جمہوریت یکطرفہ محبت نہیں

جمہوریت یکطرفہ محبت نہیں
 جمہوریت یکطرفہ محبت نہیں

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

مَیں تو یہ نہیں سمجھتا کہ ہماری سیاسی اشرافیہ ترکی میں ناکام فوجی بغاوت کا غلط مطلب لے گی، اس بات پر اترائے گی کہ ترکی میں فوجی بغاوت کی ناکامی سے ثابت ہو گیا کہ اب فوج کہیں جمہوریت پر شب خون نہیں مار سکتی، اِس لئے اپنا رویہ اور طریقہ جاری رکھو، کسی بات کی فکر نہ کرو، سب کچھ جمہوریت کی وجہ سے قابو میں آ گیا ہے،۔۔۔ ہماری سیاسی اشرافیہ اتنی بھی کم عقل نہیں کہ اس بغاوت کی ناکامی کے اصل اسباب نہ سمجھ سکے اور بس اسی بات پر خوش ہو کر بیٹھ جائے کہ عوام نے فوجی بغاوت ناکام بنا دی ہے، اب چاہے پاکستان میں پوسٹرز لگیں یا پینا فلیکس، کوئی جرنیل جمہوریت کو ختم کرنے کا سوچ بھی نہیں سکتا۔ ہمارے سیاست دانوں اور جمہوری حکمرانوں نے اس انداز سے سوچنے کی بجائے اس زاویہ سے اس بغاوت کو دیکھا ہو گا کہ ترکی میں عوام طیب اردوان کے ایک میسج پر کس طرح گھروں سے باہرنکل آئے اور ٹینکوں کے سامنے لیٹ گئے؟ آخر ترک صدر کی آواز میں ایسی کیا کشش تھی جس نے ترک عوام کو دیوانہ وار جمہوریت بچانے کے لئے سر پر کفن باندھ کر باہر آنے پر مجبور کیا۔۔۔ہمارے سیاست دان اگر صرف اسی بات کا ڈھونڈورا پیٹتے رہتے ہیں کہ ترکی کے عوام نے فوجی بغاوت ناکام بنا دی اور دُنیا کو یہ پیغام دے دیا ہے کہ اب مارشل لاء یا فوج کبھی حکومت نہیں کرے گی، اِس لئے پاکستان میں بھی یہ پیغام سب کو سمجھ آ جانا چاہئے اور آئندہ کوئی غیر آئینی مداخلت کا سوچے بھی نہیں، تو یہ ایک بہت بڑی خوش فہمی ہو گی۔

ہمیں اس فرق کو ملحوظِ خاطر رکھنا پڑے گا کہ پاکستان ترکی نہیں اور پاکستان میں طیب اردوان جیسا کوئی رہنما بھی موجود نہیں، پھر سب سے بڑی بات یہ ہے کہ پاکستان میں جمہوریت عوام کو اپنے وجود کا احساس ہی نہیں دِلا سکی۔ یوں لگتا ہے جیسے جمہوریت صرف ایک لفظ ہے اور کچھ نہیں۔جہاں عوام کو جمہوریت سے وابستہ رکھنے کے لئے صرف یہ دلیل بچی ہو کہ ’’بدترین جمہوریت بھی بہترین آمریت سے اچھی ہوتی ہے‘‘ وہاں جمہوریت کو عوام کا دُکھ کیسے بنایا جا سکتا ہے؟ میرے نزدیک پاکستان کی جمہوری قوتوں کے لئے ترکی میں فوجی بغاوت کی ناکامی پر خوشی سے بغلیں بجانے کا وقت نہیں، بلکہ گریبان میں جھانکنے کا لمحہ ہے۔ کیا وجہ ہے کہ ہمارے ہاں ابھی تک جمہوریت عوامی طاقت کا سر چشمہ نہیں بن سکی۔ ہر لحظہ یہ دھڑکا کیوں لگا رہتا ہے کہ جمہوریت کی بساط کسی وقت بھی لپیٹی جا سکتی ہے؟کیا وجہ ہے کہ سیاسی قیادت اور عوام کے درمیان وہ مضبوط تعلق قائم نہیں ہو سکا، جو ترکی میں طیب اردوان اور عوام کے درمیان دیکھنے کو ملا،چند بینرز لگنے سے خوفزدہ ہو جانے والی جمہوریت ترکی کی جمہوریت کا مقابلہ کیسے کر سکتی ہے، جہاں فوج سڑکوں پر آئی،ٹینکوں نے عوام کو خوفزدہ کیا، گولیاں چلیں، میزائل برسائے گئے، مگر عوام جمہوریت کے سامنے سیسہ پلائی دیوار بن گئے۔ یہ دیوار پاکستان میں کیوں نہیں بن سکتی؟ یہ سوچنا عوام کا نہیں، سیاسی اشرافیہ کا کام ہے، کیونکہ عوام کی جمہوریت سے وابستگی ہر قسم کے شک و شبہ سے بالاتر ہے اور کئی بار اس کی آزمائش ہو چکی ہے۔

