پاکستان کا مسئلہ

پاکستان کا مسئلہ
پاکستان کا مسئلہ

  

پاکستان کا مسئلہ یہ ہے کہ ساری قوم ٹی وی کے آگے بیٹھ گئی ہے ،اس مسئلے کا آدھا حصہ یہ ہے کہ ٹاک شوز میں جو باتیں ہو رہی ہیں وہ کسی کے پلے نہیں پڑ رہی ہیں اور آدھا حصہ یہ ہے کہ ان ٹاک شوز میں بریکیں بڑی لمبی ہوتی ہیں، کچھ یاد ہی نہیں رہتا کہ بریک سے پہلے سے کیا بات ہو رہی تھی، بلکہ حقیقت یہ ہے کہ ملک ریاض بھی اس لئے پھنس گیا کہ اس کے اعزاز میں کئے جانے والے پروگرام کی بریکیں ضرورت سے زیادہ لمبی تھیں، ایک بریک تو پورے ایک گھنٹے کی تھی، آف کیمرہ گفتگو کی ریکارڈنگ دیکھیں تو پتہ چلتا ہے کہ سننے والی گفتگو تو بریک کے دوران ہوئی ، آن ایئر تو سپیچ فکسنگ کے سوا کچھ نہیں تھا !

اس مسئلے کا حل یہ ہے کہ قوم آئندہ سے ٹی وی کے آگے بیٹھنے کے بجائے ، ٹی وی کے پیچھے بیٹھنا شروع کردے تاکہ ہر ٹاک شو کی آف کیمرہ گفتگو سن سکے، اس کے دو فائدے ہوں گے ، ایک تو گفتگو کا تسلسل بنا رہے گا اور دوسرا بریک کے دوران اشتہاریوں کی اذیت سے بھی بچے رہیں گے!

ہمارے ٹی وی اینکروں کا کہنا ہے کہ ٹاک شوز سے لوگوں میں شعور بڑھ رہا ہے جبکہ لوگوں کی ایک تعداد ایسی بھی ہے جو سمجھتی ہے کہ ان ٹاک شوز کے نتیجے میں معاشرے میں فتور بڑھ رہا ہے، بڑے بڑے چور اچکے جس ڈھٹائی سے ٹی وی پر بیٹھ کر جھوٹ بولتے ہیں ، ایک دوسرے کے خلاف بہتان تراشی کرتے دست و گریباں کی نوبت کو پہنچتے ہیں ، اس سے لگتا ہے کہ معاشرہ بہت جلد اندھا، گونگا اور بہرہ ہو جائے گا، جیسے نادیہ خان ،مایا خان اور ڈاکٹر عامر لیاقت کے معاملے میں ہو چکا ہے کہ جنھوں نے پہلے معاشرے کا سکون تلپٹ کیا ا ور اب معاشرے کو جینے کے آداب سکھا رہے ہیں اور لوگ ہیں کہ کیمرے کے آگے آنے کے شوق میں دھڑا دھڑ ان کے پروگراموں میں براجمان ہیں!

ایک رائے یہ ہے کہ 65برس گزرجانے کے باوجود ابھی تک حکومت سازی کے بنیادی نکات کا تعین نہیں ہو سکا ہے، بنیادی حقوق کا تریاک نہیں مل سکا ہے ، اس لئے بھی لوگ ٹاک شوز دیکھتے ہیں کہ شاید کوئی سرا ہاتھ آ جائے ، بجا ،د رست ، لیکن یہ کیا مذاق ہے کہ جن نااہل حلقوں کی نااہلی کے سبب یہ مسائل حل طلب ہیں ہم انہی سے حل کی امید لگائے بیٹھے ہیں، یعنی میر کیا سادہ ہیں بیمار ہوئے جس کے سبب، اسی عطار کے لڑکے سے دوا لیتے ہیں!

