صوبائی دارالحکومت میں رواں سال 100سے زائد افراد کروڑں روپے تاوان کیلئے اغوا

صوبائی دارالحکومت میں رواں سال 100سے زائد افراد کروڑں روپے تاوان کیلئے اغوا

  

لاہور (رپورٹ: یونس باٹھ) صوبائی دارالحکومت لاہور میں رواں سال کے دوران تین اہم شخصیات سمیت 100 سے زائد افراد کو کروڑوں روپے تاوان کے لئے اغواءکرلیا گیا جبکہ 400 سے زائد خواتین بھی اغواءہونے والوں میں شامل ہیں۔ لاہور پولیس اربوں روپے مراعات لینے کے باوجود ملزمان کو گرفتار کرنے میں ناکام ہے۔ اغواءکے سب سے زیادہ واقعات صدر اور ماڈل ٹاﺅن ڈویژن میں ہوئے۔ واضح رہے لاہور شہر میں جرائم میں پچھلے سال نسبت دوگنا اضافہ ہوگیا ہے۔ 2011ءسال کے دوران پہلے چھ ماہ میں شہر سے 52 افراد کو تاوان کے لئے جبکہ 203 خواتین کو بداخلاقی کی نیت سے اغوا کیا گیا۔ پچھلے سال اغواءکے سب سے زیادہ واقعات کینٹ اور سٹی ڈویژن میں پیش آئے جبکہ رواں سال کے دوران اب تک 100 سے زائد افراد کوملزمان نے تاوان کے لئے اغواءکیا اور متعدد افراد کو تاوان لینے کے باوجود قتل کردیا گیا۔ جبکہ 400 سے زائد خواتین کوبداخلاقی کی نیت سے اغواءکیا گیا۔ رواں سال کے دوران صدڈویژن میں 25 افراد کو تاوان کے لئے اغواءکیا گیا۔ 23 افراد کو ماڈل ٹاﺅن سے تاوان کے لئے اغواءکیا گیا۔ 17 افراد کو سٹی ڈویژن سے تاوان کے لئے اغواءکیا گیا۔ 16 افراد کو کینٹ سے تاوان کے لئے اغوا کیا گیا۔ سول لائن ڈویژن سے 11 جبکہ اقبال ٹاﺅن ڈویژن سے 10 افراد کو تاوان کے لئے اغوا کیا گیا۔ خواتین کے اغواءکے سب سے زیادہ واقعات سٹی ڈویژن میں پیش آئے۔ لاہور پولیس کے سربراہ ایڈیشنل آئی جی محمد اسلم ترین نے مو¿قف اختیار کیا ہے کہ اغواءبرائے تاوان کے سارے واقعات ٹریس ہوگئے ہیں۔ سابق مرحوم گورنر سلمان تاثیر کے اغواءہونے والے بیٹے شہباز تاثیر کے ملزمان بھی ٹریس ہوچکے ہیں۔ جبکہ امریکی مغوی شہری کے ملزمان کا بھی معلوم ہوچکا ہے۔

مزید :

صفحہ آخر -