ترکی کے با شعور عوام کے نام

ترکی کے با شعور عوام کے نام

اَن گنت خامیوں کے با وجود انسان کا تخلیق کردہ نظام’’ جمہوریت ‘‘اب تک کا سب سے بہترین نظام قرار پایا ہے۔ جمہوریت کی سب سے بڑی خوبی ہی اس کی سب سے بڑی خامی بھی ہے۔ جمہوریت میں ہر کسی کو صائب الرائے قرار دے کر اس کو یہ حق سونپا جاتا ہے کہ عام اصطلاح کے مطابق اپنا ’’اولوالامر‘‘ منتخب کریں۔

ترقی یافتہ اقوام جمہوریت کے فروغ کے لئے دن رات کوشاں ہیں، مگر ہمیں بار بار ’’ ایک بار پھر جمہوریت کی بحالی‘‘ کا نعرہ لگاتے ہوئے سڑکوں پر نکلنا پڑتا ہے۔اس بار تو عجیب اتفاق ہوا۔جمہوریت کے تحفظ کے لئے ترکی کے عوام کو گھروں سے نکلنا پڑا، لیکن جمہوریت بحال کرنے کے لئے نہیں ،جمہوریت بچانے کے لئے۔ ترکی کے عوام اس لئے بھی خراجِ تحسین کے حق دار ہیں کہ انہوں نے ثابت کر دکھایا ہے کہ انہوں نے کاروبارِ حکومت چلانے کے لئے جو نظام چنا ہے، وہ اس کی حفاظت کرنا بھی جانتے ہیں۔ بلاشبہ ترکی کے عوام اس معاملے میں ہمارے لئے رول ماڈل قرار دیئے جا سکتے ہیں۔غیرت مند قومیں اسی جرات کا مظاہرہ کیا کرتی ہیں۔ ہم نے بھی اپنا کاروبارِ حکومت چلانے کے لئے جمہوریت کو چنا ہے، لیکن افسوس صد افسوس ہم خود ہی جمہوریت کو ڈی ریل کرنے کے لئے سازشیں کرتے یا ان سازشوں کا حصہ بنتے رہتے ہیں۔

پانامہ لیکس کا شورو غوغا اپنی جگہ۔ اگر میاں نواز شریف کسی بھی سطح پر کرپٹ ثابت ہوتے ہیں ، تو کون ذی شعور ان کی حمایت کرے گا، مگر ان کی آڑ لے کر پورے نظام کی بساط لپیٹ دینا کہاں کا انصاف اور کون سی جمہوریت ہے؟اگر کسی کے خیال میں میاں نواز شریف نے کرپشن کی ہے یا وہ کسی بھی صورت میں اس میں ملوث ہیں تو ان کے محاسبے کے لئے بھی جمہوری طریقہ ہی اپنانا چاہیے،نا کہ پورے جمہوری نظام کی بساط ہی لپیٹ دی جائے۔ اسلام آباد سمیت کئی شہروں میں لگے پوسٹر کس چیز کا اشارہ ہیں؟ کیا یہ ہمارے جمہوریت پسند ہونے کی گواہی دیتے ہیں۔ محترمہ بے نظیر بھٹو کی وفات کے با وجود یہاں کے عوام نے اپنی پارٹی کو نہیں چھوڑا۔ قیادت کا فقدان ہونے کے باوجود پیپلز پارٹی کو ووٹ دے کر اقتدار میں لایا گیا۔ حالات کی ستم ظریفی نے ’’ھما‘‘ آصف علی زرداری کے سر پر بٹھا دیا۔ جمہوریت کی خاطر یہ قبول کر لیا گیا۔ جمہوریت کے استحکام اور سر بلندی کے لئے پیپلز پارٹی کی سب سے بڑی سیاسی حریف جماعت پاکستان مسلم لیگ (ن) زرداری حکومت کا حصہ بنی۔ بس ایک شرط تھی کہ مسلم لیگ (ن) کے انتخابی وعدے کے مطابق عدلیہ بحال کر دی جائے گی۔ پارٹی کے سر براہ اور اس وقت کے صدر آصف علی زرداری باربار وعدے کرتے رہے اور بار بار مکرتے رہے، پھر یہاں تک کہہ دیا کہ مَیں نے کوئی رسید نہیں کاٹ دی یا میری بات کوئی حدیث نہیں ہے۔ ان کی اس بات کے ردِ عمل کے طور پر مسلم لیگ(ن) نے تو جو کیا سو کیا، آپ پاکستان کے عوام کی سیاسی بصیرت دیکھئے، اس نے اگلے انتخابات میں یہ ثابت کر دیا کہ جس کو اپنی بات کا پاس نہ ہو، وہ اس پر کیسے یقین کر سکتے ہیں،جو ایک وعدہ کر کے اپنے سیاسی حلیفوں کو دھوکا دے سکتا ہے وہ عوام سے کئے گئے وعدے کہاں پورے کرے گا؟

آفرین ہے پیپلز پارٹی کے ووٹروں پر کہ جن کے بارے کہا جاتا تھا کہ وہ اپنے شعور کا مظاہرہ نہیں کرتے، بس اندھا دھند پارٹی فیصلوں کی حمایت کرتے ہیں۔ انہوں نے نہ صرف اس بات کو غلط ثابت کر دکھایا، بلکہ بتا دیا کہ ان کی قائد مرحومہ بی بی نے جو کہا تھا کہ ’’ جمہوریت سب سے بڑا انتقام ہے‘‘ وہ اس پر غیر متزلزل یقین رکھتے ہیں۔وہ ووٹ کے ذریعے احتساب کرنا جانتے ہیں۔ آج پیپلز پارٹی کو یونین کونسل کی سطح پر بھی پذیرائی حاصل نہیں ۔۔۔عمران خان صاحب! اگر آپ واقعی جمہوریت کے حامی ہیں اور اس نظام کو پاکستان میں پھلتا پھولتا دیکھنا چاہتے ہیں تو اِدھر اُدھر دیکھنے کی بجائے پاکستان کے عوام کی طرف رجوع کیجئے۔ ان کو بتائیے کہ کس نے کس طرح اور کتنی کرپشن کی ہے۔ آپ یقین رکھئے ، اگر آپ قوم کو یہ یقین دلانے میں کامیاب ہو جاتے ہیں تو پھر ان سے بہتر کوئی ادارہ احتساب نہیں کر سکتا۔میری اس دلیل پر حالیہ الیکشن مہرِ تصدیق ہیں۔

مزید : کالم

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...