ترکی کی طرح سرینگر میں بھی بھارتی بندوق کو عوام کے سامنے جھکنا پڑے گا: پرویز رشید

ترکی کی طرح سرینگر میں بھی بھارتی بندوق کو عوام کے سامنے جھکنا پڑے گا: پرویز ...

راولا کوٹ (اے پی پی)وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات و قومی ورثہ سینیٹر پرویز رشید نے کہا ہے کہ 21 جولائی شیر کی فتح کا دن ہے، یہ فتح آزادکشمیر کے لوگوں کیلئے ترقی اور خوشحال لائے گی ، کشمیریوں کے حق خود ارادیت کو تسلیم کرانے کی جاری جدو جہد میں نواز شریف کی آواز جب بطور وزیر اعظم پاکستان اور نمائندہ آزاد کشمیر شامل ہوگی تو یہ آواز زیادہ موثر اور طاقت ور ہوگی، بھارت کو اس کے سامنے جھکنا پڑے گا جیسے ترکی میں بندوق عوام کے سامنے جھکی، اسی طرح سرینگر میں بھی جھکے گی، ہم آزاد کشمیر کی ترقی اور خوشحالی کیلئے وہ اقدامات اٹھائیں گے جو ہم نے پاکستان کی ترقی کیلئے وفاق اور صوبوں میں اٹھائے، جیسے پاکستان کے معاشی وسائل میں اضافہ کیا اسی طرح آزاد کشمیر کے وسائل میں بھی اضافہ کریں گے، نواز شریف کی کشمیر پالیسی واضح ہے، اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں انہوں نے دنیا کے ضمیر سے سوال کیا کہ وہ اپنی پاس کی ہوئی قراردادوں پر کب عمل درآمد کرائیں گے، بلاول بھٹو بھی اپنی کشمیر پالیسی بتائیں، وہ بتائیں کہ ہزار سال جنگ کرنا یا شملہ معاہدہ کون سی ان کی کشمیر پالیسی ہے، عمران خان نے بھی مودی سے ملاقات میں کشمیر پر کوئی بات نہیں کی، ان کا خیبر پختونخوا میں بڑا کارنامہ چوہے مارنا ہے۔وہ اتوار کو راولاکوٹ میں سابق سپیکر قانون ساز اسمبلی اور سردار قیوم کے دیرینہ ساتھی سردار سیاب خالد کی اپنے ساتھیوں سمیت مسلم لیگ ن میں شمولیت اور اتحادی امیدوار سردار محمود اقبال کے حق میں دستبردار ہونے کے اعلان کے موقع پر اظہار خیال کر رہے تھے۔انہوں نے کہا ہے کہ سردار سیاب خالد کو مسلم لیگ (ن) میں شمولیت پر ان کو مبارکباد دیتا ہوں۔انہوں نے کہا ہے کہ وزیراعظم محمد نوازشریف 2018ء میں کارکردگی لے کر عوام کے پاس جائیں گے، عمران خان سازشیں اور مذموم مقاصد کی پوٹلی لے کر عوام کے پاس جائیں گے، خان صاحب بغاوت ترکی میں ناکام ہوئی اور آپ کو پسینے پاکستان میں آرہے ہیں۔گذشتہ روز جاری ایک بیان میں وفاقی وزیر نے کہا کہ پاکستان مسلم لیگ (ن) عوامی خدمت پر یقین رکھتی ہے اور 2018ء کے عام انتخابات میں اپنی کارکردگی کی بنیاد پر کامیاب ہو گی اور تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان غیر جمہوری قوتوں کی راہ دیکھیں گے۔ اانہوں نے کہا کہ ترکی میں فوجی بغاوت کی ناکامی پر خان صاحب آپ کیوں پریشان ہیں۔ انہوں نے کہا کہ خان صاحب شارٹ کٹ سے اقتدار نہیں ملتا ،جمہوری نظام میں عوام کی خدمت کرنا ہوتی ہے نہ کہ بنی گالہ میں بیٹھ کر عیاشی کرنا۔وزیراعظم محمد نواز شریف نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں یہ سوال کیا ہے کہ آزاد کشمیر کی قرارداد پر کب عملدرآمد ہوگا۔پیپلز پارٹی کے پاس کوئی کشمیر پالیسی نہیں ہے اور نہ ہی عمران خان کے پاس کشمیر پالیسی ہے۔ عمران خان نے کئی جلسوں میں شرکت کی ہے، انہوں نے کشمیر پالیسی کا ذکر تک نہیں کیا ہے۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ پی ٹی آئی کے چیئرمین نے بھارت میں وزیراعظم نریندرا مودی سے ملاقات کی، ملاقات میں انہوں نے مسئلہ کشمیر پر کوئی بات نہیں کی جبکہ وزیر اعظم محمد نواز شریف واجپائی سے بھی ملے اور اب مودی سے بھی ملتے ہیں تو کشمیر پالیسی پر بات کرتے ہیں۔انہوں نے کہاکہ یہاں پر آزاد کشمیر کی عوام کے ساتھ ترقی کے بارے میں جو وعدہ کرتا ہوں وہ وزیراعظم نواز شریف کی وژن کو مدنظر رکھ کر کرتا ہوں۔ پاکستان میں وفاق اور صوبوں نے ترقی کی ہے وہ ترقی ہم یہاں پر لانا چاہتے ہیں، آزاد کشمیر میں مالی وسائل بہت کم ہیں، یہاں کے لوگوں کو صحت، تعلیم اور روزگار کے مواقع فراہم کرنے کیلئے معاشی وسائل میں اضافہ کیا جائے گا۔

مزید : صفحہ آخر