امریکی خفیہ ایجنسیاں اردو249 عربی 249 فارسی اور پشتو زبانوں میں سوشل میڈیا پر موجودہیں

امریکی خفیہ ایجنسیاں اردو249 عربی 249 فارسی اور پشتو زبانوں میں سوشل میڈیا پر ...

سرگودھا سے عرفان قادر نے گوگل جسیے اداروں کی طرف سے خفیہ ایجنسیوں کو انفرمیشن فروخت کرنے کے پس منظر میں یہ سوال کیا ہے کہ کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ دنیا کی آئندہ جنگیں کمپیوٹر ز اور انٹرنیٹ سے لڑی جائیں گی۔ ؟ جواب میں یہی کہا جاسکتا ہے کہ کمپیوٹرز ٹینکوں 249 توپوں 249 میزائل 249 بمبار طیاروں اور لڑاکا بحری جہازوں اور آبدوزوں کی جگہ تو نہیں لے سکتے249 لیکن بنیادی جنگی ضرورت یعنی اپنے اور دشمن کے متعلق حقائق حاصل کرنے اور دشمن کو گمراہ کن معلومات فراہم کرکے الجھانے کا کام کمپیوٹرز اور انٹرنیٹ پہلے ہی سنبھال چکے ہیں۔ میں کتاب فیوچر کرائمز کے حوالے ہی سے بات کروں گا کہ میدان جنگ میں انفرمیشن ٹیکنالوجی اہم ترین ٹیکنالوجی بن چکی ہے۔ کمانڈرز کو سکرین پر اپنے جہازوں249 طیاروں249 ٹینکوں اور ٹروپس کی صحیح پوزیشن معلوم ہوتی ہے اور سکرین ہی سے ہر طرح کے سازو سامان اور سپلائی کی فراہمی کا انتظام کیا جاتا ہے۔ سکرین ہی کے ذریعے دشمن کی نقل و حرکت 249 منصوبوں اور صلاحیتوں کا اندازہ کیا جاتا ہے۔ قدرتی بات ہے کہ جنگ کے دوران ایک دوسرے کی اس صلاحیت پر حملہ کرنے کی سب سے پہلے کوشش کی جاتی ہے۔ موجودہ عسکری دنیا میں اس صلاحیت کے لئے انفرمیشن آپریشنز249 الیکٹرانک وارفیئر249 کمپیوٹر نیٹ ورک آپریشنز249 انفرمیشن وارفیئریا سائیکالوجیکل آپریشنز کی اصطلاحات استعمال ہورہی ہیں۔ اس ٹیکنالوجی کا ایک ہی مقصد ہوتا ہے کہ دشمن کی فیصلہ کرنے کی صاحیت کو متاثر کیا جائے249 اس کو بگاڑ دیا جائے 249 اس میں خلل ڈال دیا جائے یا اسے اپنے کنٹرول میں کرلیا جائے۔ ماضی میں یہ سب مقاصد لوگوں کے ذریعے زبانی افواہیں پھیلانے اور دشمن کے علاقوں میں( پراپیگنڈا پر مشتمل )پمفلٹ وغیرہ گرانے کے ذریعے حاصل کئے جاتے تھے۔ لیکن آج کی دنیا میں یہ سب مقاصد سکرین کے ذریعے حاصل کئے جارہے ہیں 249یہ سکرین خواہ کمپیوٹرز کی ہے یا ٹیلی وژن کی ۔ ان ذرائع کی حفاظت کا معاملہ کمزور ہے249 ایسے تمام سسٹمز کسی نہ کسی طرح عالمی سطح پر ایک دوسرے سے منسلک ہیں جس وجہ سے دشمن ہزاروں میل دور سے بھی ان میں باآسانی مداخلت کر سکتاہے یہاں تک کہ دشمن کا سارا سسٹم مفلوج کیا جاسکتا ہے۔ الاسکا میں امریکہ کا بہت بڑا تحقیقی مرکز HARRP دشمن کی کمیونییکشنز فریز کرنے او ر راڈارز کی نظروں سے بچ جانے والے طیاروں اور میزائلوں وغیرہ کا سراغ لگانے کی ٹیکنالوجی پر کام کرچکا ہے ۔ ایک تحقیق کے مطابق یہ اس سے بھی بہت آگے جاچکا ہے 249 جس کا ذکر بعد میں کسی وقت کیا جائے گا۔

