نقصان میں چلنے والے اداروں کی نجکاری غیر مقبول فیصلہ ہے: مرتضیٰ مغل

نقصان میں چلنے والے اداروں کی نجکاری غیر مقبول فیصلہ ہے: مرتضیٰ مغل

کوئٹہ(اے این این) پاکستان اکانومی واچ کے صدر ڈاکٹر مرتضیٰ مغل نے کہا ہے کہ نقصان میں چلنے والے اداروں کی نجکاری غیر مقبول فیصلہ ہے اسلئے حکومت نے الیکشن میں کامیابی کیلئے اس پر عمل درامد روک دیا ہے۔ یہ نہ صرف آئی ایم ایف سے معاہدے کی خلاف ورزی ہے بلکہ اس سے سرمایہ کاروں کی مایوسی بڑھ رہی ہے ۔مفلوج اداروں سے قبل منافع بخش اداروں کی فروخت کو اقرباء پروری سے علاوہ کوئی عنوان نہیں دیا جا سکتا۔ ڈاکٹر مرتضیٰ مغل نے اسلام آباد ویمن چیمبر کی ٹریڈ اینڈ اندسٹری کمیٹی کی چئیرپرسن تبسم انوار سے سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ ان سفید ہاتھیوں کو زندہ رکھنے کاخرچہ ملکی دفاع کے اخراجات سے زیادہ ہے مگر وعدے کے باوجود ان میں اصلاحات کی جا رہی ہیں نہ انکے سربراہ بدلے جا رہے ہیں۔ احتساب نہ ہونے کے سبب یہ ناکام ادارے کرپشن کا گڑھ اور سیاسی بنیادوں پر بھرتیوں کے مراکز بنے ہوئے ہیں۔ نجکاری میں ملکی و غیر ملکی سرمایہ کاروں کی عدم دلچسپی کا سبب بننے والے عوامل دور کئے بغیر نجکاری کی پالیسی کبھی کامیاب نہیں ہو گی۔سرکاری اداروں کو زندہ رکھنے پر ضائع ہونے والے اربوں روپے کی رقم فلاحی منصوبوں پر خرچ ہونی چاہئیے۔نجکاری ذمہ دارانہ اور شفاف ہو تاکہ بجٹ خسارہ کم ہو اورکسی کو اعتراض کا موقع نہ ملے ۔

نجکاری میں اچھی شہرت رکھنے والے سرمایہ کاروں پر اعتماد کیا جائے اور غیر ذمہ داری و اقرباء پروری سے بچا جائے۔ڈیفالٹروں اورسرکاری اداروں کی زمین پر نظریں جمانے والے پراپرٹی ڈیلروں اور ڈویلپرزکو سارے عمل سے دور رکھنے اوران اداروں کے ملازمین کے مفادات کا خیال رکھنے کی ضرورت ہے ۔اس موقع پر تبسم انوار نے کہا کہ عالمی مالیاتی ادارے غریب ممالک کو اپنے اثاثے اونے پونے بیچنے پر مجبور کرنے کرتے ہیں۔ منافع بخش اداروں کی فروخت سونے کا انڈا دینے والی مرغی کو زبح کرنا ہے۔ قومی وسائل کا ضیاں جاری رہاتونجکاری کی کامیابی کے باوجود نتیجہ کشکول ہی ہو گا۔دیہی اشرافیہ اگر ٹیکس ادا کرے تو سالانہ چھ کھرب روپے آسانی سے جمع ہو سکتے ہیں جس سے نجکاری کی ضرورت ختم اور کشکول حقیقت میں ٹوٹ جائے گا۔

مزید : کامرس

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...