قندیل بلوچ کا قتل! اخلاقی پہلو

قندیل بلوچ کا قتل! اخلاقی پہلو

سکینڈل کوئین قندیل بلوچ قتل کر دی گئی، اس کے والد کے مطابق یہ قتل اس کے بیٹے اور قندیل کے بھائی نے کیا اور مقتولہ کو گلا دبا کر مارا گیا، خود کو بہادر، دبنگ، بے خوف اور مُنہ پھٹ کہنے والی اپنے اس بھائی سے نہ بچ سکی جو اس کی کمائی پر پلتا تھا، نظر بظاہر یہ معاملہ ’’غیرت‘‘ کا بتایا گیا، لیکن تفتیش کے بعد ہی صحیح حالات سامنے آئیں گے ابھی تو باپ مدعی اور بیٹا ملزم ہے۔ قندیل بلوچ نے ہمارے الیکٹرونک میڈیا کی مہربانی سے بہت تھوڑے وقت میں بڑی شہرت پائی۔ ہمارے میڈیا نے اخلاقیات کے ہر پہلو کو نظر انداز کر کے اس کی ایسی ایسی گفتگو بھی نشر کی جو لوگ اپنے گھر میں بھی سننا پسند نہیں کرتے اگر متعلقہ رپورٹر اور اینکر حضرات خود اپنے گھر والوں کے تاثرات جان لیتے تو شاید رک جاتے اور قندیل کچھ دیر اور زندہ رہ جاتی۔ اگرچہ ہمارے عقیدے کے مطابق ایسا ممکن نہیں کہ موت کا بہرحال وقت معین ہے۔ہمارے میڈیا کا یہ بھی کمال ہے کہ صبح سے ترکی میں انقلاب کی خبر چل رہی تھی، جو قندیل بلوچ کے قتل کی خبر بریک ہوئی۔ ترکی ایک طرف، ہر چینل پر پھر ایک بار قندیل بلوچ چھا گئی۔ پہلے زندہ اور سلفیاں بناتے اور اب مبینہ طور پر بھائی کے ہاتھوں مقتولہ ہوتے ہوئے۔ قندیل بلوچ کے قتل پر اظہارِ افسوس ہی کیا جا سکتا ہے، لیکن اس میں ایک نصیحت کا پہلو بھی ہے کہ کسی بُرے کام کا انجام اچھا نہیں ہوتا،قندیل خود کو بولڈ اور بہادر کہہ کر جو شوخیاں کرتی پھرتی تھی وہ اخلاق کے ضابطہ کے مطابق تو نہیں تھیں اور نہ ہی میڈیا نے اِس پہلو پر غور کیا۔ یہاں تو شاید ریٹنگ کا مسئلہ ہے۔ اس واردات کے سارے پہلو سامنے آ ہی جائیں گے۔ہمیں تو آج کی نوجوان نسل اور اپنے الیکٹرونک میڈیا کے بھائیوں سے کہنا ہے کہ ہر مسئلے پر اخلاقی پہلو سے بھی دیکھ لیا کریں،کیا ضروری ہے کہ قندیل جیسے کرداروں کو گھر گھر متعارف کرا کے نوجوان نسل کے لئے بھی بری مثال پیدا کی جائے۔

مزید : اداریہ

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...