کشن گنگا، ریٹلے ہائیڈرو پاور پروجیکٹ کیلئے عالمی عدالت سے رجوع!

کشن گنگا، ریٹلے ہائیڈرو پاور پروجیکٹ کیلئے عالمی عدالت سے رجوع!

پاکستان اور بھارت کے درمیان کشن گنگا ڈیم اور ریٹلے پاور پلانٹ پر ہونے والے مذاکرات ناکام ہو گئے اور پاکستان نے بھارت کی ہٹ دھرمی کے خلاف عالمی عدالت کی ثالثی کونسل سے رجوع کرنے کا فیصلہ کیا ہے جو سندھ طاس معاہدہ ہی کے تحت ہو گا کہ اس معاہدہ کو عالمی حیثیت حاصل ہے، جہاں تک بھارت کے ساتھ مذاکرات کا تعلق ہے تو یہ امر ثابت شدہ ہے کہ ایسے مذاکرات کبھی کامیاب نہیں ہوئے کہ بھارت ہر مسئلے اور ہر تنازع پر ڈھیٹ پن کا ثبوت دیتا ہے اور جہاں تک بھارت کی طرف سے آبی جارحیت کا تعلق ہے تو یہ عرصہ سے جاری ہے۔بد قسمتی سے بھارت کو جو فوقیت حاصل ہے ایک تو کشمیر پر غاصبانہ قبضے کی وجہ سے کہ ہمارے دریاؤں کے منابع وہاں ہیں، ماسوا سندھ کے تمام دریا وہیں سے نکلتے ہیں۔ یہ بھی افسوسناک حقیقت ہے کہ سندھ طاس معاہدے کے تحت پاکستان نے نہ صرف ستلج اور راوی کے پانی پر بھارت کا حق تسلیم کیا، بلکہ جہلم اور چناب کے بارے میں بھی صراحت نہ کرائی گئی۔ اب بھارت نے جہاں ستلج اور راوی کے پانی پر قبضہ جما رکھا ہے وہاں وہ چناب اور جہلم کے بہاؤ پر ڈیم اورپن بجلی گھر بنا کر پانی روک رہا ہے جو اصولاً اسے نہیں کرنا چاہئے۔ تاہم اس میں ہمارے حکام کی غفلت بھی ہے کہ مسئلہ کو اس وقت نہیں اُٹھایا گیا جب بھارت نے کام شروع کیا اورپھر عالمی عدالت سے رجوع کرنے تک بھی بھارت نے تاخیر کرا لی اس عرصہ میں تعمیرات مکمل ہو چکی ہیں، اب تو یہ احساس ہوتا ہے کہ شاید کشمیری نوجوانوں کی قربانیاں اور خون رنگ لے آئے اور وہ آزادی حاصل کر لیں تو پانی کا یہ ذریعہ محفوظ ہو جائے۔ ویسے عالمی عدالت کی ثالثی کونسل کا فیصلہ پاکستان کے حق میں بھی ہوا تو عمل کون کرائے گا؟ یوں بھی ثالثی کونسل کا کام فیصلہ دینا ہے، عمل کے لئے تو اقوام متحدہ ہی کا فورم ہے جو پہلے ہی ناکام ہے۔

مزید : اداریہ