وزیراعظم کے صوابدیدی فنڈز سے متعلق درخواست گزار کے دلائل مکمل ، اگر بادشاہ سیب توڑے تو لشکری ساراباغ ہی اجاڑدیتے ہیں : سپریم کورٹ

وزیراعظم کے صوابدیدی فنڈز سے متعلق درخواست گزار کے دلائل مکمل ، اگر بادشاہ ...

سابق دورحکومت میں بھینسوں کے سوئمنگ پول بنانے کیلئے بھی فنڈز جاری ہوئے

وزیراعظم کے صوابدیدی فنڈز سے متعلق درخواست گزار کے دلائل مکمل ، اگر بادشاہ سیب توڑے تو لشکری ساراباغ ہی اجاڑدیتے ہیں : سپریم کورٹ

  

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) وزیراعظم کے صوابدیدی فنڈز سے متعلق کیس میں درخواست گزار کے دلائل مکمل اور سابق وزیراعظم راجہ پرویز اشرف کے وکیل کے دلائل جاری ہیں ۔ دوران سماعت سپریم کورٹ نے اپنے ریمارکس میں کہاکہ قانون سازوں کوفنڈز دینے سے مسائل پیدا ہوں گے ، حکومت اٹھارہویں ترمیم کو بیک رول کرنے کی کوشش کررہی ہے ، این ایف سی ایوارڈ کے تحت تمام فنڈز صوبوں کو جائیں گے ، وفاق صرف محصولات اکٹھے کرسکتاہے ۔ عدالت نے کہاکہ سابق وزیراعظم نے اپنے تعلقات والے لوگوں میں چھ ارب روپے تقسیم کیے ،اگربادشاہ سیب توڑرہاہے تو اُس کے لشکری پورا باغ ہی اجاڑ دیں گے۔ایک موقع پر عدالت کو بتایاگیاکہ راجہ پرویز اشرف نے بھینسوں کے سوئمنگ پول کیلئے بھی 48لاکھ روپے جاری کیے ۔چیف جسٹس کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بنچ نے وزیراعظم کے صوابدیدی فنڈزکے خلاف دائر درخواست کی سماعت کی ۔ دوران سماعت درخواست گزار افتخار گیلانی نے بتایاکہ لوگ صدر اور وزیراعظم کو سلام کرنے جاتے ہیں تو لفافہ ملتاہے ، آئین ایسے فنڈز کی اجازت نہیں دیتا،بجٹ میں منظور نہ ہونیوالی سکیموں کیلئے پیسے نہیں دیے جاسکتے ۔چیف جسٹس نے کہاکہ اٹھارہویں ترمیم کے بعدبہت سے شعبے صوبوں کے پاس چلے گئے ،قانون سازوں کو فنڈز دینے سے مسائل پیدا ہوں گے۔جسٹس جواد نے کہاکہ جو چیزیں صوبوں کو دی گئی تھی ، واپس لی جارہی ہیں ،قومی خزانے کی بندر بانٹ کیخلاف کھڑا ہوناہوگا۔ درخواست گزار نے بتایاکہ بلوچستان کے وزیراعلیٰ اور گورنرکے لیے خصوصی فنڈ رکھاجاتاہے ،وزیراعظم اراکین پارلیمنٹ اور دیگر میں پیسے تقسیم نہیں کرسکتے ۔چیف جسٹس نے کہاکہ فنڈز کا استعمال نمائندوںکا نہیں انتظامیہ کا اختیار ہے ،قدرتی آفات آئیں تو معاوضوں کی ادائیگی کیلئے صوابدیدی فنڈ استعمال ہوگا۔