عید کارڈنہیں،اب ای کارڈ

عید کارڈنہیں،اب ای کارڈ
عید کارڈنہیں،اب ای کارڈ

  

ابھی کچھ سال پہلے کی بات ہے کہ دور سے سائیکل پر آتے پوسٹ مین کو دیکھ کر خوشی کی ایک لہر دوڑ جاتی تھی،شائد کسی پیارے کی چٹھی لایا ہو۔بک پوسٹ یا منی آرڈرکی اپنی مسرت ہوتی اورعید سے پہلے عید کارڈز کی آمد کا سلسلہ شروع ہوجاتا ۔خاکی وردی میں ملبوس وہ ڈاک بابوکہاں گیا؟ ٹیکنالوجی نے چندسالوں میں سب کچھ بدل کر رکھ دیا ،مواصلات سے لے کر انٹرٹینمنٹ تک سب آلات اور انداز بد ل گئے ہیں۔جدیدٹیکنالوجی نے ہماری زندگی میں کئی نئے رنگ بھر دئےے ہیں لیکن کچھ رنگ پھیکے بھی کردیئے ہیں ۔آسائشیں بڑھ گئی ہیں اور مسائل بھی،فاصلے سمٹ گئے ہیں لیکن دوریاں بڑھ گئی ہیں ۔

گزشتہ دنوں بھارت نے ٹیلی گرام سروس بند کرنے کا باقاعدہ اعلان کیا،پاکستان میں یہ سروس سات سال پہلے خاموشی سے ختم کردی گئی تھی ۔ سب سے پہلا ٹیلی گرام اس کے موجد سیموئیل مورس نے 24مئی 1844میں واشنگٹن سے بالٹی مور بھیجا تھااور غالباََ آخری ٹیلی گرام 15جولائی 2013کو بھارت سے گیا ۔ٹیلی گرام یا تار پیغام رسانی کا تیز ترین ذریعہ تھا جو ٹیلی گراف دفتر جاکر لکھوایا جاتا تھا ۔یہ بہت مہنگا ذریعہ تھا جس میں فی لفظ کے حساب سے پیسے چارج کئے جاتے تھے ۔لوگ مختصر ترین الفاظ میں اپنا پیغام لکھتے ،چار پانچ لفظوں پر مشتمل ٹیلی گرام مطلوبہ مقام پر پہنچتا تو اسے لے کر ایک اہلکارخصوصی طور پرجاتا تھا۔ لوگ ٹیلی گرام والے بابو کو دیکھ کر ہی پریشان ہوجاتے تھے کہ کوئی خیر کی خبر نہیںکیونکہ اکثر تار انتقال کی خبرہی دیتے تھے ۔ ٹیکنالوجی کاتیز رفتار بہاﺅڈاک بابوکو بھی بہا کرلے گیا ہے، اب کوئی ڈاکئے کا انتظار نہیں کرتا۔نہ کوئی خط ،نہ منی آرڈر اور نہ عید کارڈز۔ عید کارڈز کی جگہ اب ای کارڈز نے لے لی ہے ،یا پھر موبائل پر میسج کے ذریعے اپنے جذبات کا اظہا ر کیا جاتا ہے۔

 پچیس سال پہلے دوسرے شہر فون کرنے کے لئے ایکسچینج پرکال بک کرانا پڑتی تھی جو بعض اوقات گھنٹوں بعد ملتی۔پھر ڈائریکٹ ڈائلنگ کا زمانہ آیا تو دوسرے شہرمیں کال تو فوری مل جاتی مگر بہت مہنگی ہوتی لاہور سے کراچی کی کال پینتیس روپے فی منٹ ،لاہور سے اسلام آباد بیس روپے فی منٹ ۔اس زمانے میں محکمہ ٹیلی فون کے لائن مین کے بڑے ٹھاٹ تھے،لوگ اس کے ناز برداری کرتے۔فون خراب ہوتا تولائن مین کی منت سماجت کرتے ، مٹھی گرم کرتے تو ٹھیک ہوجاتاتھا۔لائن مین جس سے ناراض ہوتااس کا فون خراب کردیتااور اسے خوب خجل کرتا،آج لائن مین بادشاہ خود خجل ہورہا ہے،موبائل کی بھرمار نے اس کی بادشاہی خاک میں ملا دی ہے ۔ اب صبح سڑک پر جھاڑو دیتاخاکروب مزے سے موبائل پر گفتگو کررہا ہوتا ہے اور گدھا گاڑی پر بیٹھا گاڑی بان بھی اپنی اگلی اپوائنمنٹ طے کررہا ہوتا ہے۔