دکانداریاں ہیں جناب دکانداریاں،اور عوام سمجھے بیٹھے ہیں کہ ان کے دکھوں کا مداوابکتا ہے ٹاک شوز میں، باتوں سے سوائے باتوں کے کچھ نہیں ملتا، عمل کا دارومدار نیت پر ہے اور نیت کا دارومدار صلاحیت پر ہوتا ہے، جب صلاحیت ہی نہیں تو کیسی نیت اور کہاں کا عمل، بس باتیں ہی باتیں، کج بحثی ہی کج بحثی!

کل رات ہی جناب شیخ رشید ایک پروگرام میں بیٹھے کہہ رہے تھے کہ سسٹم کو خطرہ بڑھ گیا ہے اس لئے فوری انتخابات ہوجانے چاہیں ورنہ پھر خونی انتخابات ہوں گے، اور پھر خود ہی کہنے لگے کہ چونکہ وہ حکومت میں نہیں ہیں اس لئے کھل کر بات کر رہے ہیں ، اگر ان کے سینے پر بھی ایم این اے یا وزیر کا بلا لگا ہوتا تو اتنی کھل کر بات نہ کرتے، یہی تو مسئلہ ہے ہمارے ٹاک شوز کا کہ جو کوئی کچھ کرنے کے پوزیشن میں ہوتاہے ، وہ کھل کر بات بھی نہیں کرتا اور جس کے پلے کچھ نہیں ، وہ حکیم لقمان بنا بیٹھا ہے، اس کے پاس ہر مسئلے کا حل ہے، ہر تالے کی کنجی ہے!

ادھر حکومت میں بیٹھے جغادریوں کی بات سنیں تو لگتا ہے کہ سسٹم کو توکچھ ہوا ہی نہیں، کیونکہ سسٹم کو انہوں نے پچھلے ساڑھے چار سال میں چھیڑا ہی نہیں ، بس جہاں کہیں دراڑ نظر آئی وہیں چونا لگا دیا، اللہ اللہ خیرسلہ، جیسے حکومت نے اپنے اتحادیوں کو چونا لگا یا ہوا ہے، امریکہ کو لگایا ہوا ہے اور تو اور بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے نام پر اپنے ووٹروں سپورٹروںکو ایک ایک ہزار کا چونا لگایا ہوا ہے، بلکہ مزے کی بات یہ ہے کہ بھارت میں پاکستان کے سفارت خانے نے اجمیر شریف کی انتظامیہ تک کو چونا لگا دیا ہے ، خبر یہ ہے کہ صدر زرداری اجمیر شریف حاضری کے موقع پر جن دس لاکھ ڈالروں کے عطیے کا اعلان کرکے آئے تھے، اس کی ادائیگی ابھی تک نہیں ہوئی، سفارت خانے کا اصرار ہے کہ منتظمین درگاہ کی توسیع کا منصوبہ کاغذ پر بناکر دیں تو دس لاکھ ڈالر کا عطیہ جاری ہوگا جبکہ درگاہ کے منتظمین کا کہنا ہے کہ وہ عطیے کبھی توسیعی منصوبے دکھا کر اکٹھے نہیں کرتے ، اس لئے صدر زرداری نے جو وعدہ کیا ہے ، اسے پورا کیا جائے، دیکھیں یہ نیا پار لگتی ہے یا نہیں!

خیر جس ملک میں ٹی وی چینلوں پر ولیمے اور رخصتیاں براہ راست دکھائی جا رہی ہوں وہاں ساری قوم ٹی وی کے آگے نہیں بیٹھے گی تو اور کیا ہوگا، پھر بریک چاہے کتنی ہی لمبی کیوں نہ ہو، اس میں بھی تو کترینا کیف غیر ضروری بالوں کی صفائی کا نسخہ بتاتی ہے اور کرینہ کپور سر کے بالوں میں خشکی کا حل دیتی نظر آتی ہے، ٹی وی اتنے حل دیتا ہے کہ اب ہم ہر مسئلے کے حل کے لئے ٹی وی دیکھتے ہیں، حتیٰ کہ ٹائم تک درست کرنا ہو تو تو ٹی وی دیکھتے ہیں ، یہ الگ بات کہ کسی بھی چینل کی سوئی دوسرے چینل سے نہیں ملتی !

مزید :

کالم -