شاید ہی دُنیا میں کسی مُلک کی تاریخ ایسی ہو، جیسی پاکستان کی ہے۔دُنیا کا کون سا ایسا مُلک ہے، جس کی 70سالہ زندگی میں چار بار مارشل لاء لگا ہو اور چاروں مرتبہ عوام نے اس مارشل لاء کے خلاف مزاحمت کر کے پھر جمہوریت کو بحال کرایا ہو۔ چاروں مرتبہ مارشل لاء عوام کی خواہش یا اُن کی غفلتوں کے باعث نہیں آیا، بلکہ اس کی ذمہ داری سیاست دانوں پر عائد ہوتی ہے، جنہوں نے ایسے اسباب پیدا کر دیئے کہ فوجی آمر کو اقتدار سنبھالنے کا موقع مل گیا۔ اب اگر کوئی یہ کہتا ہے کہ چاروں مرتبہ عوام نے مارشل لاء کوخوش آمدید کہا تو وہ صریحاً غلط کہتا ہے۔ ہر آمر نے اقتدار سنبھالتے ہی سب سے پہلے عوام سے یہ وعدہ کیا کہ وہ اچھی اور ایماندار جمہوری قیادت کے لئے اصلاحات کرے گا اور اُس کے بعد ایک مدت کے بعد انتخابات کرا کر جمہوریت بحال کر دی جائے گی۔ یہ سیاست دان ہی تھے جنہوں نے آمروں کو اپنی حمایت کی بیساکھیاں فراہم کیں اور وہ اپنے وعدوں سے انحراف کر کے دس دس سال قوم پر مسلط رہے، مگر اس کے باوجود انہیں جانا پڑا، کیونکہ عوام جمہوریت کے لئے پاکستان میں ہمیشہ برسر پیکار رہے ہیں۔ کوئی عقل کا اندھا ہی یہ کہہ سکتا ہے کہ پاکستانی عوام جمہوریت کے حامی نہیں اور کسی وردی والے کی راہ دیکھتے رہتے ہیں، ایسا ہر گز نہیں ہے، ہاں البتہ اپنے جمہوری حکمرانوں میں وہ صفات نظر نہیں آتیں، جن کی وہ خواہش رکھتے ہیں۔اس باریک نکتے کو سمجھنے کی ضرورت ہے کہ جمہوریت، عوام اور حکمران کی تثلیث میں، دو کونے تو شروع دن سے ایک دوسرے کے ساتھ پوری مضبوطی سے جڑے ہوئے ہیں، تاہم تیسرا کونا، یعنی حکمران اس تکون میں پوری طرح نہیں سما سکے، وہ اپنی ترجیحات اس تکون کے مطابق نہیں ڈھال پائے اور یہ تاثر گہرا ہوتا چلا گیا کہ سیاست دان صرف ووٹ کے لئے عوام کے پاس آتے ہیں، منتخب ہونے کے بعد عوام سے اپنے راستے جدا کر لیتے ہیں۔ یوں جمہوری نمائندوں اور عوام کے درمیان جو ایک مضبوط تعلق قائم ہونا چاہئے، وہ قائم نہیں ہوتا ، جس کی وجہ سے جمہوریت بھی کمزور رہ جاتی ہے۔

