین تربیت کی اور ہمیں پورا اعتماد ہے کہ آپ عملی زندگی کے میدان میں جہاں فاسٹ کا نام روشن کریں گے وہاں بانی پاکستان حضرت قائداعظم محمد علی جناح رحمة اللہ علیہ کی اس آرزو کے مطابق اپنی صلاحیت و تربیت کا استعمال بھی کریں گے کہ پاکستان عظیم سے عظیم تر بنا دینے میں آپ کی کارکردگی بھی نمایاں طور پر نظر آتی رہے، ہم بھی فاسٹ کو مزید ترقی دینے کے لئے آپ کی تجاویز کے منتظر رہیں گے۔

مزید :

کالم -