مسلم لیگ ق نے عوام کوریلیف دینے کیلئے حکومت سے اتحاد کیا،نصیر احمد

مسلم لیگ ق نے عوام کوریلیف دینے کیلئے حکومت سے اتحاد کیا،نصیر احمد

  

لاہور (انٹرویو مظفر ہدایت/تصاویر لیئق احمد) مسلم لیگ (ق) کے ابھرتے ہوئے نوجوان رہنما نصیر احمد نے روزنامہ پاکستان کے فورم میں بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ مسلم لیگ (ق) نے وفاق میں پیپلزپارٹی سے اتحاد وزارتوں کے لالچ میں نہیں بلکہ بجلی کے حالیہ بحران اور عوامی مسائل کے حل کے لئے حکومت کا حصہ بنے ہیں۔ غریب دو وقت کی روٹی کو ترس گیا اور کاروباری طبقہ ملک چھوڑ رہا ہے۔ سیاسی جماعتیں ملک و قوم کو ترقی و خوشحالی کی راہ پر گامزن کرنے کے لئے یکجا ہو جائیں۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ آج ملک کو اس بجلی بحران سے نکالنے کیلئے وفاق اور صوبوں کو مل کر چلنا چاہئے۔ باقی تینوں صوبے وفاقی حکومت سے تعاون کررہے ہیں۔ مگر پنجاب حکومت صرف احتجاج کا راستہ اپنائے ہوئے ہے۔ پنجاب حکومت ایسے ترقیاتی منصوبے بنا رہی ہے جن کا مستقبل قریب میں عوام کی بہتری کیلئے کوئی کردار نظر نہیں آتا۔ آٹھ ارب کی خطیر لاگت سے بننے والی سڑکیں ایک ایسے منصوبے کیلئے توڑ دیں جس سے صرف 500 بسیں چلیں گی اور 25 ارب روپے لاگت آئے گی اگر یہی 25 ارب بجلی گھروں کی بہتری یا نئے پلانٹ کی تنصیب پر لگتے تو پنجاب بجلی میں خود کفیل ہوتا۔ مسلم لیگ ن دراصل ایک ایسی جماعت ہے جو ہمیشہ سے جبر کا نظام مسلط کرتی آئی ہے اور ہمیشہ ملک کی تباہی کا سبب بنی۔ پرویزالٰہی کے دور حکومت میں پنجاب کثیر زر مبادلہ رکھتا تھا آج پنجاب قرض لے کر چل رہا ہے اور شدید مالی بحران کا شکار ہے۔ دوسری طرف کوئی منصوبہ ابھی تک مکمل نہیں ہو پایا۔ رنگ روڈ سمیت فلائی اوور کے منصوبے دراصل پرویزالٰہی کے ہی ہیں جن کا تمام کریڈٹ پنجاب کی موجودہ حکومت لے رہی ہے۔ ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ لاہور سے باہر پنجاب حکومت کو پنجاب نظر نہیں آتا۔ AN113 اور PP129 میں لوگ آج بھی مسلم لیگ ق کے دور کو یاد کرتے ہیں نصیر احمد نے مزید کہا کہ مسلم لیگ ن کو ووٹ صرف مظلومیت کے نام پر ملا مگر آج وہی لوگ پچھتا رہے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ پنجاب حکومت کے جبر کی ایک زندہ مثال ڈاکٹروں کے معاملہ کو جان بوجھ کر لوگوں میں غلط رنگ میں پیش کیا گیا۔ اپنے علاقہ PP129 میں مسلم لیگ (ق) کی شکست کی بڑی وجہ قیادت کی حلقہ کے لوگوں کے مسائل سے ناوقفیت تھی۔ نصیر احمد نے بتایا کہ ہمارے علاقوں میں آج بھی برادری ازم ہے اور لوگ آج بھی بڑے بزرگوں کے کہنے پر ووٹ دیتے ہیں۔ دوسری جانب علاقہ کے لوگ صرف ان کو زیادہ پسند کرتے ہیں جو ان میں سے ہوں میں اپنے علاقہ کے مسائل کو سمجھتا ہوں اور مجبوریوں سے واقف ہوں ،الیکشن جیت کر اپنے علاقہ کے مسائل حل کرواﺅں گا۔

مزید :

میٹروپولیٹن 1 -