خبردرخبر

خبردرخبر
 خبردرخبر

  

صبح صبح خبریں سننے کی غرض سے ٹی وی لگایا تو تمام ٹی وی چینلوں پر جو خبر گردش کرتی نظر آرہی تھی، وہ ترکی کی تھی۔ ترکی میں راتوں رات فوج کی جو بغاوت ہوئی ،وہ طیب اردوان کی حکومت الٹنے کا منصوبہ تھا، جسے عوام نے ناکام بنا دیا۔ ٹی وی پر دکھایا جارہا تھا کہ کس طرح سے ترکی کے عوام نے فوجیوں کی بغاوت کو جمہوری حکومت پر شب خون مارنے سے روکا ۔ہم کیا ہمارے بہت سے دوست بھی ترک عوام کی بہادری کو سلام کر رہے ہیں۔ ترکی میں باغی فو جیوں کی حکومت الٹنے کی کوشش کی خبر سنتے ہی آدھی رات کو ترک عوام گھروں سے جوق در جوق باہر نکلے اور جس طرح سے ٹینکوں کے آگے لیٹ لیٹ کر باغی فوجیوں کو ترک حکومت کا تختہ الٹانے سے روکا ،نہ صرف یہ، بلکہ ٹی وی پر بتایا جا رہا تھا کہ ترک عوام نے آرمی چیف کو بھی باغیوں کی حراست سے آزاد کروا لیا۔ ٹی وی پر ترک عوام کا جو جو ش و جذبہ دیکھا تھا وہ یقیناًدیکھنے کے قابل تھا ،دنیا بھر کے عوام نے ٹی وی پر دیکھا کہ ترک عوام نے کس طرح سیسہ پلائی دیوار بن کر طیب اردوان کی حکومت کو بچایا اور ایک نئی تاریخ رقم کی، بہادری کی لازوازل مثال قائم کی، دنیا کو دکھا دیا کہ ترک بھی کسی سے کم نہیں۔ اپنا حق لینا بھی جانتے ہیں اور چھیننا بھی جانتے ہیں ، بہرحال ترک عوام نے تاریخ کی کتابوں میں ایک نیاباب سنہرے حروف سے رقم کر دیا ۔

جب ٹی وی پر ترکی کے بارے خبریں دکھائی جا رہی تھیں عین اسی وقت ٹی وی سکرین پر اندھیرا سا چھا گیا اور بریکنگ نیوز چلنے لگی ۔وہ بریکنگ نیوز جو تھی اس نے ہمارے ہی کیا ہمارے ساتھ ہمارے دیگر دوستوں کے بھی ہوش اڑا دئیے ۔جی دوستو! وہ بریکنگ نیوز جو اچانک ٹی وی پر دکھائی گئی وہ یہ تھی کہ نامور ماڈل قندیل بلوچ ملتان میں اپنے گھر کے اندر قتل کر دی گئی۔ خبر کی تفصیلات جو بتائی جا رہی تھیں وہ یہ تھیں کہ قندیل بلوچ گزشتہ پندرہ روز سے ملتان میں تھیں جنہیں ان کے گھر میں ہی ان کے بھائی نے گلہ دبا کر قتل کر دیا ،جبکہ پولیس نے تصدیق کر دی ہے، قندیل بلوچ کے قتل کی خبر کے بعد قندیل بلوچ کی زندگی پر خبریں نشر ہونا شروع ہو گئیں۔ قندیل بلوچ کی زندگی کے بارے میں بتایا جا رہا تھا کہ کس طرح سے اس نے متنازعہ اقدامات سے شہرت حاصل کی ،ٹی وی پر قندیل بلوچ کے گھر اور اس کی ذاتی زندگی کے حوالے سے بھی رپورٹ نشر ہونے لگی۔ ٹی وی پر بتایا جا تا رہا کہ اس کا بھائی اس کو منع کرتا تھا کہ سوشل میڈیا پر تصاویر اپ لوڈ نہ کیا کرو اور باز آجاؤ، پولیس کا کہنا ہے کہ اس بات کا جائزہ لیا جا رہا ہے کہ قندیل کو کن وجوہات کی بناء پر قتل کیا گیا، آیا غیرت کا معاملہ ہے یا پھر کوئی اور معاملہ ہے ۔

اللہ ہی جانتا ہے کہ قندیل بلوچ کے قتل کے پیچھے کیا محرکا ت ہیں؟ کیونکہ بہت سے معاملات تھے، لیکن قتل کے پیچھے کیا راز ہے، کیا پردہ ہے، کسی کو کچھ معلوم نہیں،ماسوائے اللہ رب العزت کے، کیونکہ وہی پاک ذات ہے جو دلوں کے بھید اور نیتوں کے حال جانتا ہے۔ قندیل بلوچ کا قتل کس نیت سے کیا گیا، یہ بھی تاحال کسی کو معلوم نہیں، تاہم کچھ معلوم ہو یا نہ ہو ، ہمیں اتنا ضرور معلوم ہے کہ جس نے ایک انسان کو قتل کیا اس نے پوری انسانیت کو قتل کیا۔ بہرحال ہمیں تو افسوس ہوتا ہے، جب کسی بے گناہ انسان کو ناحق قتل کیا جاتا ہے ، یقیناًقندیل بلوچ کے ناحق قتل پر بھی دکھ ہوا۔ تو اجازت چاہتے ہیں دوستو! چلتے چلتے اللہ نگہبان، رب راکھا۔

مزید : کالم