پاکستانی خارجہ پالیسی

پاکستانی خارجہ پالیسی
پاکستانی خارجہ پالیسی

  

مودی سرکار بزسراقتداد آتے ہی پاکستان کے خلاف جارحانہ پالیسی اختیار کئے ہوئے تھی چھ ماہ قبل بھارتی وزرا کے پاکستان کے خلاف شدید بیانات کی بوچھاڑ شروع ہوگئی تھی ناصرف بیانات ،بلکہ ورکنگ باونڈی پربھارتی بلااشتعال فائرنگ کا سلسلہ بھی گاہے بگاہے ،جاری رہا اور تواور بنگلہ دیش میں بھارتی وزراعظم کا مکتی باہنی کی بھارتی معاونت کو فخر سے تسلیم کرنانہ صرف ایک شرمناک ،بلکہ بین الاقوامی خارجہ پالیسی کے اصولوں کے خلاف عمل تھا ۔دوسری جانب پاکستان نے مدبرانہ انداز سے ہربھارتی حملے کاجواب دیا اور معاملات کو اس انداز سے نمٹایاکہ خود بھارتی وزیراعظم نریند مودی نے پاکستانی وزیراعظم کو ٹیلی فون کیا،جس میں ان کی جانب سے درخواست کی گئی دونوں ممالک کو چاہئے کہ ایک دوسرے کے خلاف بیان بازی سے پرہیز کریں صرف یہی نہیں، بلکہ اوفامیں نریند رمودی نے خود پاکستانی وزیراعظم سے درخواست کی کہ وہ نواز شریف سے ملاقات کے خواہاں ہیں جس کا جواب پاکستان نے مثبت انداز سے دیا۔ یہ ایک خوش آئند فیصلہ تھا دراصل یہ پاکستانی خارجہ پالیسی کی کامیابی ہی تو ہے کہ جس نے بھارت کو اس امر پر مجبور کیا کہ تعلقات کو معمول پر لایا جائے ۔

مودی نواز ملاقات میں خطے کو دہشت گردی سے پاک کرنے کی مشترکہ کوششوں پر اتفاق کیا گیا۔ ملاقات کے بعد مشترکہ اعلامیہ جاری کیاگیا جس کے مطابق دونوں ملکوں کے وزرائے اعظم نے دہشتگردی کے مسئلے پر متعلقہ حکام کے درمیان بات چیت کے لئے نئی دہلی میں ملاقات پر اتفاق کیا۔ اس کے علاوہ بھارتی بارڈر فورسز اور پاکستانی رینجر ز کے ڈائریکٹر جنرل اور دونوں ملکوں کے ڈی جی ملٹری آپریشنز کے درمیان ملاقات ،گرفتار ماہی گیروں کی 15 دنوں میں رہائی مذہبی مقامات کی زیارت کیلئے آنے والے لوگوں کو سرحد پر سہولتوں کی فراہمی اور ممبئی حملہ کیس کی تحقیقات دوطرفہ بنیادوں پر تعاون پر بھی اتفاق پایا گیا۔ اس کے علاوہ نواز شریف نے مودی کو پاکستان آنے کی دعوت دی، لہٰذا اب نریند مودی آئندہ سال سارک کانفرنس میں شرکت کے لئے پاکستان آئیں گے اوفا میں دونوں وزرائے اعظم کی ممکنہ ملاقات پر بے یقینی کے بادل منڈ لارہے تھے ،لیکن بھار ت کی جانب سے ازخود اس خواہش کا اظہار کیاگیا کہ مودی پاکستان کے وزیراعظم کے ملاقات کے خواہش مند ہیں، جس کا پاکستان کی جانب سے مثبت جواب دیاگیا ۔ پاکستانی وزیراعظم سے ملاقات اور خطے میں دہشت گردی کے خلاف مشترکہ کا وشیں شروع کرنے کی خواہش رکھنے والا یہ وہی بھارت ہے، جس نے ہر قدم پر پاکستان کی مخالفت میں کوئی کسر اٹھانہیں رکھی ۔

پاکستانی عدالت کی جانب سے لکھوی کور ہا کرنے کے فیصلے پر بھار ت نے طوفان کھڑاکردیا تھا۔ لکھوی رہائی کے معاملے کو لے کر بھارت نے سلامتی کونسل میں قرادارپیش کی ،جس میں پاکستان کے خلاف پابندیاں عائد کرنے پر زور دیاگیا،لیکن پاکستان کے عظیم دوست چین نے اس قرادار کو ویٹو کرکے پاکستان کو بھارتی منفی عزائم سے محفوظ کیا۔اسی طرح پاک چین اقتصادی راہداری کے خلاف بھی بھارتی سازشیں مسلسل جاری ہیں بین الاقوامی سطح پر بھی بھارت اس راہداری کے خلاف واویلا مچاتارہاہے، مگر چین سمیت کئی ممالک نے اس موقف پر کان بھی نہ دھرا، جبکہ دوسری جانب پاکستان دہشت گردی کے خلاف عالمی جنگ میں برسر پیکار ہے اور ایک زبردست آپریشن کے ذریعے دہشت گردوں کو بڑی حد تک شکست دینے کے موقف کو اس وقت پوری دنیا کے ممالک کی تائید حاصل ہے۔ اس کے علاوہ حال ہی میں شنگھائی تعاون کی تنظیم میں پاکستان کو مستقل رکینت حاصل ہوگئی ہے جوکہ پاکستان اور خطے کی خوشحالی کے لئے ایک خوش آئند عمل ہے ۔

مزید :

کالم -