کیا ہم جامع معاشی پالیسیاں ترتیب دے کر ملک کو ترقی یافتہ ممالک کی صف میں کھڑا نہیں کر سکتے؟

کیا ہم جامع معاشی پالیسیاں ترتیب دے کر ملک کو ترقی یافتہ ممالک کی صف میں ...

اسد اقبال

بد قسمتی سے جمہوری عمل میں عدم تسلسل ، سیاست دانوں کے ذاتی مفادات اور ملک پاکستان سے محبت نہ کر نے والے حکمرانوں کی بدولت جہاں ملکی معیشت کاپہیہ تر قی کی پٹری پر رواں نہ ہو سکا ہے وہیں عوام خوشحالی کی زندگی سے دور مہنگائی کے چنگل میں پھنس چکے ہیں جس کی وجہ اپنوں ہی کی سستی، نااہلی، خودغرضی اور مفاد پرست رویے کی بدولت پیارا وطن نصف صدی سے بھی ایک عشرہ زائد گزر جانے کے باوجودآج تک تیسری دنیا یعنی ترقی پذیر ممالک کی صف میں کھڑا ہے۔ جو حالات نظر آرہے ہیں اُن کے پیشِ نظر اِس صف میں سے نکل کر ترقی یافتہ ممالک کی صف میں شامل ہونے کا دور دور تک کوئی امکان نہیں ہے۔ ہماری بد قسمتی ہے کہ قائد اعظم محمد علی جناح قیامِ پاکستان کے بعد زیادہ دیر تک حیات نہیں رہے۔ انہیں اجل نے اسقدر مہلت نہیں دی کہ وہ اِس نوزائیدہ ریاست کی بنیادوں کو اس قدر مضبوط کردیں جس پر ایک ترقی یافتہ ملک کی عمارت کھڑی ہوسکے جبکہ اُن کے بعد حقیقی معنوں میں وطن کو کوئی ایسی قیادت نصیب نہیں ہوئی جو اُن کے افکار کی روشنی میں عوام کی فلاح و بہبود اور ملک کی ترقی کے لیے ٹھوس اقدامات کرتی۔ آج اگرچہ سیاسی بازیگر اور معاشی جادوگر اپنی خامیوں کو بھی خوبیاں، برائیوں کو بھی اچھائیاں اور ناکامیوں کو بھی کامیابیاں قرار دینے پر تلے ہوئے ہیں لیکن حقیقی صورتحال قطعاً مختلف ہے۔ سب سے بڑا شعبہ ٹیکسٹائل جس قدر زبوں حالی کا شکار آج ہے اتنا پہلے کبھی نہ تھا، ٹیکسٹائل کی عالمی منڈی میں ہمارے ہی وجود میں سے جنم لینے والا بنگلہ دیش آج سینہ ٹھونک کر ہمارے سامنے آن کھڑا ہوا ہے، صرف لاہور کی دو تہائی ٹیکسٹائل انڈسٹری بند ہوچکی ہے، ہزاروں افراد بے روزگار ہوئے ہیں جبکہ حکومت سب کچھ قطعی طور پرنظر انداز کرکے برآمدی ہدف پورا نہ ہونے کے باوجود اِسے اپنی تاریخی کامیابی قرار دے رہی ہے جو صنعتکاروں، خاص کر ٹیکسٹائل کے شعبہ سے وابستہ افراد کے زخموں پر نمک چھڑکنے کے مترادف ہے۔ سب سے بڑی جس "کامیابی" کا ڈھنڈھورا پیٹا جارہا ہے وہ یہ کہ ہمارے زرِ مبادلہ کے ذخائر پندرہ ارب ڈالر تک جاپہنچے ہیں لیکن عوام کو یہ خوشبخری سناتے ہوئے کبھی یہ بتانے کی زحمت نہیں کی گئی کہ ملک پر بیرونی قرضوں کا بوجھ کس قدر بڑھ گیا ہے۔

