صوبائی حکومتیں انسانی اعضاءکی غیر قانونی خریدو فروخت روکنے کیلئے نئے قوانین بنائیں:سپریم کورٹ

صوبائی حکومتیں انسانی اعضاءکی غیر قانونی خریدو فروخت روکنے کیلئے نئے قوانین ...

  

اسلام آباد(خبرنگار)سپریم کورٹ نے چاروں صوبوں کے چیف سیکریٹری کو انسانی اعضاے¾ سمگلنگ کو روکنے کے احکامات جاری کرتے ہوئے ہدایت کی ہے کہ چاروں صوبوں میں انسانی اعضاءکی سمگلنگ سے متعلق اعدادوشمار آئندہ سماعت کے دوران پیش کئے جائیں چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کی سربراہی میں قائم تین رکنی بنچ نے درخواستوں کی سماعت کی۔ درخواست گزارناصرحسین کی جانب سے ان کے وکیل طارق محمود نے عدالت کو بتایا کہ صوبوں نے قوائد بنانے کا وعدہ کیا تھا مگر اب تک اس پر کوئی بھی پروگریس نہیں ہوئی ، ڈی جی ہیلتھ قاضی عبدالصبور نے عدالت کو بتایاکہ درخواست گزار کی جانب سے جو قانونی مسودہ فراہم کیا گیا تھا وہ من وعن اپنایا گیا ہے لیکن چیف جسٹس افتخار محمد چودھری گردوں کی خریدوفروخت پر سخت افسوس کا اظہا ر کرتے ہوئے ریماکس دیے ہیں کہ قانون تو بنائے جاتے ہیں لیکن بعد میں وہ الماری کی زینت بن جاتے ہیں ، قانون پر عمل نہیںہوتا ، انسانی اعضاءکی فروخت ایک سماجی جرم ہے گردوں کی فروخت میں پنجاب پہلے نمبر پرہے ،کوٹ مومن میں ایک پوراگاﺅں ایسے خواتین و حضرات اوربچوں پر مشتمل ہے جن میں ہر ایک نے اپناایک ایک گردہ فروخت کررکھاہے ،اس گھناﺅنے کاروبار کوروکنے والا کوئی نہیں ہے حکومت جب چاہے اپنی مرضی کاقانون بنالیتی ہے لیکن عام آدمی کے مسائل حل کرنے کے لیے کوئی بھی قانون سازی کوتیارنہیں، جسٹس جواد ایس خواجہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ حکومت عوام کے کاموں میں دل چسپی نہیں لیتی جبکہ ایک گھنٹہ اور8منٹ میں ایک بڑاقانون بنادیاگیا،عوامی مفاد میں قوانین بنانے کے لیے برسوں لگ جاتے ہیں، سوادوسال گزرگئے کسی حکومت نے سپریم کورٹ کے احکامات پر تاحال عمل نہیں کیاہے ،جسٹس خلجی عارف حسین نے ریمارکس دیتے ہوئے کہاہے کہ پاکستان کسی غریب آدمی کے لیے نہیں ہے اس میں سب کچھ صرف ایلیٹ کلاس کے لوگوں کے لیے ہے ،غریب نے تواس ملک میں مرنا ہی ہے غریب کا اس ملک میں کوئی بھی پرسان حال نہیں ، غریب کو مارنے کے لئے سب تیار ہیں۔ ظلم زیادہ دیرتک نہیں چل سکتاکیونکہ ظلم جب حد سے بڑھتاہے تومٹ جاتاہے ،چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کی ہدایت پر طارق محمود نے رجسٹرار سپریم کورٹ کی جانب سے ریکارڈ کیے جانےوالے ایک بیان پڑھ کر سنایا جس میں بتایاگیاتھا کہ کوٹ مومن کے ایک گاﺅں میں تمام لوگ اپناایک ایک گردہ فروخت کرچکے ہیں کسی کو اس کی پرواہ ہی نہیں ہے ،بیان میں مزید بتایا گیا تھا کہ اس انسانی اعضاءخاص طورپر گردوں کی خرید و فروخت میں راولپنڈ ی کاایک کڈنی ہسپتال مبینہ طورپر ملوث ہے جوایک ریٹائرڈ کرنل کی ملکیت ہے۔

مزید :

صفحہ آخر -