بلوچستان کے حالات خراب کرنے میں غیر ملکی ہاتھ ہے :وزیراعظم پرویز اشرف

بلوچستان کے حالات خراب کرنے میں غیر ملکی ہاتھ ہے :وزیراعظم پرویز اشرف

  

اسلام آباد (اے پی اے + مانیٹرنگ ڈیسک) وزیر اعظم راجا پرویز اشرف نے بلوچستان کے حالات کی خرابی میں غیر ملکی ہاتھ ملوث ہے ، ناراض بلوچ جوان ملک دشمنوں کے ہاتھوں میں نہ کھیلیں، حکومت سے مذاکرات کریں ، مسئلہ حل کریں گے تاہم قومی پرچم کی توہین کرنےوالوں سے بات نہیں کی جائےگی،نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی اسلام آباد میں خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ بلوچستان کا اصل مسئلہ امن و امان ہے ، اس سے فوری نہ نمٹا گیا تو دوسرے علاقوں پر بھی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں. ان کا کہنا تھا کہ بلوچستان کی صورت حال اتنی سادہ نہیں جتنی ہم سمجھتے ہیں تاہم غیر ملکی میڈیا واقعات کو بڑھا چڑھا کر پیش کرتا ہے،وزیر اعظم نے کہا کہ بلوچستان کے عوام محب وطن ہیں، بلوچ جوان آئیں اور ہم سے بات کریں، راجا پرویز اشرف نے کہا کہ صدر آصف علی زرداری نے بلوچستان سے معافی مانگی ، این ایف سی ایوارڈ اور ملازمتیں دیں،آغاز حقوق بلوچستان شروع کیا، بےنظیر انکم سپورٹ پروگرام سے لوگ مستفید ہوئے جب کہ فوج اور ایف سی نے بلوچستان میں ترقیاتی کام کیے۔تفصیلات کیمطابق وزیراعظم راجہ پرویزاشرف نے کہا ہے کہ بلوچستان کا مسئلہ دراصل صوبے کے چند علاقوں میں امن وامان کی خراب صورتحال ہے، ان چھوٹے مقامات پر بے چینی کوبڑے پیمانے پر گڑ بڑ سے تشبیہ نہیں دی جاسکتی لیکن اگر اس سے فوری طور پر نہ نمٹا گیا تو اس کے دوسرے علاقوں پربھی منفی اثرات مرتب ہوسکتے ہیں۔وہ نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی میں اس اہم قومی ورکشاپ میں دانشوروں اورسکالرز سے خطاب کررہے تھے۔ مسئلہ بلوچستان کے حوالے سے وزیراعظم کا کہنا تھا کہ سٹیک ہولڈرز قوم کے وسیع تر مفاد کو مدنظر رکھیں یہ صرف بلوچستان نہیں بلکہ درحقیقت پورے پاکستان کے عوام کا مستقبل ہے جو اس وقت داو¿ پر لگا ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ ہمیں بلوچستان کےحوالے سےغیرملکی ذرائع ابلاغ کے پروپیگنڈے سے متاثر نہیں ہونا چاہئے جو بلوچستان کی صورتحال کوبڑھا چڑھا کر پیش کررہا ہے۔ بلوچستان کےعوام بھی اتنے ہی پرامن اور محب وطن ہیں جیسے کہ دوسرے صوبوں کے لوگ ہیں۔ بلوچستان کامسئلہ ہماری ریاست کا اندرونی معاملہ ہے اوراسے پاکستان کے عوام نے ہی حل کرنا ہے۔وزیراعظم نے کہا کہ ہمیں بلوچستان میں فرقہ واریت کے نام پر ہلاکتوں کے مسئلے کوجغرافیائی اور سٹرٹیجک تناظرمیں دیکھنا چاہئے، بلوچستان میں فرقہ واریت کا مسئلہ ایک حقیقت ہوسکتا ہے لیکن مجھے یقین ہے کہ فرقہ واریت کی آڑ میں غیر ریاستی عناصر اور غیرملکی امداد سے کام کرنے والے گروپ بھی سرگرم ہیں، ہمیں حکومتی اور سماجی سطح پران کی سر گرمیوں پر کڑی نظر رکھنے کی ضرورت ہے۔

مزید :

صفحہ اول -