کامیابی و کامرانی اُن ہی کا مقدر بنتی ہے جو کامیابی کی خواہش رکھتے ہیں اور دوسروں کی کامیابیوں سے سبق حاصل کرتے ہیں۔ اِس ضمن میں ہمارے سامنے سب سے روشن مثال ملائشیا کی ہے جس نے حیرت انگیز معاشی ترقی کی ہے۔ ملائیشیا آج ترقی کی جو منازل طے کررہا ہے وہ ڈاکٹر مہاتیر محمد کی انتہائی موثراور حقائق پر مبنی معاشی پالیسیوں کی مرہون منت ہے۔ انہوں نے برسرِ اقتدار آنے کے کچھ عرصہ بعد یہ لازمی قرار دیا کہ جس غیر ملکی فرم کی تجارت پانچ ملین رنگٹ تک پھیل جائے گی وہ اپنی فرم میں ملائشین مسلمان تاجر کو 30%کا حصّے دار بنائے گی ۔ اْن کے اِس قدم نے توقع سے زیادہ بہتر نتائج دئیے اور معیشت انتہائی تیزی سے پھلنے پھولنے لگی۔ اس کے علاوہ ڈاکٹر مہاتیر محمد نے تعلیم کے لیے مختص بجٹ میں اضافہ کردیا اور اس وقت بھی ملائشین حکومت اپنے بجٹ کا پچیس فیصد حصّہ تعلیم پر مختص کررہی ہے جس کی بدولت ملائشیا میں شرح خواندگی بھی بہت بہتر ہوگئی ہے۔ ڈاکٹر مہاتیر محمد نے یقیناًکوئی نہ کوئی رول ماڈل سامنے ضرور رکھا ہوگا جس کی بنیاد پر انہوں نے اِس قدر جامع معاشی پالیسیاں ترتیب دے کر ملائشیا کو ترقی یافتہ ممالک کی صف میں لاکھڑا کیا۔ پاکستان پر غیر ملکی قرضوں کے بوجھ کے ساتھ ساتھ مہنگائی بھی تاریخ کی بلند ترین سطح تک پہنچ چکی ہے جس نے عوام کو اس قدر بوجھ تلے دبا دیا ہے کہ اُس کی چیخنے چلانے کی صلاحیت بھی ختم ہوگئی ہے۔ اگر حکامِ بالا تک عوام کی ایک آدھ سسکی پہنچ بھی گئی تو اِس کے کہ زخموں پرمرہم رکھنے کے لیے کوئی اقدامات کرنے کی بجائے ڈپٹ کر کہا گیا کہ " ہمارے ہاں مہنگائی ابھی بھی علاقے کے دیگر ممالک کی نسبت کم ہے آٹے اور دالوں کی قیمتیں بھارت اور بنگلہ دیش کی نسبت کم ہیں" ۔ اِسی طرح عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں کم ہونے کے بعد اگر کسی نے یہ مطالبہ کرنے کی جسارت کردی کہ تیل کی قیمتوں میں کمی کا فائدہ صارفین تک منتقل کیا جائے تو انتہائی سخت لہجے میں کہا گیا کہ تیل کی قیمتیں کم نہیں ہونگی کیونکہ حکومت کو "بھاری نقصان" ہورہا ہے۔۔پٹرول اور آٹے دالوں کی قیمتیں بتاتے وقت ہمارے "مالکان" یہ بتانا بالکل بھول جاتے ہیں کہ بھارت کی ایکسپورٹ ہم سے کس قدر زیادہ ہے،بھارت کی صنعتی شعبہ کس قدر تیزی سے ترقی کی راہ پر گامزن ہے، بھارت نے اپنے زرعی شعبے کو آج کہاں کا کہاں پہنچا دیا ہے، بنگلہ دیش کی برآمدات کس قدر تیزی سے بڑھ رہی ہیں۔ فرض کرلیں کہ اگر بھارت یا بنگلہ دیش میں پٹرول کی قیمت ہم سے زیادہ ہے یا آٹا اور دالیں ہم سے زیادہ مہنگی ہیں تو کیا ضروری ہے کہ ہم بھی ان ہی کی تقلید کرتے ہوئے اپنے ہاں بھی مہنگائی کو فروغ دیں۔ ہم کیوں اُن کی اُس روش سے سبق نہیں سیکھتے جن کی بدولت وہ معاشی ترقی کی راہ پر گامزن ہیں؟

آئیے چند ایک اُن ممالک یا ریاستوں کا جائزہ لیتے ہیں جن کی انتہائی تیز رفتار ترقی دیکھ کر ہم جیسے ممالک کو باقاعدہ شرمندہ ہوجانا چاہیے۔

