کیا یہ مسلمان آپ کو یاد ہے؟ اسے انتہا پسند ہندوﺅں نے بیف کھانے کے شک میں مار ڈالا تھا، اب اس کا خاندان کہاں ہے اور ان کے ساتھ کیا کیا جارہا ہے؟ جان کر آپ کے غصے کی بھی انتہا نہ رہے گی

کیا یہ مسلمان آپ کو یاد ہے؟ اسے انتہا پسند ہندوﺅں نے بیف کھانے کے شک میں مار ...
کیا یہ مسلمان آپ کو یاد ہے؟ اسے انتہا پسند ہندوﺅں نے بیف کھانے کے شک میں مار ڈالا تھا، اب اس کا خاندان کہاں ہے اور ان کے ساتھ کیا کیا جارہا ہے؟ جان کر آپ کے غصے کی بھی انتہا نہ رہے گی

  

نئی دلی (نیوز ڈیسک) کسی بے گناہ کا ناحق خون بہایا جائے تو عقل یہی کہتی ہے اور دنیا کا دستور بھی یہی ہے کہ ظالموں کا بے رحمی سے محاسبہ کیا جائے، لیکن اگر بدقسمتی سے یہ ناحق خون کسی بھارتی مسلمان کا ہو تو مجرم بھی وہی ٹھہرے گا، بلکہ اس کے خاندان کے لئے بھی کڑی سزا سے بچنا محال ہو گا۔

گزشتہ سال ریاست اترپردیش میں جنونی ہندوﺅں کے ایک ہجوم نے 50 سالہ مسلمان شخص محمد اخلاق کو اس شبہے میں بہیمانہ تشدد کر کے مار ڈالا کہ اس نے گائے کا گوشت کھایا تھا۔ اس واقعے نے دنیا کو ہلا کر رکھ دیا اور بھارتی حکومت نے اس واقعہ پر انتہائی تشویش کا بھی خوب ڈرامہ کیا اور مجرموں کے خلاف سخت قانونی کارروائی کا وعدہ کیا گیا۔ مگر اب انکشاف ہوا ہے کہ دراصل تحقیقات ظلم کانشانہ بننے والے محمد اخلاق کے گھر والوں کے خلاف کی جارہی ہیں کہ کہیں انہوں نے واقعی گائے کا گوشت تو نہیں کھایا تھا۔

والدین کی پسند کے لڑکے سے شادی سے انکار پر بھائی نے نوجوان لڑکی کے گلے میں گولی ماردی، لیکن اس کی موت نہیں ہوئی بلکہ۔۔۔ اس کے بعد کیا ہوا؟ جان کر آپ بھی خدا کی قدرت پر دنگ رہ جائیں گے

شاید آپ اس بات پر یقین نہ کرپائیں لیکن شرمناک سچ یہی ہے کہ جمعرات کے روز ایک بھارتی عدالت نے فیصلہ سنادیا کہ دستیاب شواہد کی بناءپر مقتول محمد اخلاق کی اہلیہ اور بچوں کے خلاف تحقیقات کا آغاز کیا جا سکتا ہے تاکہ معلوم ہوسکے کہ انہوں نے گائے ذبح کی یا نہیں۔ اب صورتحال یہ ہے کہ بھارتی پولیس وحشی ہجوم کے ہاتھوں قتل ہونے والے محمد اخلاق کے گھر والوں کو گائے ذبح کرنے کا مجرم قرار دینے کے لئے تحقیقات کررہی ہے، جس کے نتیجے میں انہیں سات سال قید اور 10 ہزار بھارتی روپے (تقریباً 15 ہزار پاکستانی روپے) جرمانے کی سزا ہوسکتی ہے۔

مزید شرم کی بات یہ ہے کہ ساری دنیا کے سامنے محمد اخلاق کے قتل کو بدقسمتی قرار دینے والے بھارتی وزیراعظم بھی ان کے مظلوم خاندان کے خلاف ہونے والی قانونی کاروائی پر خاموشی سے تماشہ دیکھ رہے ہیں۔

مزید : بین الاقوامی