غیر منطقی، منطق

غیر منطقی، منطق

ماتحت منصب داروں کا یہ مقام نہیں کہ وہ مقتدر او مقننہ کی کمان کریں۔آج نہیں تو کل ،نہیں تو پھر پرسوں اترسوں۔۔۔کلی،قطعی اور آخری طور پر تمام ریاستی اداروں کو حکومت کی ماتحتی میں چلنا ہو گا۔چلتے چلاتے ہمیں ربع صدی گزری اور اگر گھر نہیںآیا تو اس کی وجہ یہی کہ ہمارے پاؤں الٹے اور ٹیڑھے رہے۔ہمارے دماغ کے نہاں خانوں میںآج بھی ہٹلر،ڈیگال ،نپولین اور مسولینی ایسوں کی الفت بکل مارے بیٹھی ہے ۔سیاست کے کچھ طائفے اور صحافت کے بعض خانوادے کہ جنہوں نے ہمیشہ جھک کر طاقت کو سلام کیا ہے۔مودبانہ سلام!انہوں نے بار بار نادرخان کو ندا دی کہ حضور دہلی آپ کی راہ دیکھا کئے۔سنجیدہ مورخین اور ثقہ محققین کا یہ خدشہ اور وہمہ اپنی جگہ کہ ہو نہ ہو گڈریے کا بیٹا خود سریر آرائے سلطنت ہونے کا خواب دیکھنے چلا ہے۔خواب ،خواہشیں اور خیال برے نہیں ہوتے بشرطیکہ ان کے پیچھے کسی انحراف کی مہر ثبت نہ ہو ۔

شب کی تاریکیوں میں مرکزی شہروں میں لگائے گئے ہزاروں سبز بینر بھلے سے کچھ لوگوں کو بھاتے ہوں یاکم نظروں کے قلب میں طمانیت کے جگنو جلنے لگتے ہوں۔واقعہ یہ ہے کہ اہل فکرو نظر کے دل و دماغ میں تو یہ لال بتی جلا چلے۔بالاخانے میں اگر کسی ہستی کے دن سوتے اور راتیں جاگتی ہوں تو جاننے والے جان جاتے ہیں کہ یہ بلا سبب نہیں۔عسکری ترجمان کی تردید بجا اور روا مگر انحراف کی دعوت دینے والوں کے چہرے پر پڑی سریت کی نقاب کوئی توالٹ پھینکے ۔کوئی کیا حکام کہاں ہیں؟جن کا حکم چلتا اورکہا کبھی نہیں ٹلتا ۔۔۔صد ہائے دریغ کہ وہ مصلحت کے محل میں پڑے سوتے ہیں۔

جب انسانی بستیوں میں خود کشی کی دعوت دینے والوں کا محا کمہ و محاسبہ نہ ہو تو پھر سماج ہولے ہولے موت کی وادی میں اترنے لگتا ہے ۔خود کشی کی دعوت دینے والے افراد پر ہی کیا موقوف!کہا جاتا ہے کہ بعض افراد ہی خود کشی نہیں کرتے بلکہ کئی اقوام و ملل بھی اقدام خودکشی کے مرتکب ہو اکئے۔معلوم انسانی تاریخ میں اس کی متعدد مثالیں ملتی ہیں ۔جیتے جاگتے اور ہوش وحواس میں بھلا دَل کے دَل اورغول کے غول کامارشل لاکو دعوت دینا قومی خود کشی نہیں تو اور کیا ہے؟صوفی اخبار نویسوں کو چھوڑیئے کہ جن کا رزق ہی اس سے وابستہ ٹھہرا کہ وہ ایک ہی سانس اور فقرے میں با اسالیب مختلف مارشل لا کی حمایت اور مخالفت کیا کئے ۔

با شعو ر نفوس کے دماغوں میں بہت سے سوالات کئی سانپوں کی طرح پھن پھیلائے کھڑے ہیں۔کوئی سوال کالا ناگ ہے ،کوئی کوبرا ہے اور کوئی چتکبرہ۔کیا یہ محض علی ہاشمی کی خوفناک خواہش ہے؟کیا پردے کے پیچھے کوئی گمنامی میں گھناؤنی سازش سوچے بیٹھا ہے؟کیا جگر مراد آبادی کے کلام کی تفہیم کا وقت آن پہنچا ؟

پیتا بغیر اذن ،کب تھی یہ مری مجال

درپردہ چشم یا رکی شہہ پا کے پی گیا

بینروں کا دیواروں اور کھمبوں پر ٹانگنا اور تحریر میں اپنا مدعا ٹانکنا ۔۔۔دیکھئے بظاہر تو یہ ایک سطحی و سرسری سا معاملہ ٹھہرا ۔ذرا گہرائی میں اتریئے تو پتہ پڑے کہ خزاں اسی راستے آتی اور پھر ہریالی چاٹ جاتی ہے۔اول وآخر جب یہ طے ٹھہرا کہ ہم نے اپنا قومی سفر جمہوری شاہراہ پر ہی طے کرنا ہے تو پھر اس راستے اورجادے سے انحراف کیوں؟

موجودہ جنرل کو منصب پر متمکن رہنے یا رکھنے کے لئے متعدد مقدس اور ملکوتی دماغ دلیل لاتے ہیں کہ جنرل نہ رہے تودہشت گردی کے خلاف جنگ متاثر ہو گی ۔اس پوچ دلیل سے تو پاک فوج کے پورے ادارے کی اہلیت پر ہی سوالیہ نشان لگ جاتا ہے یارو!کیا پورے ادارے میں ماں نے ایک بھی ایسا سپوت نہیں جنا جو فوج کی کمان سنبھال سکے؟پھر یہ کہ یہی دلیل کہ فلاں چیز متاثر ہوگی ہر سپہ سالار کے لئے بھی لائی جاتی رہی ۔

حامیان منطق کی مانند چلئے آج اسی دلیل کو الٹ کر دیکھتے ہیں۔موجودہ حکومت نے بھی بے شمار ترقیاتی منصوبے شروع کررکھے ہیں،کیا عجب کہ آنے والی حکومت کے بعد یہ بھی پایہ تکمیل تک پہنچ نہ پائیں۔پوچھا جانا چاہئے تو کیا حکومت کی مدت میں بھی توسیع کا ڈول ڈالنا چاہئے؟جی نہیں!جو ذرہ جہاں ہے وہیں آفتاب ہے ۔یہ دنیا دائم آباد رہے گی اور آنے والے آتے جاتے رہیں گے ۔ڈھائی فٹ کی چھڑی جنرل راحیل صاحب کے ہاتھوں میں ہی رہے گی یا روایت کے تحت آئندہ اسے کسی دوسری انگلیوں نے چھونا ہے؟اگر کوئی صور اسرافیل نہیں پھونکا جاتا یا قیامت نہیں آتی تو پھر آئین وقانون کے تحت اس کا فیصلہ مجازاتھارٹی نے ہی کرنا ہے بینروں نے نہیں بابا۔

مزید : کالم