ماضی میں متحدہ عرب امارات کی بیشتر عوام کا روزگار اونٹ چرانے سے وابستہ تھا ۔ ان لوگوں کو عرفِ عام میں بدّو کہا جاتا تھا۔ دبئی میں بھی عوام کے کچھ حصّے نے گزر اوقات کے لیے اونٹ چرانے کا پیشہ اپنا رکھا تھا جبکہ باقی عوام کا بیشتر حصّہ مچھلیاں پکڑ کر روزگار کماتا تھا۔ 1966ء میں تیل کی دریافت کے ساتھ ہی دبئی کی تقدیر یکسر بدل گئی۔ 1971ء میں دبئی متحدہ عرب امارات میں شامل ہوگیاجس کے بعد اِس کی ترقی کا باقاعدہ سفر شروع ہوا۔ دبئی جو کبھی صرف ایک صحرائی علاقہ تھا آج ایک جدید ترین ریاست کا روپ دھارچکا ہے۔اگرچہ دبئی کی تقدیر تیل کی دریافت کے بعد بدلنا شروع ہوئی لیکن حیرت انگیز طور پر تک دبئی کی چھیالیس ارب ڈالر کی معیشت میں تیل اور قدرتی گیس سے حاصل ہونے والی آمدن کا حصّہ تین فیصد سے بھی کم ہے۔ ایک محتاط اندازے کے مطابق دبئی رومانہ دو لاکھ چالیس ہزار بیرل تیل پیدا کرتا ہے جبکہ دبئی میں پیدا ہونے والی قدرتی گیس سے حاصل ہونے والی آمدن متحدہ عرب امارات کی کُل آمدن کا دو فیصد حصّہ ہے۔

اس وقت دبئی کو سیاحت کی صنعت اور بندرگاہ جبل علی کی وجہ سے خصوصی اہمیت حاصل ہے۔ یہ امر قابلِ ذکر ہے کہ 70ء کی دہائی میں تعمیر ہونے والی اِس بندر گاہ میں انسانی ہاتھوں سے بنا ہوا دنیا کا سب سے بڑا ہاربر موجود ہے۔ دبئی انٹرنیشنل فنانشل سنٹر کے قیام کے بعد دبئی میں انفارمیشن ٹیکنالوجی اور فنانس کے شعبوں کو بھی بہت فروغ حاصل ہوا۔ دبئی کی حکومت نے شہر میں جگہ جگہ صنعتوں کی مطابقت سے فری زون قائم کررکھے ہیں۔ ہمارے ہاں کارپٹ سٹی اور کاٹیج سٹی کو صرف اعلان کی حد تک محدود رکھنے والے پالیسی میکرز کی اطلاع کے لیے عرض ہے کہ دبئی جس کا رقبہ پاکستان کی نسبت کئی گنا کم ہے اُس نے انٹرنیٹ سٹی اور میڈیا سٹی قائم رکھے ہیں جو دبئی ٹیکنالوجی، الیکٹرانک کامرس اور میڈیا فری زون اتھارٹی کا ایک حصّہ ہے۔ یہاں یہ ہوشربا انکشاف بھی کرتے چلیں کہ ای ایم سی کارپوریشن، اوریکل کارپوریشن، مائیکروسافٹ اور آئی بی ایم جیسی شہرہ آفاق کمپنیاں اِس کی ممبر ہیں۔

