عبدالستار ایدھی:سادگی کا ایک پیکر

عبدالستار ایدھی:سادگی کا ایک پیکر
 عبدالستار ایدھی:سادگی کا ایک پیکر

  

مولانا الطاف حسین حالی نے ’’مقدم�ۂ شعر و شاعری‘‘ میں لکھا ے کہ شعر میں سادگی کا مطلب ہے کہ زبان بھی سادہ ہو اور خیال بھی۔ اس طرح کسی شخصیت کی سادگی بھی دو پہلو لئے ہوتی ہے۔ ایک پہلو اس کی شخصیت میں پائی جانے والی سادگی کا ہوتا ہے اور دوسرا پہلو اس کے خیالات کی سادگی کا ہوتا ہے۔ مَیں نے جب عبدالستار ایدھی کی شخصیت کو اس معیار پر پرکھنے کی کوشش کی تو کھلا کہ وہ دونوں طرح کی سادگی کا پیکر تھے۔ شخصیت اور خیالات کی سادگی نے انہیں دوسروں کے لئے قابلِ قبول بنا دیا تھا۔

ان کی شخصیت کا جائزہ لیا جائے تو پتا چلتا ہے کہ وہ اپنے لباس، کھانے پینے، رہن سہن اور سفر و حضر میں سادگی کا ایک مکمل نمونہ تھے۔ ایسا ہر گز نہیں کہ تکلفات اور تعیش کے لئے ان کے پاس وسائل نہیں تھے۔ سب کچھ ہونے کے باوجود انہوں نے سادگی کا رویہ اپنا کر دراصل تکلف پرست اور عیش زدہ معاشرے کے لوگوں کو سادگی کا ایک عملی نمونہ دینے کی کوشش کی تھی۔ گویا وہ چاہتے تھے کہ لوگ بھی انہی جیسے ہو جائیں۔ انہی کی طرح کفایت شعار ہو جائیں اور کفایت شعاری کے بعد جو کچھ بچ رہے وہ فلاحِ انسانیت کے لئے خرچ ہو۔ وہ اس بات پر یقین رکھتے تھے کہ ہمارے پاس جو کچھ ہماری ضرورت سے زیادہ ہے، اس پر دوسروں کا حق ہے۔

یہ نہایت حیران کن ہے کہ انہوں نے ساری عمر ملیشیا کی شلوار قمیض پہنی۔ وہ مہینوں ایک ہی جوڑا پہنے رہتے تھے۔ یہ جان کر تو حیرت مزید بڑھ جاتی ہے کہ ایدھی صاحب نہانے کے معاملے میں بھی کفایت شعاری کا مظاہرہ کرتے تھے۔ اُن کی اس عادت پر کچھ لوگوں کو اعتراض بھی ہو سکتا ہے، لیکن سچ یہ ہے کہ اس شہر میں جہاں لوگ پینے کے پانی کو ترستے تھے، وہاں وہ نہا کر پانی ضائع نہیں کرنا چاہتے تھے۔ اسی طرح کھانے پینے کے معاملے میں بھی ان کی سادگی انتہا کو پہنچی ہوئی تھی۔ وہ ہماری طرح کھانے کے لئے زندہ نہیں تھے، بلکہ زندہ رہنے کے لئے کھاتے تھے۔ جیسا ملتا، کھا لیتے تھے۔ صبر اور شکر ان کی گُھٹی میں پڑا تھا۔ ویسے بھی اُن کی آنکھوں کے سامنے ہر وقت وہ چہرے رہتے تھے جو بھوک اور پیاس سے مرجھائے رہتے تھے۔ لگتا تھا کہ انہوں نے دل میں تہیہ کر رکھا تھاکہ جب تک ایک بھی پاکستانی بھوکا پیاسا رہنے پر مجبور ہے، تب تک وہ پیٹ بھر کر نہیں کھائیں گے۔ بعض اوقات جب مَیں پیٹ بھر کر کھانا کھاتا ہوں تو مجھے لگتا ہے کہ مَیں شاید دوسروں کے حصے کا کھانا کھارہا ہوں۔ حقیقت بھی یہی ہے۔ ہم میں اور ایدھی صاحب میں یہی فرق ہے کہ وہ دوسروں کا حق انہی کو دینے کے آرزومند تھے اور ہم اپنے حق سے زیادہ حاصل کرنے کے آرزو مند رہتے ہیں۔

