ملٹری اکاو¿نٹس کو آپریٹو سوسائٹی‘کرپشن اور لاقانونیت کا شاہکار جس کی کوئی کل سیدھی نہیں

ملٹری اکاو¿نٹس کو آپریٹو سوسائٹی‘کرپشن اور لاقانونیت کا شاہکار جس کی کوئی ...

  

لاہور (تحقیقاتی رپورٹ: عامر بٹ) کالج روڈ ٹاﺅن شپ پر 1985 میں قائم کی جانے والی ملٹری اکاﺅنٹس کو آپریٹو ہاﺅسنگ سوسائٹی کرپشن، لاقانونیت، اقربا پروری اور لوٹ مار میںملک کی تمام سوسائٹیوں اور بستیوں کو پیچھے چھوڑ گئی ہے اربوں روپے ذاتی جیبوں میں ڈال کر ہزاروں مکینوں اور ممبران کو اللہ کے رحم کرم پر چھوڑ دیا گیا، پلاٹ کے سائز میں ہیرا پھیری سے نقشے کی منظوری تک ہر کام جعلسازی اور کرپشن کی نظرہوتا رہا مسجد، سکول، کمیونٹی پارک اور قبرستان کی اراضی پر بھی کوٹھیاں تعمیر کردی گئیں اسی بنا پر ایل ڈی اے نے اس سوسائٹی کو غیر قانونی بوگس اور خودساختہ قراردیدیا جبکہ نیب اور اینٹی کرپشن میں بھی کیس زیرسماعت ہیں رجسٹرار کوآپریٹو نے کروڑوں روپے کے غبن کی تصدیق اور رپورٹ سیکرٹری کوآپریٹو کو بھی کی ستم بالائے ستم یہ کہ اتنا کچھ ہونے کے باوجود سوسائٹی یا اس کے ذمہ داران کا کچھ نہیں بنااور کروڑوں کی کرپشن کا سلسلہ اب بھی جاری ہے۔ جبکہ دوسری جانب سوسائٹی ویرانے میں تبدیل ہوچکی ہے اور یہ ایسے اونٹ کی مانند ہے جس کی کوئی کل سیدھی نہیں ”روزنامہ پاکستان“ کی طرف سے کی گئی تحقیقات کے مطابق کالج روڈ ٹاﺅن شپ پر 1985 میں پاکستان ملٹری اکاﺅنٹس کو آپریٹو ہاﺅسنگ سوسائٹی کے نام سے بسانے کا منصوبہ شروع ہوا ہے جو کہ محکمہ کوآپریٹو پنجاب کی رجسٹر سوسائٹی تھی۔ ابتدا میں یہ صرف ملٹری اکاﺅنٹس کے ملازمین کے لیے قائم کی لیکن بعدازاں شرط ختم کر دی گئی اورپلاٹ عام شہریوں کو فروخت کیے گئے جبکہ پی ایم اے کے ملازمین بھی اپنے پلاٹ عام لوگوںکو بیچ گئے اب صورتحال یہ ہے کہ سوسائٹی کرپشن، اقربا پروری اور لاقانونیت کی دلدل میں پھنسی ہوئی ہے۔ سوسائٹی کے بیشتر مکینوں نے انجمن متاثرین جی ایم اے سوسائٹی بنالی ہے جنہوں نے ”پاکستان“ کوبتایا ہے کہ سوسائٹی ممبران کیلئے 8 کنال پر مشتمل زمین قبرستان کیلئے مختص کی گئی تھی جس پر سوسائٹی نے اعتراض لگایا مزید قبرستان کیلئے زمین خریدنے کا مطالبہ کیا گیا ایک بار پھر سوسائٹی ممبران سے قبرستان ی مزید 12 کنال اراضی خریدنے کیلئے 1 کروڑ 20 لاکھ روپے فنڈ اکٹھا کیا گیا مگر آج تک سوسائٹی ہذا میں قبرستان کیلئے کوئی جگہ مختص نہ کی گئی ہے۔ متاثرین کا منہ بند کرنے کیلئے 20 فٹ کاایک گہرا کھڈا کھود کر اسے قبرستان ظاہر کردیا جبکہ یہ صرف ڈرامہ رچایا گیا تھا سڑکوں کی تعمیر پارکوں کی پٹیشن، سوسائٹی کے پلاٹ پانچ مرلہ کو چار مرلہ، دس مرلہ کو آٹھ مرلہ، اور بیس مرلہ کو 16 مرلہ میں تبدیل کردیا اور پلاٹوں کی لوٹ سیل لگائی گئی۔ ای بلاک ایکسٹینشن کا معاہدہ بھی رشوت لیکر ایکسٹینڈ کیا گیا لیکن آج تک پلاٹوں کی ٹرانسفر نہیں ہو رہی، واٹر چارجز، سیوریج چارجز سوسائٹی کے اکاﺅنٹ میں نہیں جاتے رہے بلکہ خود ساختہ لینڈ ڈائریکٹر سمیرالدین بابر اور طارق ضمیر کے ذاتی جیب خرچ میں استحصال ہوتے رہے ہیں۔ سوسائٹی کے ای بلاک میں واقع پارک کو بھی نقشے میں ہی دکھایا گیا ہے، موقع پر قیمتی گھر اور عالیشان کوٹھیاں بھی غیر قانونی طور پر تعمیر کروائی گئی ہیں ایک طرف تو سوسائٹی انتظامیہ نے ایل ڈی اے کے قوانین کی کھلم کھلا خلاف ورزی کرتے ہوئے تاریخی لوٹ مار کی ہے وہاں محکمہ کوآپریٹو کی جانب سے سوسائٹی میںہونے والی بدعنوانیوں اور بے ضابطگیوں کی تفصیلی رپورٹ جب سیکرٹری کوآپریٹو کو بھجوائی گئی تو سوسائٹی میںپلاٹوں کی بندربانٹ کرنے والا مافیا بوکھلاہٹ کا شکار ہوگیا اس کے علاوہ محکمہ اینٹی کرپشن اور نیب نے بھی بے ضابطگیوں کے واضح ثبوت ملنے پر سوسائٹی انتظامیہ کو ایک ریکارڈ سمیت طلب کرلیا ہے جہاں ملٹری اکاﺅنٹس کوآپریٹو سوسائٹی میں بے ضابطگیاں کرنے والے مافیا کی فہرست مرتب کی جارہی ہے۔ ملٹری اکاﺅنٹس کمیٹی کو آپریٹو کے متاثرین نے وزیراعلیٰ پنجاب، چیف جسٹس ہائیکورٹ اور چیف جسٹس پاکستان سے اپیل کی ہے کہ وہ اس سوسائٹی میںہونے والی بے ضابطگیوں اور بدعنوانیوں کی فوری روک تھام کریں اور اندھا دھند بنیادوں پر لوٹ مار کرنے والے مافیا کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائیں۔

مزید :

میٹروپولیٹن 1 -