حنا کامنہ،ہیلری کے"الفاظ"۔۔۔قائمہ کمیٹی راضی

حنا کامنہ،ہیلری کے"الفاظ"۔۔۔قائمہ کمیٹی راضی
حنا کامنہ،ہیلری کے

  

اسلا م آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)وزیر خارجہ حنا ربانی کھر کا کہنا ہے کہ امریکہ کی جانب سے سلالہ حملے پر لفظ ''سوری'' کافی ہے اسی پر اکتفا کیا جائے۔سینٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خارجہ امور کا اجلاس پارلیمنٹ ہاﺅس میں چیئرمین حاجی عدیل کے زیر صدارت ہوا جس میں نیٹو سپلائی کے رابطوں پاکستان اور برطانیہ کے تعلقات کی موجودہ صورتحال سمیت دیگر معاملات پر غور کیا گیا۔ اجلاس ختم ہونے کے بعد حاجی عدیل نے صحافیوں کو بتایا کہ کمیٹی کے تمام ارکان نے لفظ ” سوری “ پر وزیر خارجہ کو تنقید کا نشانہ بنایا اور وزیر خارجہ نے کہا کہ لفظ سوری کافی ہے اور اسی پر اکتفا کیا جائے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ کمیٹی کا یہ اتفاق رائے تھا کہ حکومت نے نیٹو سپلائی کی بحالی میں خوا مخواہ تاخیر کی اور وقت ضائع کیا اگر وقت ضائع نہ کیا جاتا تو ملک کیلئے زیادہ فوائد سمیٹے جاسکتے تھے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت پر ڈاکٹر شکیل آفریدی کے معاملے پر پریشر ہے تاہم نیٹو سپلائی کی بحالی کی وجہ سے یورپی یونین اور برطانیہ کے ساتھ پاکستان کے تعلقات اور امریکہ میں نیٹو سپلائی کی وجہ سے خراب ہونے والی تین سو کلومیٹر طویل پاکستانی سڑکوں کی مرمت کرنے کی یقین دہانی کروائی ہے اور اس سلسلے میں مفاہمت کی یادداشت پر ستمبر کے مہینے میں دستخط کئے جائینگے۔ انہوں نے مزید کہا کہ نیٹو سپلائی کے بحالی معاملے پر مفاہمت کی دو یادداشتوں پر جلد دستخط کئے جائینگے۔ علاوہ ازیں کولیشن سپورٹ فنڈ کی مد میں پاکستان کو واجب الادا ایک ارب دس کروڑ ڈالر دینے کی یقین دہانی کروائی گئی۔ بعد ازاں سینٹ کی قائمہ کمیٹی برائے امور خارجہ کے اجلاس کے بعد پارلیمنٹ ہاﺅس میں صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ امریکہ کے ساتھ شروع ہونے والے سٹرٹیجک ڈائیلاگ کیلئے ابھی حتمی تاریخوں کا فیصلہ نہیں کیا گیا اور نہ ہی یہ فیصلہ ہوا ہے کہ اس میں پاکستان کی نمائندگی کون کون کرینگے تاہم میں بھی شرکت کیلئے چلی جاﺅں گی ۔ ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ کابینہ کی دفاعی کمیٹی نے نیٹو سپلائی لے جانے والے کنٹینرز سے ٹرانزٹ فیس چارج نہ کرنے کا فیصلہ کیا تھا تاہم فی کنٹینرز 250 ڈالرز بطور آپریشنل فیس چارج کئے جائینگے۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ کے ساتھ سٹرٹیجک تعلقات کو بہتر بنانے کیلئے کوششیں جاری ہیں۔ پاکستان افغانستان میں کوئی کردار نہیں چاہتا بلکہ ایک پرامن افغانستان پاکستان کے مفاد میں ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کی خارجہ پالیسی کا مرکز افغانستان میں امن ہے اس سے پاکستان کو بہت زیادہ فائدہ پہنچ سکتے ہیں۔

مزید :

ڈیلی بائیٹس -