ٹیکنالوجی نے ہر شعبے کے ماحول اور انداز کو یکسر تبدیل کردیا ہے۔ اخبارات کے دفاتر میں کتابت کاشعبہ بڑا اہم ہوتا تھا جہاںدرجنوں کاتب اخبار کی کتابت کرتے ،زیادہ مشاق خوش نویس خوبصورت انداز میںسرخیاں لکھنے پر مامور تھے ۔اگر چہ 1936میں کمپوٹرابتدائی شکل میں جلوہ گر ہوا لیکنترقی یافتہ ممالک میںاخبار کی صنعت میں اس کا استعمال 60کی دہائی میں شروع ہوا، 80کی دہائی میں زیادہ تر اخبارات ڈیجیٹل سسٹم پر آگئے تھے۔انہی سالوں میںیہ پاکستان کی اخباری صنعت میں واردہوا جس سے خوش نویس بے روزگار ہونا شروع ہوگئے۔ اخبار کے صفحات کی پیج میکنگ بھی کمپیوٹر پر ہونے لگی تو کاپی پیسٹر بھی فارغ ہو گئے ۔

ٹیکنالوجی کی ترقی سے اخبارات کی سرکولیشن میں بھی خاطر خواہ کمی آئی ہے ۔ امریکہ کے مشہور ہفت روزہ ”نیوزویک ،،نے اسّی سال کی مسلسل اشاعت کے بعدپچھلے سال دسمبر میں اپنا آخری پرنٹ ایڈیشن نکالا اور خودکو انٹرنیٹ ایڈیشن تک محدود کرلیا ۔اسی طرح دیگر رسالوں اور اخبارات کی سرکولیشن میں کمی آئی ۔ اب سارے اخبارات ای نیوزپیپر ایڈیشن دیتے ہیں۔لوگ صبح سویرے سارے اخبارت اپنے لیپ ٹاپ ،ٹیبلٹ یاآئی فون پر ملاحظہ کرلیتے ہیںاور چاہیں تو پسند کامواد ڈاﺅن لو ڈبھی کرلیں۔

 بیس سال پہلے شو رومز کے ڈسپلے میںٹائپ رائٹر،وی سی آر اور اس پر چلنے والی وی ایچ ایس کیسٹ ٹیپ،فلم ولاکیمرہ،ٹیپ ریکارڈراور کیسٹیں سجے ہوتے تھے ،اب ان کے ڈھیر کباڑئیے کی دکان پر نظرآتے ہیں،جن کے ساتھ ہی مانیٹرزاور ڈیسک ٹاپ کمپیوٹرز بھی کچرا بنے پڑے ہوتے ہیں ۔پہلے جن چیزوں سے کمرہ بھر جاتا تھا اب ایک چھوٹے سے موبائل میں ہاتھ کی ہتھیلی پرآجاتی ہیں،میوزک ،ویڈیوز،کیلکولیٹر،الارم ،گھڑی ،کیلنڈر،پلاننگ ڈائری،کیمرہ،ٹی وی ،کمپیوٹر،انٹرنیٹ اور ساتھ ہی دھنیں بجاتا فون۔سی ڈیزاور ڈی وی ڈیزکا دور بھی ماضی کے دھندلکوںمیں اترا چاہتا ہے۔کچھ سال پہلے تک فلم والے کیمرے سے تصویریں اتاری جاتی تھیں،تصویر اتار کر اس کو ڈویلپنگ پرنٹنگ کے لئے دیا جاتا،واپس آتیں تو پتہ چلتا کیسا رزلٹ ہے ۔ڈیجیٹل کیمرے میں دھڑا دھڑا تصویریں بنتی ہیں جو اچھی نہ آئیں ڈیلیٹ کرتے جائیں،کمپیوٹر میں محفوظ کریں چاہیں تو فوٹو شاپ پر انہیں مزید نکھارلیں،چہرے کی کمی خامی کو ٹچنگ کرکے دور کرلیں۔چار سال پہلے مشہور زمانہ کوڈک کمپنی نے اپنا آخری فلم رول بنایا۔

