پاکستان کے بڑے تجارتی گروپ نے بھارت میں ایم سی بی کی تین شاخیں کھولنے کا فیصلہ کرلیا

پاکستان کے بڑے تجارتی گروپ نے بھارت میں ایم سی بی کی تین شاخیں کھولنے کا ...

  

نیویارک(ارشد چودھری ) پاکستان کے انتہائی مسحتکم نشاط بزنس گروپ کے سربراہ میاں محمد منشاءنے بھارت میں مسلم کمرشل بینک کی تین شاخیں قائم کرنے کا فیصلہ کیا ہے، ان کا کہنا ہے کہ اس کی سب سے بڑی توجیہ یہ ہے کہ بھارت کی مارکیٹ بہت منافع بخش ہے، میاں منشاءنے ” فنانشل ٹائم“ کو ایک انٹرویو دیتے ہوئے کہا ہے کہ ہم پاکستان کا پہلا گروپ ہیں جس نے بھارت میں اپنے بینکوں کی شاخیں کھولنے کے لیے اپلائی کیا ہے۔انہوں نے کہا کہ اس سلسلے میں ہم سٹیٹ بینک آف پاکستان کو اجازت کےکے لیے درخواست دے چکے ہیں، اجازت ملتے ہی ہمارے بینک وہاں کام شروع کر دیں گے کیونکہ بھارت کی مارکیٹ میں اس حوالے سے بے پناہ مواقع موجود ہیں، اخبار نے لکھا ہے کہ اگر میاں محمد منشاءاپنی کوشش میں کامیاب ہو جاتے ہیں تو قیام پاکستان کے 65 سال بعد وہ پہلے شخص ہوں گے جو دونوں ممالک کے درمیان ایک مرکزی بینک قائم کریں گے، اخبار نے لکھا ہے کہ بھارت میں ایم سی بی کی شاخیں قائم کرنا دونوں ممالک کے درمیان ہونے والی ان کاوشوں کا پیش خیمہ ہے جس کے مطابق دونوں ممالک باہمی تجارت کو زیادہ سے زیادہ فروغ دینا چاہتے ہیں، اس میں زیادہ حوصلہ افزا امکانات اس وقت پیدا ہوئے تھے جب اس سال اپریل میں صدر زرداری نے بھارت کا دورہ کیا تھا، دونوں ممالک کی حکومتیں تعلقات کار میں بہتری کے لئے اقتصادی اور تجارتی میدان میں ایک دوسرے کے نزدیک آنا چاہتی ہیں، خاص طور پر2008 ءکے ممبئی حملوں کے بعد جن کا مبینہ طور پر پاکستان پر الزام ہے، دونوں ملک بگڑے ہوئے تعلقات کو اچھا بنانا چاہتے ہیں، اخبار نے لکھا ہے کہ سوموار کو بھارت کی جانب سے پاکستان کی قومی کرکٹ ٹیم کو اپنے ملک میں ایک روزہ میچوں کی سیریز کھیلنے کے لیے دعوت دینا بھی اپنی کوششوں کی طرف ایک قدم ہے،2007 ءکے بعد دونوں ممالک کی ٹیمیں ایک بار پھر کرکٹ کے میدان میں نبرد آزما ہوں گی، کھیل کا معاملہ بھی2007 ءکے ممبئی حملوں کے بعد خراب ہوا تھا،اخبار نے لکھا ہے کہ پاکستان بھارت کے درمیان ثقافتی اور تجارتی تعلقات کا آغاز اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ دونوں بہت جلد ایک دوسرے کے بڑے تجارتی پارٹنرز بن جائیں گے، بینکنگ سیکٹر کے حوالے سے میاں محمد منشاءکا کہنا ہے کہ بھارت میں ہمارا بینک کھلنے سے پاکستان کے دیگر بینکوں کو بھی وہاں اپنی شاخیں قائم کرنے کے لیے حوصلہ ملے گا، بھارت میں پاکستان کے مقابلے میں ریٹرنز بہت زیادہ ہیں، دوسری جانب غیر جانبدار ماہرین کا کہنا ہے کہ اس معاملے میں پراگریس بہت آہستہ ہو گی، سابق بھارتی سفیر نیلم ڈیو کا کہنا ہے کہ میں اس حوالے سے زیادہ پر امید نہیں ہوں ، کراس بارڈر بینکنگ کے آغاز پر خفیہ ایجنسیاں بھی بہت پریشان ہوں گی کیونکہ اس سے غیر قانونی سرگرمیاں شروع ہونے کا اندیشہ ہے، نیلم دیو کا کہنا ہے کہ مالی ادارے کام کاج کے اعتبار سے بہت حساس اہمیت کے حامل ہوتے ہیں، اگر یہ کھل جاتے ہیں تو میرے لئے حیرت کی بات ہو گی۔

مزید :

صفحہ اول -