جسٹس جواد ایس خواجہ نے اپنے ریمارکس میں کہاکہ حکومت فنڈز خود استعمال کرکے اٹھارہویں ترمیم کو رول بیک کررہی ہے ،وفاقی حکومت صرف محصولات اکٹھے کرسکتے ہیں ، این ایف سی ایوارڈ کے تحت تمام فنڈز صوبوں کو جائیں گے۔چیف جسٹس نے کاہکہ تمام ترقیاتی فنڈزعوام تک نچلی سطح پر منتقل ہونے چاہیں۔درخواست گزار نے بتایاکہ سابق وزیراعظم نے فوزیہ بہرام کو بھینسوں کے سوئمنگ پول کیلئے اڑتالیس لاکھ روپے کے فنڈز جاری کیے گئے جس پر بنچ نے حیرت کا اظہار کرتے ہوئے استفسار کیاکہ کیابھینس بھی تیراکی کرتی ہے؟ جسٹس جواد نے کہاکہ ہم نے بہت سے فیصلوں میں شفافیت کو لازمی قراردیااور درخواست گزار نے اپنے دلائل مکمل کرلیے ۔ راجہ پرویز اشرف کے وکیل وسیم سجاد نے اپنے دلائل کا آغاز کردیا اور موقف اپنایاکہ ترقیاتی فنڈز کی رقم کسی ایک شخص کو نہیں دی جاتی،جائزے کیلئے آڈیٹرجنرل اور پبلک اکاﺅنٹ کمیٹی موجود ہے۔چیف جسٹس نے کہاکہ آئین میں کہیں نہیں کہ وزیراعظم کو صوابدیدی فنڈز کا اختیار دیاجاسکتاہے ، سابق وزیراعظم نے اسمبلیوں کی مدت ختم ہونے کے قریب کیوں فنڈز جاری کیے ؟وزیراعظم ترقیاتی فنڈز اپنی مرضی سے تقسیم نہیں کرسکتا،ترقیاتی فنڈز تعلقات کی بنیاد پر دیئے جاتے ہیں جوفنڈ جاری کیے اُن کی مانیٹرنگ کیسے ہوگی۔جسٹس جواد ایس خواجہ نے کہاکہ پی اے سی کے فیصلوں پر تو شاید جوڈیشل نظرثانی بھی نہیں ہوسکتی ،فنڈز کے استعمال میں تعلیم پر کم توجہ دی جاتی ہے۔ چیف جسٹس نے کہاکہ غریبوں کا پیسہ امیروں کودینے کا رویہ اپنایاگیا،ساڑھے چھ ارب روپے کی رقم الیکشن کے قریب غیرمنتخب من پسند افراد کو دی گئی ،آنیوالاوزیراعظم بارہ ارب دے گا، کیسے روکیں گے؟ عوام کا پیسہ ہے ، ضائع نہ کیاجائے۔اُنہوںنے کہاکہ وزیراعظم کو اس لیے نہیں بٹھایاجاتاکہ وہ فنڈز کا بے دریغ استعمال کرے ، وزیراعظم کو پتہ تھاکہ اُن کی مدت ختم ہورہی ہے۔ وسیم سجاد نے کہاکہ جن اخراجات کی منظوری پارلیمنٹ دیتی ہے ، وہ آئینی و قانونی ہیں ، آرٹیکل 84میں میکنزم دیاگیاہے ۔جسٹس جواد ایس خواجہ نے کہاکہ اگر بادشاہ ایک سیب لے گا،تواس کے لشکری ساراباغ اجاڑدیں گے ۔چیف جسٹس نے کہاکہ بادی النظرمیں وزیراعظم شفاف اندازمیں مانیٹرنگ نہیں کرسکتے ،پارلیمنٹ کے اختیار سے متعلق کوئی جھگڑا نہیں،ساڑھے چھ ارب لینے والے اراکین پارلیمنٹ بھی نہیں تھے،سابق وزیراعظم نے ایچ ای سی اور لواری ٹنل کے فنڈ من پسند افراد کودیے اور مزید سماعت پیر22جولائی تک ملتوی کردی ۔

مزید : اسلام آباد /اہم خبریں