اردو کالم نگاری کو نئی فیلڈز کی تلاش کی ضرورت ہے!

اردو کالم نگاری کو نئی فیلڈز کی تلاش کی ضرورت ہے!
اردو کالم نگاری کو نئی فیلڈز کی تلاش کی ضرورت ہے!

  

کالم نگاری ایک ہمہ جہتی اور سنجیدہ سرگرمی ہے۔ ایسا نہیں ہوتا کہ آپ قلم پکڑتے ہیں اور لکھنا شروع کر دیتے ہیں اور ایک آدھ گھنٹے کے بعد جب قلم روکتے ہیں تو کالم مکمل ہو چکا ہوتا ہے۔۔۔ کالم نگاری کے میدان میں ایسا کرنا ایک غیر سنجیدہ اور غیر ذمہ دارانہ حرکت شمارکی جاتی ہے۔ آپ کے قاری کا ذوقِ مطالعہ مختلف النوع اور کثیرالاطراف ہوتا ہے۔ اس میں معاشرے کا ہر طبقہ شامل ہے۔ اردو چونکہ ہماری ہماری قومی زبان ہے اور از روئے قانون اب سرکاری زبان بھی بن چکی ہے، اس لئے ہر لکھا پڑھا قاری یہ زبان سمجھتا ہے۔ دوسری بڑی بات یہ ہے کہ ہم پاکستانی اردو ہی میں سوچتے ہیں (خواہ ہماری مادری زبان کوئی بھی ہو پھر بھی سوچ کی تان اردو پر ہی جا کر ٹوٹتی ہے) اور جہاں تک لکھنے کا تعلق ہے تو ضروری نہیں کہ اردو کا ہی سہارا لیں۔ ہم انگریزی میں بھی لکھ سکتے ہیں (اور لکھتے ہیں) بہت سے کالم نگار حضرات اردو اور انگریزی دونوں زبانوں میں یکساں روانی اور فصاحت سے لکھ رہے ہیں۔ لیکن ہمارے 80،90 فیصد قارئین کا حلقہ وہ ہے جو اردو کے کالموں کا قاری ہے۔ انگریزی زبان میں چند موضوعات پر اظہارِ خیالات کا سکوپ بمقابلہ اردو وسیع ہے۔ لیکن ایسے بھی موضوعات ہیں جن پر اردو زبان میں بھی لکھنا اور قاری کو سمجھانا آسان کام نہیں ۔

میں ایک عرصے سے انگریزی اور اردو زبان کے کالموں کا قاری ہوں اور سمجھتا ہوں کہ موضوعات کا تنوّع اَن گنت ہے اور اس کی کوئی حدود متعین نہیں کی جا سکتیں۔ ان موضوعات کو اگر قومی اہمیت کے تناظر میں درجہ بند کرنا ہو اس کی ایک سرسری سی فہرست کچھ اس طرح ہوگی۔۔۔ (1) تجارتی / کمرشل/ صنعتی/ حرفتی موضوعات ۔۔۔ (2) زرعی موضوعات ۔۔۔(3) مالیاتی / معیشی/ مالی/ اقتصادی موضوعات ۔۔۔(4) جغرافیائی اور جیو سٹرٹیجک موضوعات ۔۔۔(5) تاریخی موضوعات۔۔۔(6) سیاسی موضوعات۔۔۔ (7) صحافتی/ میڈیائی موضوعات ۔۔۔(8) عسکری موضوعات ۔۔۔(9) روحانی / اخلاقی/ وجدانی موضوعات ۔۔۔(10) صحتِ عامہ کے موضوعات۔۔۔ (11) سائنسی اور ٹیکنالوجیکل موضوعات۔۔۔ (12) ادبی موضوعات۔۔۔ (13) ثقافتی موضوعات ۔۔۔(14) سفارتی/ خارجہ پالیسی وغیرہ کے موضوعات۔۔۔ (15) سیاحتی موضوعات۔۔۔(16) مذہبی موضوعات جن میں شریعت، طریقت، فقہ سب شامل ہیں۔۔۔(17)قانونی/ عدالتی موضوعات۔۔۔ (18)۔ تعلیمی موضوعات ۔۔۔اور متفرق موضوعات وغیرہ۔

