نئے تُرکی کا نیا طیب اردوان

نئے تُرکی کا نیا طیب اردوان

ترک قوم نے اپنے جذبۂ جمہوریت کے ذریعے اپنے مُلک میں فوجی بغاوت کی کوشش ناکام بنا دی ہے، عوام ایسے وقت میں جانوں کی پروا کئے بغیر، صدر طیب اردوان کی اپیل پر سڑکوں پر نکل آئے، جب صورتِ حال واضح نہیں تھی، کسی کو کچھ معلوم نہ تھا کہ بغاوت کا نتیجہ کیا نکلنے والا ہے، باغی فوجی صدر طیب اردوان کے بہت قریب پہنچ گئے تھے اور عین ممکن تھا کہ وہ عوام کے پہنچنے سے پہلے پہلے صدر کو حراست میں لے کر اُن کے بارے میں کوئی ایسا جذباتی فیصلہ کر دیتے جس کا ازالہ ممکن نہ ہوتا اور جس کا نتیجہ کچھ بھی برآمد ہو سکتا تھا۔ ایسی صورت میں تاریخ ایک دوسرا موڑ مڑ جاتی تاہم جب عوام تک طیب اردوان کی آواز پہنچ گئی اور مساجد سے اذانیں دی جانے لگیں جو مصیبت کی گھڑی کا اشارہ تھا تو عوام نے اپنے رہنما کی آواز پر لبیک کہنے میں دیر نہیں لگائی اور لمحوں میں اپنا مضبوط ردعمل اِس انداز میں ظاہر کر دیا کہ پانسہ باغیوں کے خلاف پلٹ گیا، فوج کے جن لوگوں نے بغاوت کی تھی اُن کے ارادے کیا تھے اور کیا ہونے چاہئے تھے اِس بارے میں تو کوئی ابہام نہیں، وہ ہتھیار بند بھی تھے۔ ایک تصویر میں عوام ایک باغی فوجی پر قابو پانے کے بعد پتلون کے ساتھ پہنی جانے والی بیلٹ اُتار کر اُسے پیٹتے دکھائے گئے ہیں، جس سے ثابت ہوتا ہے کہ عوام کسی تیاری اور کسی متوقع مقابلے کے احساس کے بغیر محض لیڈر کی کال پر باہر نکل کھڑے ہوئے تھے،انہیں جس چیز نے فتح دلائی اُسے جذبے کے سوا کوئی نام نہیں دیا جا سکتا، کیونکہ وہ ٹینکوں کے مقابلے خالی ہاتھ گھروں سے نکلے تھے ورنہ کم از کم ڈنڈے سوٹے تو اُٹھائے ہی جا سکتے تھے۔

اِس میں شک نہیں کہ طیب اردوان تسلسل کے ساتھ الیکشن جیتنے کے بعد ایک مضبوط لیڈر کے طور پر اُبھرے ہیں اور مُلک میں اُن کے حامیوں اور پیرو کاروں کا ایک وسیع حلقہ ہے تاہم اُن کے مخالفین کی بھی کمی نہیں اور مخالفین بھی وہ ہیں جو اُن کے خلاف پُرتشدد مظاہرے کر کے اپنی قوت کا اظہار بھی کر چکے ہیں اور اُن کے خلاف اپنے جذبات کے اظہار کا موقع بھی ضائع نہیں کرتے تاہم ایسا محسوس ہوتا ہے کہ فوجی بغاوت کی خبر پا کر اردوان کی اپیل پر جو لوگ سڑکوں پر آئے اُن میں اُن کی مخالف سیاسی جماعتوں کے لوگ بھی تھے،جنہوں نے جمہوریت اور جمہوری نظام کے حق میں اپنا کردار ادا کیا، وہ اردوان کے حامی نہ بھیہوں جمہوری نظام کے حامی ضرور ہیں اور سیاست میں فوج کی مداخلت پسند نہیں کرتے۔ معروضی حالات میں یہ بات آسانی سے کہی جا سکتی ہے کہ طیب اردوان کے حامیوں اور مخالفوں نے مل کر جمہوریت کو بچانے میں اپنا تاریخی کردار ادا کیا ہے۔

ترکی کامیاب فوجی بغاوتوں کی ’’شاندار‘‘ تاریخ رکھتا ہے، ترک فوج جمہوری حکومتوں کا تختہ کامیابی سے اُلٹتی رہی ہے اور کم از کم چار بار ایسا ہوا، ایک وزیراعظم کو معزول کر کے تختۂ دار پر بھی لٹکایا گیا، فوجی حکومتوں کے دوران سیاسی جماعتوں پر پابندی بھی لگائی گئی، جب بیسویں صدی ختم ہو رہی تھی اور چند برس بعد نہ صرف نئی صدی، بلکہ نیا ہزاریہ بھی شروع ہونے والا تھا، ترک فوج نے نجم الدین اربکان کی حکومت کا تختہ اُلٹ دیا، کیونکہ فوج کے بقول وہ سیکولر روایات سے انحراف کر رہے تھے۔ اربکان کو صرف حکومت سے ہی محروم نہیں کیا گیا، بلکہ اُن کی سیاسی جماعت پر بھی پابندی لگا دی گئی، اِس معاملے میں عدلیہ بھی فوج کے ساتھ کھڑی نظر آئی۔ اِن دونوں اداروں نے مل کر سیاست دان نجم الدین اربکان کو حکومت اور سیاست دونوں سے دیس نکالا دے دیا۔ ویلفیئر پارٹی تحلیل ہوئی تو عبداللہ گل (سابق صدر) اور رجب طیب اردوان نے مل کر اس جماعت کے ملبے پر نئی جماعت جسٹس اینڈ ڈویلپمنٹ پارٹی کی نیو اٹھائی جو چند ہی برس میں اس قابل ہو گئی کہ الیکشن جیت کر برسرِ اقتدار آ گئی اور طیب اردوان اسی جماعت کی کامیابیوں کو آگے بڑھا رہے ہیں۔