شام کی خانہ جنگی کے دوران ایک موقع پر شامی حکومت کی طرف سے رائیٹر کی خبروں کی سائٹ کو ہیک کرلیا گیا اور اس سے یہ ظاہر کرنے کے لئے خبر جاری کر دی گئی کہ الیپو کے مقام پر باغیوں کو زبردست شکست کا سامنا کرنا پڑا ہے جبکہ حقیقت میں ایسا کچھ نہیں تھا۔ مارک گڈ مین کے نزدیک راڈار کی ڈیجنٹل سکرین بہت نازک اور پیچیدہ چیز ہے 249 اسے فریز کرکے دشمن کو اپنے طیاروں کی آمد سے بے خبر رکھا جاسکتا ہے۔ وہ اپنی کتاب میں انکشاف کرتا ہے کہ شام کے شمالی علاقے میں شمالی کوریا کی مدد سے زیر تعمیر جوہری مرکز پر حملہ کرنے کے لئے اسرائیل نے شام کے فضائی دفاع کے سسٹم کو باآسانی ہیک کر لیا۔ اسرائیلی طیاروں نے شامی علاقے میں بہت اندر تک پرواز کرکے اس مقام تک پہنچنا تھا اور ان کی آمد کی خبر پا کر انہیں گرایا جاسکتا تھا 249 اس طرح باقاعدہ جنگ بھی شروع ہوسکتی تھی۔ لیکن شام کے راڈاروں کواسرائیل کی طرف سے فریز کردینے کی وجہ سے شامی اسرائیلی جہازوں کی آمد سے قطعی بے خبر رہے ۔ جہاز اپنا کام کرکے واپس چلے گئے لیکن شامی ائیر ڈیفنس والے لوگ اپنے راڈارز پر مکمل خاموشی اور سکون ہی دیکھتے رہے ۔ جنوری 2009ء میں حماس اور اسرائیل میں غزہ کی پٹی کے علاوہ اسرائیل کے اندر بھی کشیدگی انتہا کو پہنچ گئی۔ اسرائیل نے غزہ میں مداخلت کے لئے اپنے ٹروپس کو جمع کرنا شروع کیا۔ ہزاروں ریزرو فوجیوں کو رپورٹ کرنے کے لئے پیغامات بھجوادئیے گئے۔ ان کو موبائیل فونز کے ٹیکسٹ اور زبانی پیغامات موصول ہونا شروع ہوگئے۔ فریقین کے لئے معاملات بہت سنگین ہوگئے۔ بہت سے فوجیوں کو غزہ کے ساتھ بارڈر پر رپورٹ کرنے کے بجائے اس کی بالکل مخالف سمت ملک کے انتہائی شمال میں رپورٹ کرنے کے پیغامات ملے۔ یہ بعد میں معلوم ہوا کہ ان لوگوں کو حماس کی طرف سے گمراہ کرنے کے لئے شمال کی طرف جانے کے پیغامات بھیجے گئے تھے۔ اس موقع پر دونوں طرف سے الیکٹرانک نفسیاتی جنگ کا بھر پور مظاہرہ کیا گیا249 حماس کے ایک دعوی کے مطابق اس موقع پر اس کی طرف سے فی گھنٹہ ستر ہزار اسرائیلی موبائیل فونز پر پیغامات بھیجے گئے۔