ہمارا قاری جن موضوعات کا عادی ہے یا عادی بنا دیا گیا ہے ان میں سرفہرست حالاتِ حاضرہ اور سیاست سے متعلق موضوعات ہیں۔ لکھنے والوں کی ایک بڑی اکثریت انہی موضوعات پر قلم اٹھانا پسند کرتی ہے۔ بظاہر اس کی وجوہات بہت سادہ ہیں یعنی چونکہ یہ موضوعات ہماری روزمرہ معاشرتی اور سماجی زندگی کے عکاس موضوعات بھی ہیں اس لئے ان پر لکھنا زیادہ سہل اور آسان ہوتا ہے، تحقیق و جستجو کی کاوش نہیں کرنا پڑتی، دماغ پر زیادہ زور نہیں ڈالنا پڑتا اور صرف زباندانی کا سہارا لے کر پہلی سے آخری سطر تک کام چلا لیا جاتا ہے۔

حالاتِ حاضرہ کو بھی تین اقسام میں تقسیم کیا جا سکتا ہے یعنی مقامی، علاقائی اور گلوبل۔۔۔ ان کی اہمیت بھی اسی ترتیب سے ہے۔ یعنی مقامی حالات پر لکھنا آسان، علاقائی پر کم آسان اور گلوبل پر بہت کم آسان ہوتا ہے۔ وجہ یہ ہوتی ہے کہ مقامی واقعات تو آپ کے سامنے رونما ہو رہے ہوتے ہیں، آپ ان کے ناظر اور تماشائی ہوتے ہیں۔ اس لئے ان کو بیان کرنا اور احاطہ ء تحریر میں لانا کوئی اتنا مشکل کام نہیں ہوتا جبکہ علاقائی معاملات پر قلم اٹھانے کے لئے دماغ اور ذہن کے افق کو کچھ وسیع کرنا پڑتا ہے اور گلوبل یا بین الاقوامی حالاتِ حاضرہ کے لئے تو ضروری ہے کہ آپ نہ صرف انگریزی زبان سے آگہی رکھتے ہوں بلکہ ایسے انگریزی اسلوبِ نگارش سے بھی واقف ہوں جس میں یہ موضوعات بین الاقوامی میڈیا میں تواتر سے ڈسکس ہوتے رہتے ہیں۔

دنیا کے مشہور اخبارات اور ٹی وی چینل سب کے سب ایسی زبان میں شائع/ نشر ہوتے ہیں کہ جب تک انگریزی سے خاصی آشنائی نہ ہو، آپ ان کو کماحقہ ہضم نہیں کر سکتے۔ ان موضوعات کا تنوّع قابلِ رشک ہے۔ ان میں لکھنے، بولنے اور کام کرنے والی صحافی خواتین و حضرات، پروفیشنلزم کا کامل نمونہ ہوتے ہیں۔ آپ ان کی آراء سے اختلاف تو کر سکتے ہیں اور ان کے نقطہ ء نظر کوبھی مبنی پر تعصب کہہ سکتے ہیں لیکن ان کے استدلال کو رد کرنے کے لئے زیرِ بحث موضوع کے پہاڑ کی ریورس سلوپ سے بھی آپ کی آشنائی ضروری ہے۔ گلوبل یا بین الاقوامی حالاتِ حاضرہ کا کوئی بھی ناقد جب تک پہاڑ کی دونوں ڈھلانوں (فرنٹ اور ریورس)سے آگہی نہیں رکھے گا، وہ کالم نگار کے استدلال کے دریائے معانی کی الٹی سمت نہیں تیر سکے گا۔۔۔ ظاہر ہے یہ کام ریاضت،محنت، مطالعہ اور مشاہدہ کی گہری شناسائیوں کا تقاضا کرتا ہے۔

بعض تخصیصی موضوعات پر قلم اٹھانا اس وقت تک ممکن نہیں ہوتا جب تک آپ خود اس موضوع سے متعلق نہ رہے ہوں۔ مثلاً زرعی، میڈیکل، مالیاتی، کمرشل، مذہبی، عسکری، ادبی اور صحافتی موضوعات، سپیشلسٹ موضوعات کی صف میں شمار ہوتے ہیں۔ ان میں جن لوگوں نے اپنی ایک عمر بسر کی ہوتی ہے، وہی ان پر لکھنے کا بہتر حق ادا کرسکتے ہیں۔ کوئی دوسرا ان پر لکھنے کی کوشش کرے گا تو صاحبِ تخصّص کی شدید تنقید کا ہدف بھی بن سکتا ہے۔ البتہ بعض خوش نصیب قارئین ایسے بھی ہوتے ہیں کہ وہ مختلف اور ہمہ جہتی موضوعات کو پڑھتے پڑھتے ہر فن مولا بن جاتے ہیں۔ لیکن یہ مقام ذاتی ذوق و شوق کا حاصل ہے اور ایسا سہل الحصول بھی نہیں۔