ترکی میں حالیہ فوجی بغاوت کی عوام کی طاقت سے ناکامی نے دُنیا بھرکی جمہوری قوتوں کو نیا حوصلہ تو دیا ہے، مگر ہماری جمہوریت، جمہوری قیادت اور سیاسی اشرافیہ کے لئے اس میں کئی پیغام موجود ہیں۔ صرف بیان بازی سے بات نہیں بنے گی کہ عوام ہی اصل حاکم ہیں، کسی طالع آزما کو یہ جرأت نہیں ہونی چاہئے کہ وہ عوام کے حقِ اقتدار میں مداخلت کرے، لیکن یہ بیان دینے سے قبل اس بات کو یقینی بنانا ہو گا کہ واقعی عوام کو جمہوریت میں اصل حاکم سمجھ لیا گیا ہے۔ آج کی طرح نہیں کہ جس میں عوام اپنے مسائل کے لئے مارے مارے پھرتے ہیں، کوئی ایم پی اے سنتا ہے اور نہ ایم این اے، سرکاری ادارے داد رسی کرتے ہیں اور نہ کہیں انصاف ملتا ہے۔ طاقتور اور کمزور کے لئے الگ الگ قانون موجود ہے، طاقتور سیاسی اشرافیہ کا کوئی ظالم اور بدعنوان پکڑا بھی جائے تو اُسے قانون کی گرفت سے دن دیہاڑے زبردستی چھڑا لیا جاتا ہے۔ غریب کو سرعام چھتر مارے جاتے ہیں اور کوئی پوچھنے تک نہیں آتا۔ غربت، بیروز گاری، صحت و تعلیم کی عدم فراہمی، مہنگا اور مشکل انصاف، قدم قدم پر عزتِ نفس کی پامالی، ذلت و رسوائی، دوسری جانب اربوں روپے کی لوٹ مار کے قصے، پانامہ لیکس جیسے سکینڈلز، اشرافیہ کی قانون شکنی کے واقعات ایسے عوامل ہیں جو جمہوریت کو شاخِ نازک پر بنا ہوا آشیانہ بنا دیتے ہیں۔ یکطرفہ محبت تو کبھی قائم نہیں رہ سکتی، اُس میں ہمیشہ بے وفائی کا خدشہ موجود رہتا ہے۔ ہماری سیاسی اشرافیہ نے ہمیشہ عوام سے جمہوریت کے لئے یکطرفہ محبت مانگی ہے، کبھی جمہوریت کی طرف سے عوام کو محبت کا احساس نہیں دلایا۔ یہی وہ خلا ہے، جس کی وجہ سے عوام کسی ایسے نجات دہندہ کی طرف دیکھتے رہتے ہیں، جو انہیں زندگی کی مشکلات سے نجات دلائے، ایک ایسی زندگی گزارنے کا موقع دے، جو اُن کا بطور پاکستانی حق ہے۔ طیب اردوان کی کامیابی کا سبب یہی ہے کہ انہوں نے خود کو عوام سے دور نہیں رکھا۔ خود کو آسائشوں میں بند کر کے عوام کو مشکلات کی نذر نہیں کیا۔ ترکی میں جمہوریت اپنے تمام ثمرات کے ساتھ موجود ہے، جبکہ پاکستان میں جمہوریت کے ثمرات کبھی عوام تک پہنچتے ہی نہیں، بس یہی وہ فرق ہے، جسے دور کر دیا جائے تو پاکستان میں بھی حکمرانوں اور سیاست دانوں کو آئے دن یہ دہائی نہیں دینی پڑے گی کہ جمہوریت کو پٹڑی سے اتارنے کی کوشش جاری ہے، کیونکہ پھر خود عوام اس کی حفاظت کے لئے کمر بستہ ہو جائیں گے۔

مزید : کالم