مہاجرین سمندر سے زیادہ صحرا میں مر رہے ہیں،آئی ایم او

مہاجرین سمندر سے زیادہ صحرا میں مر رہے ہیں،آئی ایم او

کوپن ہیگن(این این آئی)مہاجرین کے امور پر کام کرنے والی ڈنمارک کی کونسل برائے مہاجرین سے منسلک ایک تنظیم انٹرنیشنل آرگنائزیشن فار مائیگریشن (آئی او ایم) نے کہاہے کہ اس بات کا قوی امکان موجود ہے کہ افریقہ سے یورپ پہنچنے کے خواہش مند مہاجرین بحریہ روم میں ڈوب کر ہلاک ہونے سے زیادہ صحرائے صحارا میں جان سے ہاتھ دھو رہے ہیں۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق ایک بیان میں ڈنمارک کی کونسل برائے مہاجرین سے منسلک ایک تنظیم نے کہا کہ اسے ایسے شواہد ملے ہیں کہ سمندر کے ذریعے افریقہ سے یورپ پہنچنا صحرا کو عبور کر کے ایک براعظم سے دوسرے تک پہنچنے کے مقابلے میں کم خطرناک ہے۔ صحرا میں سفر کرنے والوں کا نام و نشان تک مٹ جاتا ہے۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مہاجرین اور پناہ کے متلاشی قرن افریقہ سے لیبیا، مصر اور پھر یورپ کا رخ کرتے ہیں۔ یہ بات طے ہے کہ صحرائے صحارا میں سفر کے دوران ہلاک ہو جانے والوں کی تعداد ان سے زیادہ ہے جو بحیرہ روم کے پانیوں میں ڈوب کر ہلاک ہوئے ہیں۔

تاہم افسوس کی بات ہے کہ اس حوالے سے کوئی ٹھوس اعداد و شمار موجود نہیں ہیں۔اس تنظیم کے مطابق اس نے 2014سے لے کر2016تک ایک ہزار تین سو تارکین وطن کے انٹرویو کیے، جن سے معلوم ہوا کہ لیبیا، سوڈان اور مصر سے صحرائی سفر کے دوران اس عرصے میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد ایک ہزار دو سو پینتالیس کے لگ بھگ تھی۔رپورٹ میں مزید کہا گیا ہیکہ انتہائی کم تعداد میں مہاجرین سے انٹرویوز کے دوران ہلاک ہونے والوں کی جو تعداد سامنے آئی ہے، وہ اس اصل تعداد سے کہیں کم ہے جس میں لوگ صحرا میں ہلاک ہوئے ہیں۔ اس کے باوجود یہ بات یقینی طور پر کہی جا سکتی ہے کہ صحرائی سفر میں جان کھو دینے والے افراد کی تعداد سمندر میں ڈوب کر مرنے والے مہاجرین سے زیادہ ہے۔رپورٹ کے مطابق صحارا اور شمالی افریقہ میں گزشتہ برس صرف ایک سو تین افراد ہلاک ہوئے، تاہم مرنے والوں کی تعداد زیادہ بھی ہو سکتی ہے۔اِمسال بذریعہ سمندر اٹلی پہنچنے کی کوشش میں ان تک ہلاک ہونے والوں کی تعداد ڈھائی ہزار کے قریب ہو چکی ہے جب کہ گزشتہ برس ایسے ہلاک شدگان کی تعداد دو ہزار نو سو کے لگ بھگ رہی تھی۔صحرا میں جان سے ہاتھ دھو بیٹھنے والے افراد کی موت کی بڑی وجوہات بیماری، ادویات کا فقدان، بھوک اور گاڑیوں کے حادثے بتائی گئی ہیں جبکہ کئی افراد چاقوؤں سے حملوں اور فائرنگ کی وجہ سے بھی ہلاک ہوئے۔

مزید : عالمی منظر