کسی بھی زبان میں کالم نگاری کے لئے موضوعاتِ زیر بحث کے لئے مختلف اصطلاحات کی تفہیم نہ صرف کالم نویس کے لئے لازم ہوتی ہے بلکہ قاری کو بھی یہی مسئلہ درپیش ہوتا ہے۔ لکھاری اور قاری جب تک ایک صفحے پر نہیں ہوں گے، تفہیم ممکن نہیں ہوگی۔لیکن خصوصی اور تخصیصی موضوعات پر کالم لکھنے والوں کو یہ خیال رکھنا چاہیے کہ وہ اپنی تحریر میں جن جن اصطلاحوں، محاوروں اور روزمرہ کو استعمال کر رہے ہیں وہ متوسط فہم و تجربہ کے حامل قاری کے پلے بھی پڑ رہے ہیں یا نہیں۔ اگر کوئی مقرر، پاکستان میں فلموں کے زوال پر تقریر کر رہا ہو تو جب تک سامع نے بہت سی پرانی، متوسط عہد کی اور جدید دور کی اردو/ پنجابی فلموں کے ارتقائی دور کا بالاالتزام مطالعہ اور مشاہدہ نہیں کیا ہوگا وہ مقرر کے بیان کردہ نکات و اشارات کو سمجھ نہیں سکے گا۔اس کا ایک علاج یہ ہے کہ اگر ان خصوصی موضوعات پر لکھنے والے حضرات خصوصی اصطلاحات کی تشریح و تعبیر بھی ساتھ ساتھ کرتے جائیں تو پھر پڑھنے والے کو کوئی مشکل پیش نہیں آئے گی۔ خود میں نے عسکری مضامین و موضوعات کو بیان کرتے وقت اس قاعدے کلیئے سے کام لیا ہے اور ناکام نہیں ہوا ہوں۔ ایسا کرتے ہوئے میں نے ہمیشہ ان قارئین سے پیشگی معذرت کرلی جو پیشہ ء سپاہگری سے خود منسلک رہے ہوتے ہیں۔ چونکہ پریس میڈیا کے بیشتر قارئین کسی سپیشل فیلڈ کی فنی معلومات سے آشنا نہیں ہوتے اس لئے اس کی وہ اصطلاحات جو اس سپیشل فیلڈ میں عام مستعمل ہوتی ہیں اور آسان سمجھی جاتی ہیں، وہ عام اور آسان نہیں ہوتیں۔

آج کے اردو زبان کے کالم نگار کو انٹرنیٹ نے جن سہولتوں اور پروفیشنل ضرورتوں کی تکمیل سے لیس کر دیا ہے، وہ قابلِ رشک ہیں۔ اگرچہ اردو زبان میں بھی اب ذرائع ابلاغ کی انٹرنیٹ سہولیات عام ہو رہی ہیں لیکن اولیت پھر بھی انگریزی کو حاصل ہے۔ (اور رہے گی) آج کے پرنٹ میڈیا کا ایڈیٹر لمحہ لمحہ کی خبروں سے آشنا ہوتا ہے۔ جب وہ آدھی رات کو دفتر سے نکل کر گھر جاتا ہے تو اس کو معلوم ہوتا ہے کہ اس نے اپنے اخبار کے صفحہ ء اول پر جو لیڈ اور سپر لیڈ لگائی ہیں وہ تازہ ترین اور اہم ترین ہیں۔ یہ تازگی اور یہ اہمیت البتہ اخبار کے اپنے سیاسی مزاج کے مطابق بھی ہوتی ہے۔یہی دو سرخیاں وہ بیرومیٹر بھی ہیں جو پڑھنے والے کو اخبار کے سیاسی اور کاروباری رجحانات و میلانات کا سراغ دیتی ہیں۔