سیاست میں دوستیاں اور دشمنیاں مستقل نہیں ہوتیں جو لوگ سیاسی سفر کی ابتدا میں طیب اردوان کے ساتھ تھے اب نہ صرف اُن کے مخالف ہیں،بلکہ اگر یہ بات درست ہے کہ ناکام بغاوت میں حصہ لینے والے فوجی امریکہ میں مقیم عالمِ دین فتح اللہ گولن کی تعلیمات سے متاثر تھے تو اردوان کے اس الزام میں وزن ہو سکتا ہے کہ گولن نے اُن کی حکومت کا تختہ اُلٹنے کی کوشش کی، جبکہ گولن کہتے ہیں کہ وہ فوجی بغاوت کے ذریعے حکومت بدلنے کی کوششوں کے خلاف ہیں تاہم بغاوت میں مبینہ کردار کی بنیاد ہی پر اردوان نے امریکہ سے گولن کی حوالگی ، یا پھر اُن پر امریکہ میں مقدمہ چلانے کا مطالبہ کیا ہے تاہم امریکہ کے وزیر خارجہ جان کیری کا کہنا ہے کہ ترکی حکومت کے پاس اگر گولن کے خلاف شواہد موجود ہیں تو امریکہ کے حوالے کر دے۔ گولن بغاوت میں ملوث نہ بھی ہوں تو بھی وہ اردوان کے مخالف کیمپ میں تو کھڑے ہیں اور انہیں ہٹلر کہہ کر پکارتے ہیں اِسی طرح اور بھی بہت سے رہنما طیب اردوان کے طرزِ حکومت سے خوش نہیں ہیں اور انہیں آمرانہ ہتھکنڈے اختیار کرنے کا الزام دیتے ہیں۔

ناکام بغاوت کے بعد جیسا کہ دُنیا بھر کا معمول ہے باغیوں کو سزائیں دی جاتی ہیں اِس لئے اگر ترکی میں ان لوگوں کو سزائیں دینے کا سلسلہ شروع کر دیا جاتا ہے تو یہ کوئی حیرت کی بات نہیں ہو گی، عین ممکن ہے کہ سزاؤں کا یہ سلسلہ زیادہ سنگین بھی ہو جائے تاہم اگر طیب اردوان اعتدال کی راہ اپناتے ہیں اور باغیوں کو جہاں تک ممکن ہو سکتا ہے معاف کرنے کا راستہ اختیارکرتے ہیں تو اُن کی مقبولیت میں اضافہ ہو سکتا ہے اور ناکام بغاوت کے بعد وہ ایک نئے طیب اردوان کے روپ میں جلوہ گر ہو سکتے ہیں وہ اگر مخالفوں کے ساتھ نرم رویہ اختیار کریں گے،تو اُن کی مقبولیت بڑھے گی اور سیاست میں اِس وقت جو لوگ اُن کی مخالفت پر کمر بستہ ہیں عین ممکن ہے وہ اُن کے اس طرزِ عمل سے متاثر ہو کر اُن کے ساتھی بن جائیں، جو تین ہزار فوجی گرفتار ہوئے ہیں ظاہر ہے ان سب کو تو مصلوب نہیں کیا جا سکتا، نہ دُنیا میں کبھی ایسا ہوا ہے۔ البتہ عفو و درگزر کا راستہ اختیار کر کے رجب طیب اردوان ترکی میں تاریخ کے ایک اور روشن باب کا اضافہ کر سکتے ہیں۔عوام نے اپنے حصے کا صفحہ اپنے لہو سے لکھ دیا اور اب اُن کے لیڈر کی باری ہے جو حکمت و تدّبر کا مظاہرہ کر کے مخالفین کے دل جیت سکتے ہیں۔

طیب اردوان اس وقت ایک ایسے نئے ترکی کے صدر ہیں جس کا روشن جمہوری چہرہ اِس سے پہلے دُنیا نے اِس انداز میں کبھی نہیں دیکھا تھا۔دُنیا ترکی میں فوجی بغاوتوں سے تو خوب واقف تھی، لیکن یہ تصور نہیں رکھتی تھی کہ ترک عوام ٹینکوں کے سامنے بھی لیٹ سکتے ہیں اور ٹینکوں میں نصب توپوں کا رُخ موڑ سکتے ہیں، ترکی میں یہ پہلی دفعہ ہوا ہے اور اسے سیاسی تاریخ کا کرشمہ ہی قرار دیا جائے گا۔ طیب اردوان اس کرشمہ ساز قوم کے نئے لیڈر ہیں انہیں بھی کچھ نیا کر کے دکھانا ہو گا، کیا ہی اچھا ہو کہ وہ اپنے اوپر لگنے والے آمرانہ طرزِ عمل کے الزام کو اپنے ہاتھوں سے دھو ڈالیں اور ایک ایسے اردوان کے روپ میں سامنے آئیں جو دشمنیاں نہیں دوستیاں بنانے کا ہنر جانتا ہو، وہ اس نئے طرزِ عمل کے ذریعے ’’دِل بدست آور کہ حجِ اکبر است‘‘ کا مظاہرہ کریں تو اُن پر یہ مصرع بھی صادق آئے گا۔

]جو دِلوں کو فتح کر لے وہی فاتحِ زمانہ[

مزید : اداریہ