کیسی عجیب بات ہے کہ ہم اس ساری ٹیکنالوجی کے صرف خریدار اورصارف ہیں،ان کے ایجاد کرنے ،بہتر بنانے یا ترقی دینے میں ہمارا کوئی کردار نہیں ۔گزشتہ سال ملک میں دو ارب ڈالر کی الیکٹرونکس کی اشیاءامپورٹ ہوئیں ،ان میں پونے سولہ ارب روپے کے صرف موبائل سیٹ تھے ۔ٹیکنالوجی نے آسائشیں تو بہت پیدا کی ہیں لیکن ہمارے سماجی اور اخلاقی نظام کو بھی متاثر کر رہی ہے ۔میں اپنے دوستوں کے ساتھ ایک ریسٹورنٹ میں بیٹھا تھا کہ آٹھ دس ٹین ایج دوستوں کی ایک ٹولی برابر والی میز پر آ بیٹھی، نوجوانوں کے ہاتھ میں جدید موبائل تھے ۔منظر بڑ دلچسپ تھا کہ سارے دوست گپ شپ میں مگن تھے لیکن آپس میں نہیں بلکہ اپنے موبائلز کے دوستوں کے ساتھ ۔ٹیکنالوجی نے دور والوں کو نزدیک اور پاس والوں کو دور کردیا ہے۔

ٹیکنالوجی سے متعلق ہمارے ہاں دو طرح کے روےے رہے ہیں ۔ایک طبقہ ہر نئی چیز پر والہانہ اندازمیںلپکتا ہے اور جھٹ سے اسے زندگی کا حصہ بنا لیتا ہے ، جدید ٹیکنالوجی اسے سماجی برتری کا احساس دیتی ہے۔دوسرا ،روایتیمذہبی طبقہ ہے جو ہر جدید ٹیکنالوجی کی مزاحمت کرتا ہے،لاﺅڈ سپیکر ،ریڈیو،ٹی وی ،وی سی آر سے لے کرآج کے سیٹلائٹ ٹی وی تک اس نے ابتداءمیں بھر پور مخالفت کی لیکن بعد میں ان کو بے تحاشہ استعمال کیا۔لاﺅڈ سپیکر کے اذیت ناک استعمال سے لے کر مذہبی سیٹلائٹ ٹی وی چینلزکی بھرمار تک،یہ طبقہ بھی کسی سے پیچھے نہیں ۔

جدید ٹیکنالوجی کے آلات بدلتے رہیں گے لیکن محبت میں گندھی روایتیںکمزور نہیں ہونی چاہئیں، محبتیں اورقربتیں کم نہیں ہونی چاہئیں۔بس اتنا خیال رہے کہ رشتوں کی مٹھاس پھیکی نہ پڑے، ٹیکنالوجی ہمارے اخلاقی وجود میں چھید نہ کرے اورہماری سماجی اقدارمیں دراڑیں نہ ڈالے ۔عید کارڈز بھیجیں یا ای کارڈز،دل محبت سے بھرے رہیں،مہر ووفاکے چشمے جاری رہیں۔  ٭

مزید : کالم