آج کے اردو زبان کے کالم نگار کو ایک فائدہ یہ بھی ہے کہ الیکٹرانک میڈیا نے نیم خواندہ اور ان پڑھ ناظرین و سامعین کو بھی سیاسی حالاتِ حاضرہ سے بڑی حد تک باخبرکر دیا ہے۔ کالم نگار کو اس طبقے کی ان صلاحیتوں سے بھی فائدہ اٹھانا چاہیے اور اپنی تحریر کی ڈِکشن کو اتنا بوجھل نہیں بنانا چاہیے کہ وہ طبقہ اس کی تفہیم سے بالکل ہی بے بہرہ رہے۔

سپیشل موضوعات کو کامن زبان میں بیان کرنا، کالم نگاروں کے لئے ایک بڑا چیلنج ہے۔قارئین کو ایسے موضوعات سے آگہی دینا جو قبل ازیں اردو زبان کی دسترس میں نہیں تھے، ایک قومی مشن اور کارِ ثواب بھی ہے۔ ان خصوصی موضوعات میں ، کمرشل سائنسی اور عسکری موضوعات شامل ہیں۔ کمرشل موضوعات کی آگہی اس لئے ضروری ہے کہ اس سے ہماری معیشت کے معماروں کے ذہنی آفاق زیادہ وسیع ہو جاتے ہیں۔ مثلاً ایک کارخانہ دار اگر بجلی کے پنکھے بنا رہا ہے تو کسی کالم نگار کو جدید اقوام کی پنکھا سازی کی صنعت کی تکنیکی اور پروفیشنل خوبیوں کو بھی اپنے کالم کا موضوع بنانا چاہیے تاکہ وہ کارخانہ دار یا اس کی نئی نسل خوب سے خوب تر کی تلاش کی طرف متوجہ ہو سکے۔۔۔ اسی طرح سائنسی موضوعات اور ٹیکنالوجیکل موضوعات ہرچند اردو زبان میں بیان کرنا آسان نہیں لیکن اگر کوئی سائنس دان اور ٹیکنالوجی کا ماہر قومی امنگوں سے سرشار ہو تو اس کا حل نکال ہی لیتا ہے۔

ہمارے ہاں دفاعی پیداوار کے ادارے حکومتی کنٹرول میں ہیں۔ ہمارا ہمسایہ بھارت ایک عرصہ ء دراز سے خانہ ساز (Indigenous) آلات و اسلحہ جات کی پروڈکشن کی کوشش کر رہا ہے جس میں نجی شعبے کو بھی دعوت دی گئی ہے اور Made In Indiaکے نعرے میں مزید گونج پیدا کی جا رہی ہے۔ ترقی یافتہ ممالک میں یہ شعبہ اتنا آگے بڑھ چکا ہے اور ہم اس سے اتنے کٹے ہوئے ہیں کہ ان کا اور ہمارا کوئی مقابلہ ہی نہیں۔ مثلاً ڈرون سازی ایک نئی کمرشل فیلڈ بن رہی ہے۔ ترقی یافتہ ممالک میں گزشتہ ایک دو عشروں سے اس میں نجی شعبے نے یہاں تک ترقی کرلی ہے کہ حکومتی شعبے اس سے بہت پیچھے رہ گئے ہیں۔ ڈرونوں کا استعمال صرف دفاعی فیلڈ ہی میں نہیں بلکہ بہت سے غیر دفاعی شعبوں میں بھی عام ہوتا جا رہا ہے۔ ہمارے اردو اور انگریزی زبان کے کالم نگاروں کو ان جیسے موضوعات پر لکھ کر سرمایہ کاروں کو اس طرف متوجہ کرنا چاہیے۔

مغربی ممالک میں مختلف شعبوں میں ایسے لکھاریوں کی کمی نہیں جو ان جدید پراجیکٹوں/ منصوبوں کی تفاصیل،ان کی راہ میں حائل مشکلات اور ان کے حل پر سیر حاصل تبصرے کرتے ہیں۔ ہمارے پریس میڈیا میں بھی کالم نگار حضرات کو دقیانوسی، روائتی اور بار بار کی چبائی ہوئی فیلڈز سے ہٹ کر ایسے میدانوں کا رخ کرنا چاہیے جو ایک عرصے سے ترقی یافتہ ممالک کے ذرائع ابلاغ کا حصہ بن چکے ہیں۔

مزید : کالم