کسانوں سے 37روپے لیٹرخریداگیادودھ 85روپے میں بیچاجارہاہے

کسانوں سے 37روپے لیٹرخریداگیادودھ 85روپے میں بیچاجارہاہے

  

لاہور(کامرس رپورٹر)چیئرمین ایگری فورم پاکستان محمد ابراہیم مغل نے کہا ہے کہ کسان سے 27سے37روپے لیٹر خریدا گیا دودھ کریم نکال کر شہروں میں 85روپے لیٹر پیک بیچا جا رہا ہے صارفین کا استحصال کیا جارہا ہے۔ڈیری ڈویلپمنٹ بورڈ بھی کسانوں یا لائیوسٹاک سیکٹر کی مدد کی بجائے اپنی کوٹھیاں بڑی سے بڑی کرنے میں دن رات مصروف ہے۔گزشتہ روز مقامی ہوٹل میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پنجاب حکومت کے کروڑوں روپے دودھ اور گوشت کی پیداوار بڑھانے کےلئے ضائع ہو رہے ہیں عملی طور پر نا تواس سیکٹر میں کوئی جدت آرہی ہے اور نا ہی کسانوں کی کوئی مناسب رہنمائی ہو رہی ہے آج بھی فی جانور دودھ کی اوسط پیداوار 4لیٹرروزانہ ہے جو 10سال پہلے تھی۔انہوں نے کہا کہ ملک میں 35ارب لیٹر سالانہ کسانوں نے دودھ تو پیدا کردیا مگر اس میں سے 2ارب لیٹر دودھ بھی مناسب پراسس نہیں ہو پا رہا دودھ پیک کرنے والی کمپنیاں ایک طرف کسان کو لوٹ رہی ہیں تو دوسری طرف لسی نما کریم نکلا دودھ 85روپے لیٹر ڈبہ بیچ کر اپنے منافع جات 100سے 200فیصد بنا رہی ہیں اور یوں صارف کا گلا کاٹ رہی ہیں۔حکومت خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے اور حکومتی افسران کمپنیوں کے حصہ داران بن گئے عوام کا کوئی پرسان حال نہیں ہے۔انہوں نے کہا کہ آج بھی نیلی راوی کی بھینس اور ساہیوال نسل کی گائے کی مناسب افزائش نسل کرکے ملک میں 50ارب لیٹر دودھ پیدا کرکے 150ارب کا دودھ برآمد کیا جاسکتا ہے۔چیئرمین ایگری فوری نے مطالبہ کیا کہ حکومت خشک دودھ کے نام پر درآمد ہونے والا سفید پاﺅڈر پر فوری پابندی لگائے جو صارفین کی صحت تباہ کر رہا ہے

مزید :

کامرس -