پاکستان میں بھی اس وقت سوشل میڈیا پر مخالف گروپ ایک دوسرے کے خلاف زبردست پراپیگنڈا میں مصروف ہیں۔ خود فیس بک انتظامیہ یہ اعتراف کرچکی ہے کہ اس وقت فیس بک پر چودہ کروڑ جعلی اکاؤنٹس موجود ہیں۔ جعلی ناموں اور خوبصورت عورتوں کی جعلی تصاویر کے ساتھ جرائم پیشہ لوگ بڑے بڑے عہدوں اور مقام والے لوگوں کو بلیک میل کرنے کے لئے ہی ا پنے جال میں نہیں پھانستے بلکہ بڑی طاقتوں کی خفیہ ایجنسیوں کی طرف سے بھی فوج در فوج افراد ان جعلی اکاؤنٹس کے ذریعے اپنے پراپیگنڈے کے لئے بھرتی کئے گئے ہیں۔ ہم اپنے کمپیوٹرز کی سکرینز پر جو کچھ دیکھتے ہیں وہ صرف لائیکس اور شکریہ کے مقاصد ہی کے لئے نہیں ہے بلکہ ان کے پیچھے دنیا بھر کی طاقتوں کی طرف سے مقرر کئے گئے ملٹری اور خفیہ اداروں کے بڑے بڑے افسر بیٹھے ہوئے اپنی گیم کررہے ہیں۔ یہ بات اب ڈھکی چھپی نہیں رہی کہ امریکی حکومت انتہا ء پسندی اور پراپیگنڈا کے توڑ کے لئے اپنے کٹھ پتلی افراد کے ذریعے بڑے پیمانے پر نفسیاتی جنگ میں مصروف ہے۔ امریکن جہادیوں کے ویب فورمز کی مانیڑنگ کرتے ہیں اور ان کا جواب دیتے ہیں۔ ایک ہی تنظیم کے تحت کام کرنے والے ہزاروں افراد سوشل میڈیا پر اپنے مقاصد حاصل کرنے اور اثرو نفوذ قائم کرنے میں کامیاب رہتے ہیں۔ جون 2011ء میں یہ انکشاف کیا گیا کہ امریکہ کی سینٹرل کمانڈ نے کیلی فورنیا کی ایک کمپنی کو انٹرنیٹ پر جعلی ناموں کے اکاؤنٹ تخلیق کرنے کے لئے ستائیس لاکھ ڈالر کا ٹھیکہ دیا ہے۔ تاکہ ان کے ذریعے سوشل میڈیا پر امریکہ کی حمایت میں پراپیگنڈا کیا جاسکے۔ اس طرح تخلیق کئے گئے دس اکاؤنٹس پر دس مختلف ناموں سے ایک شخص کام کررہا تھا جس کے ذمے مخالفوں کے پراپیگنڈا کا جواب دینا تھا۔ اس طرح کے جعلی ناموں سے کام کرنے والے عربی 249 فارسی249 اردو اور پشتو زبانوں میں کام کررہے تھے۔ ان کے ذریعے اپنے مطلوبہ مقاصد کے لئے آن لائن مباحث کی صورت میں چوبیس گھنٹے کام ہورہا تھا۔ یہ کام دو کروڑ ڈالر کے ایک بڑے منصوبے کا حصہ تھا جس کا مقصد پاکستان 249 افغانستان اور مشرق وسطی میں آن لائن نفسیاتی جنگ لڑنا تھا۔ ایک بار جب ایسی جعلی شخصیت آن لائن تخلیق کردی جاتی ہے تو پھر اس کے ذریعے مخالفین کی ہر طرح کی تذلیل کا سامان کرنا آسان ہوجاتا ہے۔ گڈ مین کے بقول دنیا میں تقریبا بائیس حکومتیں سوشل میڈیا کو پراپیگنڈا مقاصد کے لئے استعمال کررہی ہیں۔ سینٹ پیٹرز برگ ٹائمز کی ایک تحقیق کے مطابق روس میں بہت سی تنظیمیں ایسی موجود ہیں جو ذہین اور طباع نوجوانوں کو اس مقصد کے لئے بھرتی کررہی ہیں کہ وہ آن لائن اپوزیشن لیڈروں کی تذلیل کریں اور حکومت کی حمایت میں مضامین لکھین ان لوگوں کو فی کس ایک دن کا معاوضہ چھتیس ڈالر ادا کیا جارہا ہے۔ ان سے یہ توقع کی جاتی ہے کہ ان سے ہر کوئی ایک دن میں کم از کم ایک سو پوسٹ لکھے گا۔ روس کے موجودہ صدر ولادیمیر روسی خفیہ ایجنسی KGB کے لیفٹنٹ کرنل رہے ہیں۔ وہ پراپیگنڈا تکنیکس کو خوب سمجھتے ہیں ر اور انہوں نے اپنے لئے سوشل میڈیا پر پراپیگنڈا کرنے کے لئے ایک پوری فوج بھرتی کررکھی ہے۔ یہ لوگ ان کی طرف سے سوشل میڈیا پر روزانہ چالیس ہزار کمنٹس تخلیق کرتے ہیں۔ یہ لوگ دن رات ولادیمیر کی ملک کے لئے خدمات اور بالخصوص کریمیا کی آزادی کے لئے کردار کی تعریف میں لکھتے ہیں۔ گڈ مین کے بقول چین نے آن لائن پراپیگنڈا کے لئے تقریبا بیس لاکھ ورکر بھرتی کررکھے ہیں۔ جو آن لائن پراپیگنڈا کے علاوہ ملک کے اندرونی انٹرنیٹ پیغامات کی نگرانی بھی کرتے ہیں۔ چین کے پراپیگنڈا چیف لو وی جس کا سرکاری عہدہ چیئرمین سٹیٹ انٹر نیٹ انفرمیشن آفیسر ہے نے اوائل 2013ء میں اپنے چھبیس لاکھ ورکرز کو حکم دیا کہ وہ سوشل میڈیا پر اپنے اکاؤنٹس کھولیں تاکہ اسےً مثبت انرجیً مہیا کی جاسکے۔ ان ورکرز کو سوشل میڈیا پر مختلف طرح کے مباحث شرو ع کرنے کی تربیت بھی دی گئی۔ اس طرح دنیا بھر کی حکومتیں اپنا اقتدار برقرار رکھنے کے لئے اور مجرموں کے بڑے گروہ اپنی کارروائیوں کے لئے سکرین کا استعمال کررہے ہیں۔ جبکہ سوشل میڈیا 249 انٹرنیٹ 249 ٹیبلٹ اور سیل فونز استعمال کرنے والے عام لوگ سکرین پر اپنے ساتھ ہونے والے ہاتھ سے بے خبر رہتے ہیں۔

مزید : کالم

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...