صوبائی دارالحکومت، رواں سال ہر ایک گھنٹے میں رجسٹرڈ جرائم کے 10سے زائد واقعات پیش آئے

صوبائی دارالحکومت، رواں سال ہر ایک گھنٹے میں رجسٹرڈ جرائم کے 10سے زائد واقعات ...

لاہور(شہباز اکمل جندران//نیوز رپورٹر)لاہور میں ہر ایک گھنٹے کے دوران سنگین جرائم کے 10سے زیادہ رجسٹرڈواقعات پیش آئے ۔کہیں کسی کو قتل کردیا گیاتو کہیں کوئی تاوان کے لیے اغوا کرلیا گیا۔ کہیں ڈاکو لوٹ مارکرتے رہے تو کہیں شہریوں سے گاڑیاں چھینی جاتی رہیں۔ لاہور پولیس کے اپنے اعدادوشمار نے کارکردگی کا پول کھول دیا۔ رجسٹرڈ جرائم کی شرح پچھلے سال سے بھی بڑھ گئی ۔تفصیلات کے مطابق یکم جنوری 2016 سے 30 جون 2016 تک 182دنوں میں 4ہزار3سو 68گھنٹوں کے دوران مجموعی طورپر صرف سنگین نوعیت کے 45ہزار 2سو 84مقدمات درج ہوئے۔یعنی ہر ایک گھنٹے کے دوران لاہور میں قتل ، اغوا برائے تاوان ، ڈکیتی قتل،ڈکیتی، راہزنی، گاڑی چھیننے اور گاڑی چوری کرنے کے 10سے زائد واقعات رجسٹرڈ کئے گئے۔ذرائع کے مطابق ہر ایک گھنٹے میں وقو ع پذیر ہونے والے جرائم کی تعداد 12سے 15تک ہے۔ لیکن پولیس روائتی ہتھکنڈے استعمال کرتے ہوئے بہت سے واقعات کے مقدمات درج ہی نہیں کرتی۔بتایا گیا ہے کہ یکم جنوری 2016سے 30جون 2016تک محض 6ماہ کے دوران لاہور میں پولیس کی 6ڈویژنوں سول لائن ڈویژن، سٹی ڈویژن،کینٹ ڈویژن ،اقبال ٹاؤن ڈویژن ،صدر ڈویژن اور ماڈل ٹاؤن ڈویژن قتل کے مجموعی طورپر 206مقدمات درج کئے گئے۔اسی طرح اغواء برائے تاوان کے 3مقدمات ،ڈکیتی قتل کے 8مقدمات ،ڈکیتی و راہزنی کے ایک ہزار 5سو 56مقدمات ، مختلف نوعیت کی گاڑیاں ا ور موٹرسائیکل چھیننے کے 277مقدمات ،مختلف نوعیت کی گاڑیاں اور موٹرسائیکل چوری کرنے کے دو ہزار 7سو 25مقدمات اور دیگر نوعیت کے سنگین جرائم پر مبنی چارہزار 8سو 21مقدمات درج کئے گئے۔لاہور میں پولیس کی کارکردگی اورامن و امان کے تمام دعوے دھرے کے دھرے رہ گئے۔اور رجسٹرڈ جرائم کی شرح گزشتہ سال کی نسبت کہیں زیادہ ہوگئی۔گزشتہ برس کے پہلے چھ ماہ کے دوران انہی ایام میں سنگین نوعیت کے 42ہزار 1سو 86مقدمات درج ہوئے تھے۔جبکہ رواں سال پولیس نے 3ہزار 98مقدمات زیادہ درج کئے ہیں۔

مزید : صفحہ آخر

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...