مَیں ایسی کئی فلاحی تنظیموں کے سربراہوں کو جانتا ہوں جو غریبوں کی خدمت کے لئے دن رات کام کرتے ہیں، چندہ اُگاہتے ہیں اور چندے کی رقم سے عیش کی زندگی گزارتے ہیں،اچھے گھر میں رہتے ہیں، اچھا لباس پہنتے ہیں، اچھاکھاتے ہیں اور اچھی گاڑیوں میں سفر کرتے ہیں، حتیٰ کے چندے کی رقم سے خود بھی بھاری تنخواہ وصول کرتے ہیں اور اپنے رشتے داروں اور دوستوں کو بھی بھاری بھرکم اعزازیے دے کر ممنونِ احسان کرتے ہیں۔ ایدھی صاحب پر اس طرح کا کوئی الزام عائد نہیں کیا جاسکتا۔ ان کے بارے میں سب جانتے ہیں کہ انہوں نے ساری عمر ایک ہی کمرے میں گزار دی، جس میں ائرکنڈیشنر کی سہولت بھی نہیں تھی۔ لوگوں نے انہیں سڑک کے کنارے فٹ پاتھ پر ، مفلوک الحال لوگوں کے ساتھ بیٹھ کر کھانا کھاتے بھی دیکھا اور ایدھی ایمبولینس کی ڈرائیونگ سیٹ پر بھی بیٹھے دیکھا۔ مفلوک الحال اور بے سہارا لوگوں کے لئے وہ کسی بھی مقام پر اپنی چادر بچھا کر بیٹھ جایا کرتے تھے۔ یہ ان کی سادگی اور خلوص ہی تھا جس نے انہیں لوگوں میں مقبول بنادیا تھا، ان کی ایک آواز پر لوگ اپنی جیبیں خالی کردیا کرتے تھے۔ انسانوں اور انسانیت کے لئے ان کی خدمات سے حسد کرنے والے لوگوں نے ان پر کچھ اعتراضات بھی وارد کئے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ وہ وہی خدمات سرانجام دے رہے تھے جن کا ہمارے مذہب نے حکم دے رکھا ہے۔ گویا وہ نظری نہیں، عملی اسلام کے پیکر تھے۔ انہوں نے ہمارے نام و نہاد دانش وروں کی طرح یہ نہیں کہا کہ ہمیں انسانوں کی خدمت کرنا چاہئے، بلکہ ان کا نصب العین یہ تھا کہ ہمیں انسانوں کے کام آنا چاہئے، یعنی:

دردِ دل کے واسطے پیدا کیا انسان کو

دوسرے لفظوں میں وہ اس بات پر بھی یقین رکھتے تھے کہ:

خدا کے ساتھ کرو نیکیوں کا کاروبار

خدا ہمیشہ منافع زیادہ دیتا ہے

ہم نے دیکھ بھی لیا کہ انہوں نے ساری زندگی انسانوں سے پیار کیا اور خدا نے انسانوں کے دِلوں میں ان کے لئے اتنا پیار پیدا کردیا کہ وہ سب کے محبوب بن گئے۔۔۔وہ سادگی کا ایک ایسا پیکر تھے کہ جب تک ہمارے درمیان موجود رہے، ہمیں ان کی اہمیت کا احساس کچھ زیادہ نہ تھا، بالکل اسی طرح جیسے ہَوا چل رہی ہو تو ہمیں اس کی اہمیت کا ادراک نہیں ہوتا، لیکن جب ہَوا بند ہو جائے تو ہم لُو کی دُعائیں مانگنے لگتے ہیں۔ایدھی صاحب کا وجود بھی ہَوا کی طرح تھا۔ وہ ہر وقت ہمارے اردگرد رہتے تھے۔ آج وہ ہم میں نہیں رہے تو احساس ہو رہا ہے کہ ہم ایک بہت بڑی شخصیت سے محروم ہو گئے ہیں۔

مَیں نے بھی اپنے ہم عصر شاعروں کی طرح ایدھی صاحب کے لئے ایک نظم کہی تھی۔ شاید اس نظم کا حوالہ یہاں بے جا نہ ہو، اس لئے درج کیے دیتا ہوں:

خدا کے نام پر انسانیت سے پیار کرتا تھا

بشر ہو کر فرشتوں سے وہ آنکھیں چار کرتا تھا

۔۔۔۔۔۔۔۔۔

یتیموں کے سروں پر ہاتھ رکھتا تھا محبت سے

بچشمِ نم، ہمیشہ پُرسشِ بیمار کرتا تھا

۔۔۔۔۔۔۔۔۔

جنھیں دھتکار دیتا تھا زمانہ بے حیا ہو کر

وہ غیرت مند اُنہی لوگوں کو بس دلدار کرتا تھا

۔۔۔۔۔۔۔۔۔

گریباں چاک رکھتا تھا وہ اپنا اور دُنیا کا

جُنُوں پیشہ تھا ، لوگوں کو جُنُوں آثار کرتا تھا

۔۔۔۔۔۔۔۔۔

بکھر جاتا تھا ذرّہ ذرّہ ہو کر اُس کے قدموں میں

وہ کہسارِ انا پر اِتنا کاری وار کرتا تھا

۔۔۔۔۔۔۔۔۔

وہ اب بھی دیکھتا ہو گا اُنہی آنکھوں سے دُنیا کو

وہ جِن آنکھوں سے دُنیا کا کبھی دیدار کرتا تھا

۔۔۔۔۔۔۔۔۔

تماشا گاہِ نفرت کا اُسی سے تھا بھرم ناصر

محبت کا ہمیشہ وہ ادا کردار کرتا تھا

۔۔۔۔۔۔۔۔۔

عبدالستار ایدھی اپنے خیالات میں بھی سادگی کا بہترین نمونہ تھے۔ وہ جس بات کو انسانیت کے لئے بہتر سمجھتے تھے، اُسے اپنے الفاظ میں سیدھے سادے انداز میں بیان کر دیا کرتے تھے۔ انہوں نے ہمارے گھاگ اور مفاد پرست سیاسی رہنماؤں کی طرح کوئی بات کہنے سے پہلے یہ نہیں سوچا کہ اس سے انہیں کتنا مالی فائدہ ہو گا۔ جو ان کے دل میں ہوتا تھا، وہ زبان پر آ جاتا تھا۔ ان کی شخصیت ہمارے سیاسی رہنماؤں کے لئے ایک نمونہ تھی، لیکن افسوس کہ کسی نے اُن جیسا بننے کی کوشش نہیں کی:

ایسا کہاں سے لاؤں کہ تجھ سا کہیں جسے

مزید : کالم