جمعیت اہلحدیث کاملک گیر دفاع حرمین تحریک چلانے کافیصلہ

جمعیت اہلحدیث کاملک گیر دفاع حرمین تحریک چلانے کافیصلہ

لاہور (نمائندہ خصوصی )مرکزی جمعیت اہل حدیث پاکستان کی مجلس عاملہ کااجلاس میں ملک گیر دفاع حرمین تحریک چلانے کا فیصلہ اور پاک فوج کے دستے سعودی عرب بھیجنے کا مطالبہ کیا ہے، سعودی عرب،پاکستان اور ترکی طاغوت کی آنکھوں میں کھٹکتے ہیں۔ ترکی میں ناکام بغاوت دنیا بھر کے طالع آزماؤں کے لیے باعث عبرت ہے۔ بغاوت ناکام بنانے پر ہم طیب اردگان اور ترک عوام کی جرات وبہادری کو سلام پیش کرتے ہیں۔کشمیریوں پر مظالم کی بندش اور انہیں حق خودارادیت ملنے تک پاکستان کو ہر سطح پر بھارت کا بائیکاٹ کرنا چاہیے۔اقوام متحدہ کشمیریوں کی نسل کشی روکنے میں ناکام ہو گیا ہے۔ کشمیریوں کی قربانیاں رنگ لائیں گی۔پاکستان سفارتی اور سیاسی محاز پر کشمیر کا مقدمہ دنیا بھر کے فورمز پر اٹھائے اور کشمیر پالیسی کو نئے خطوط پر وضع کیا جائے تاکہ کشمیری جو تکمیل پاکستان کی جنگ لڑرہے ہیں انہیں پیغام جائے کہ پاکستان انکی پشت پر کھڑا ہے۔ اسلامی ممالک کو مسلم اقوام کومتحدہ کرکے دنیا بھر کے مظلوم مسلمانوں کے حقوق کی حفاظت کے لیے میدان میں آنا ہو گا۔ان خیالات کا اظہار مرکزی امیر سینیٹر پروفیسر ساجد میر نے پارٹی کی مجلس عاملہ کے اجلاس کے بعدمیڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے کیا۔ قبل ازیں اجلاس میں سعودی عرب میں دہشت گردی کے واقعات،کشمیریوں پر بھارتی مظالم، ترکی میں مارشل لاء لگانے کی حرکت اور ڈاکٹر ذاکر نائیک کے خلاف بھارتی اور بنگلادیشی اقدامات کے خلاف متفقہ طور پر قراردادیں منظور کی گئیں۔ پروفیسر ساجدمیر نے بتایا کہ اجلاس نے ملک گیر دفاع حرمین شریفین تحریک چلانے کا فیصلہ کیا ہے جس کے تحت مختلف شہروں میں سیمینارز اور ریلیاں منعقد کی جائیں گی۔ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ سعودی عرب، پاکستان اور ترکی کے خلاف اسلام دشمن طاقتیں گھیرا ڈالنے کی کوشش کررہی ہیں۔سعودی عرب کے پاکستان پر بے پنا ہ احسانات ہیں مشکل کی گھڑی میں ہمیں سعود ی عرب کا بھرپور ساتھ دینا چاہیے۔پروفیسر ساجد میر نے کشمیر کے حوالے سے کہا کہ کشمیر ی تکمیل پاکستان کی جنگ لڑرہے ہیں۔ ان کی جنگ محض زمین کے ٹکڑے کے لیے نہیں ایک نظریہ کے لیے ہے۔ ہم انہیں کسی صورت تنہا نہیں چھوڑ سکتے۔ بھارتی فوج کی حالیہ دہشت گردی کشمیرکی تحریک آزادی کی بدترین کارروائی ہے جس میں 50 کے قریب کشمیری شہید ہوچکے ہیں جبکہ سینکڑوں زخمی اور بیینائی سے محروم کردیے گئے ہیں۔پروفیسر ساجد میرنے بتایا کہ اجلاس میں ترکی کی صورتحال پر تشویش کا اظہار کیا گیا اور بغاوت ناکام بنانے پر ترک عوام اور ان کے محبوب قائد اردوان کو زبردست خراج تحسین پیش کیا گیا۔اجلاس میں مرکزی ناظم اعلی ڈاکٹر حافظ عبدالکریم، خازن حاجی عبدالرزاق،نائب امیر مولانا علی محمد ابوتراب، مولانا نعیم بٹ، قاری محمد حنیف ربانی، پروفیسر سعید کلیروی، قار ی صہیب میری محمدی،سید عتیق الرحمن شاہ، حافظ عبدالحمید عامر، مولانا عبدالرشید حجازی، ڈاکٹر ذ اکر شاہ، قاضی ریا ض قدیر، حافظ فیصل افضل شیخ، پروفیسر نجیب اللہ طارق، مولانا ارشاد الحق اثری، علی محمد ابوتراب،میاں محمود عباس، عبدالباسط شیخوپوری، ڈاکٹر عبدالغفور راشد، بشیر انصاری،مولانا ثناا للہ زاہدی نے بھی شرکت کی۔

مزید : صفحہ آخر