پنجاب اسمبلی،اپوزیشن کا لاہور میٹ کمپلیکس کا ٹھیکہ وزیر اعلیٰ کے داماد کو دینے کا الزام

پنجاب اسمبلی،اپوزیشن کا لاہور میٹ کمپلیکس کا ٹھیکہ وزیر اعلیٰ کے داماد کو ...

  

لاہور(این این آئی) پنجاب اسمبلی کے اجلاس میں پیپلز پارٹی کے ڈپٹی پارلیمانی لیڈر شوکت بسراکی طرف سے شاہ پور کانجراں میں ایران کے تعاون سے تعمیر کئے جانے والے لاہور میٹ کمپلیکس کا ٹھیکہ وزیر اعلیٰ شہباز شریف کے داماد کی کمپنی”پولی لائن “کو دینے کی نشاندہی اور شہباز شریف کی بیٹی اور داماد کا نام لینے پر پنجاب اسمبلی کے ایوان میں شدید ہنگامہ ہوا‘دونوں اطراف سے ممبران نے ایک دوسرے کے خلاف زبردست نعرے بازی کی جس سے ایوان کا ماحول کشیدہ ہو گیا ‘وزیرقانون رانا ثنا اللہ خان نے کہا کہ اپوزیشن اس پر تحریک التوائے کار لے آئے اسے آﺅٹ آف ٹرن لیکر اسکا جواب دیں گے۔ گزشتہ روز پنجاب اسمبلی کے اجلاس میں پیپلز پارٹی کے ڈپٹی پارلیمانی لیڈر شوکت بسرا نے نکتہ اعتراض پر ایک اخباری خبر کو بنیاد بناتے ہوئے کہا کہ شاہ پور کانجراں میںایک ارب 50کروڑ کی مالیت سے ایران کے تعاون سے بننے والا ”میٹ ہاو¿س“ منصوبہ جس کا ٹھیکہ دو غیر ملکی کمپنیوں کو دیا گیا لیکن غیر قانونی طریقے سے اسے وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف کے داماد کی کمپنی”پولی لائن “کو دے دیا گیا جس پر ڈاکٹر حامد جلیل نے استعفیٰ دیدیا تھا اور ان کے مستعفی ہونے کے بعد ان کا نام ای سی ایل میں ڈال دیا گیا ۔ انہوں نے کہا کہ چور پنجاب حکومت کی وجہ سے اتنا بڑا منصوبہ داو¿ پر لگ گیا۔ انہوں نے شہباز شریف کی بیٹی اور داماد کا نام لیکر کہا کہ انہوں نے کروڑوں روپے کی کرپشن کی ہے جس کی وجہ سے ڈاکٹر خالد جاوید مستعفی ہوئے۔ایوان میں شہباز شریف کی بیٹی اور داما د کا نام لینے پر حکومتی اور اپوزیشن اراکین بنچوں پر کھڑے ہو گئے اور ایکدوسرے کے خلاف نعرے بازی شروع کر دی۔ وزیر قانون رانا ثناءاللہ خان نے کہا کہ شوکت بسرا کو وزیر اعلیٰ پنجاب کی بیٹی اور داماد کا ایوان میںنام لینے پر شرم آنی چاہیے ، جو الزامات انہوں نے لگائے ہیں یہ تحریری طور پر ایوان میں لے آئیں ہم اسے آو¿ٹ آف ٹرن لیں گے اور اس کا جواب دیں گے ‘صرف میڈیا میں چھپنے کے لئے رولز کی خلاف ورزی نہ کریں۔ رکن اسمبلی علی حیدر نور خان نیازی نے کہا کہ شوکت بسرا جنہیں وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف کا داماد کہہ رہے ہیں اس نام کا انکاکوئی داماد نہیں اور جو شخص غلط نام لیکر وزیر اعلیٰ کے خاندان پر کرپشن کا الزام لگا رہا ہو تو اس الزام کی کیا حیثیت ہو گی۔ اس سے قبل ڈاکٹر سامعہ امجد اور کرنل (ر) شبیر اعوان کے نکتہ اعتراض کا جواب دیتے ہوئے کہا گیا کہ یہ غلط فہمی ہے کہ ڈاکٹرز کا سروس سٹرکچر نہیں اور وہ صرف اسی کا مطالبہ کررہے ہیں ، اگر انہیں اتنی ہی ڈاکٹرز کے ساتھ محبت تھی تو گزشتہ روز اس پر بحث بھی انہی کا ایجنڈا تھا لیکن انہوں نے خود ہی کورم کی نشاندہی کردی اور اجلاس کو ختم کرنا پڑا ۔اگر اپوزیشن اب بھی چاہے تو کوئی ایک دن ینگ ڈاکٹرز کی ہڑتال کے حوالے سے مقرر کرلے حکومت اس کا جواب دے گی۔ صحت سے متعلقہ وقفہ سوالات کے دوران پارلیمانی سیکرٹری برائے صحت ڈاکٹر سعید الٰہی نے اراکین اسمبلی کے سوالات کے جوابات دئیے ۔ ڈاکٹر سعید الٰہی نے سوالات کے جوابات دیتے ہوئے کہا کہ لاہور ہائیکورٹ کا جج بننے کے اہل شخص کو ڈرگز کورٹس میں افسر تعینات کیا جاتا ہے اور جہاں تک جعلی ادویات کا معاملہ ہے تو یہ امریکہ اور چین سمیت پوری دنیا میں ہوتی ہیں ۔ جعلی ادویات کے خاتمے کے لئے وزیر اعلیٰ نے ٹاسک فورس تشکیل دی تھی جس نے بھرپو رکریک ڈاﺅن کیا تھا۔ جبکہ ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی کے قیام کے حوالے سے وفاق کی نمائندگی زیادہ ہے جبکہ صوبوں کا اصرار ہے کہ انہیں زیادہ نمائندگی دی جائے ۔انہوں نے بتایا کہ پنجاب میں چار ڈرگز کورٹس ہیں ‘جعلی اور زائد المیعاد ادویات پکڑے جانے کی صورت میں پنجاب حکومت پراسیکیوشن کرتی ہے اور جرمانے اور سزائیں دینا عدالتوں کا کام ہے ۔اس موقع پر احسان الحق نولاٹیا نے کہا کہ قانون میں کہیں نہیں لکھا کہ ٹاسک فورسز کے ذریعے معاملات چلائے جائینگے اگر حکومت اس طرح معاملات چلانا چاہتی ہے تو پھر قانون میں ترامیم لیکر آئے ۔ جس پر سپیکر رانا محمد اقبال نے وزیر قانون رانا ثنا اللہ کو جواب دینے کے لئے کہا جس پر انہوں نے منتخب نمائندوں کیساتھ ان ورکروں کو بھی آن بورڈ لیا ہے جنہوںنے بے پناہ خدمات سر انجام دی ہوتی ہیں اور منتخب نمائندوںں اوور ورکروں نے ملکر کام کیا ۔ جہاں تک ٹاسک فورسز کی تشکیل کا سوال ہے انہیں آفسز کے علاوہ کسی بھی طرح کی تنخواہ‘ ٹی اے ڈی اے نہیں دیا گیا او راب ان ٹاسک فورسز کو ختم بھی کر دیا گیا ہے۔پنجاب اسمبلی کے احاطے میںمیڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے صوبائی وزیر قانون رانا ثنا اللہ خان نے کہا ہے کہ ملک میں تبدیلی بلدیاتی نہیں عام انتخابات سے آئےگی ‘ اگر عام انتخابات سے قبل بلدیاتی انتخابات کا انعقاد کرا یا گیا تو ان کا عام انتخابات پر اثر انداز ہونا خارج از امکان نہیں ‘ پیپلزپارٹی اپنی لوٹ مار او رکرپشن کو مزید کچھ ماہ اور دن طوالت دینے کے لئے بلدیاتی انتخابات کا ڈھونگ رچانا چا رہی ہے لیکن علی بابا چالیس چوروں کے دن گنے جا چکے ہیںاور عید الفطر کے بعد عام انتخابات کی پیشرفت ہو گی ‘ رحمان ملک آصف علی زرداری کا فرنٹ مین اور کرپشن کے پیسے کا کسٹوڈین ہے اور ملک سے فرار کی تیاریوں میں ہے ‘ لاہو رمیں ہونےوالی دہشتگردی کے واقعہ کی جوائنٹ انوسٹی گیشن ٹیم تحقیقات کر رہی ہے اور اس میں ملوث عناصر کی کافی حد تک شناخت ہو چکی ہے۔ علاوہ ازیں میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے پنجاب اسمبلی میں ڈپٹی اپوزیشن لیڈر شوکت بسرا نے کہاہے کہ وزیر اعلی پنجاب شہباز شریف نے لاہور میٹ کمپلیکس پراجیکٹ کا ٹینڈر اپنے داماد یوسف عزیز اور بیٹی جویریہ شہباز کو دے کر1.5 ارب روپے کرپشن کی نذر کر دیئے ‘لاہور میٹ کمپلیکس میں کرپشن کے باعث ادارے کے سربراہ ڈاکٹر حامد نے استعفیٰ دے دیا ہے‘چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس افتخار محمد چودھری 1.5 ارب روپے کی کرپشن کے حوالے سے کمیشن تشکیل دیں جو اس کی تحقیقات کرے۔ شوکت بسراءنے کہا کہ جس پولی لائن نامی کمپنی کو لاہور میٹ کمپلیکس پراجیکٹ کا ٹینڈر دیا گیا ہے وہ وزیر اعلی پنجاب شہباز شریف کے داماد یوسف عزیز اور ان کی بیٹی جویریہ شہباز کی ہے۔

مزید :

صفحہ آخر -