یہ زیادہ پرانی بات نہیں ہے جب دبئی ایک لق و دق صحرا ہوتا تھا لیکن گذشتہ تین دہائیوں میں اِس نے جس تیز رفتاری سے ترقی کی ہے اُس کی بدولت آج یہ تجارتی و معاشی سرگرمیوں کا معروف ترین مرکز بن چکا ہے۔ دنیا بھر کے سرمایہ کار یہاں سرمایہ کاری کررہے ہیں جبکہ سیاحت کی صنعت ہر گزرتے دن کے ساتھ وسعت اختیار کرتی جارہی ہے کیونکہ سیاحوں کو راغب کرنے کے لیے دبئی کی حکومت ہماری طرح کاغذی نہیں بلکہ عملی اقدامات کررہی ہے۔دبئی ایک ہوٹل برج العرب تعمیر کیا گیا ہے جو انجینئرنگ کا شاہکار اور ایک عجوبہ ہے ۔ بلندی کے لحاظ سے دنیا کے سب سے بڑے اِس ہوٹل کی خاص بات یہ ہے کہ یہ سمندر میں قائم کیا گیا ہے اور اس کی دو منزلیں پانی کے اندر ہیں۔ اس کے علاوہ مزید بہت سی ایسی پْرکشش چیزیں ہیں جنہیں دیکھنے کے لیے ہر سال لاکھوں سیاح یہاں آتے ہیں جس سے دبئی کی معیشت ہر گزرتے دن کے ساتھ مزید مستحکم ہوتی جارہی ہے۔ دبئی اگرچہ رقبے کے لحاظ سے بہت چھوٹی ریاست ہے لیکن زیادہ سے زیادہ جگہ کے حصول کے لیے دبئی کی حکومت جدید ترین ٹیکنالوجی استعمال کرتے ہوئے سمندر میں مصنوعی جزیرے قائم کررہی ہے۔دبئی کا سیون سٹار ہوٹل برج العرب بھی اِسی ٹیکنالوجی کی مدد سے تعمیر کیا گیا ہے۔ دبئی کی ترقی میں قانون کے انتہائی سخت اور یکساں نفاذ نے ایک اہم کردار ادا کیا ہے۔ وہاں قانون پر اس قدر سختی سے عمل درآمد کروایا جاتا ہے کہ چھوٹا بڑاکمزور یا طاقتور کوئی بھی قانون توڑنے کا تصور بھی نہیں کرسکتا۔ وہاں ہماری طرح سرخ سگنل کی کوئی خلاف ورزی نہیں کرتا، چوریاں اور ڈاکے روز مرّہ کا معمول نہیں، قبضہ گروپ سرگرمِ عمل نہیں ، کوئی جرم کرنے کی جرات نہیں کرتا کیونکہ سب کو معلوم ہے کہ جرم کی معافی کسی کو نہیں ۔

دبئی میں بلیک میلنگ بلیک میل کرکے اپنی جیبیں بھرنے کا کوئی تصورنہیں ہے۔ چند سال قبل دبئی میں ٹیکسی ڈرائیورز نے سینہ زوری کا مظاہرہ کرتے ہوئے لوگوں سے من مانے کرائے وصول کرنے شروع کردئیے۔ دبئی کی حکومت نے فوری طور پر چھ ہزار سرکاری ٹیکسی چلانے کا حکم دے دیااور یہ فیصلہ کیا کہ تنخواہ کے علاوہ ڈرائیور کو آمدن کا پینتیس فیصد حصّہ بھی دیا جائے گا۔ دبئی میں ایک ڈرائیور روزانہ اوسطاً چار سو کلومیٹر ٹیکسی چلا لیتا ہے جبکہ سرکاری ٹیکسیاں دو شفٹوں میں چلتی تھیں۔ اتنی آمدن ہوئی کہ ایک سال کے اندر اندر حکومت نے اپنی کافی ساری سرمایہ کاری نکال لی اور اب ایک محتاط اندازے کے مطابق دبئی کی حکومت کو صرف ٹیکسی کرایوں کی مد میں ہر سال پندرہ کروڑ ڈالر آمدن ہورہی ہے۔ دبئی کی حکومت نے جبل علی پر پانچ فیصد ٹیکس عائد کررکھا ہے جس میں سے ڈھائی فیصد مختلف مدات میں خرچ ہوجاتے ہیں جبکہ ڈھائی فیصد حکومت کی بچت ہوتی ہے۔ دبئی میں ہونے والی تجارتی سرگرمیوں کے پیشِ نظر یہ اندازہ لگانا قطعاً مشکل نہیں ہے کہ حکومت کو اِس مد میں کیا آمدن ہورہی ہوگی۔ بطور ریاست دبئی ترقی کے حوالے سے مسلمان ممالک کے لیے ایک رول ماڈل کی حیثیت رکھتا ہے لیکن ہمیں آٹے دالوں اور پٹرول کی قیمتوں کا موازنہ کرنے سے فرصت ملے تو ہم کسی ملک کی ترقی کے اسباب کا جائزہ لینے کے بارے میں سوچیں۔

لفظ بدّو اور بدھو ملتے جلتے ہیں۔ ہمارے ہاں بدھو کی اصطلاع بیوقوف اورکم عقل شخص کے لیے استعمال کی جاتی ہے۔ دبئی اور سنگاپور کی بے مثال ترقی کو مدّ نظر رکھتے ہوئے ہمیں اب یہ تسلیم کرلینا چاہیے کہ ہم بدّھو ہیں کیونکہ گذشتہ ساٹھ سالوں سے ہم نے کسی سے کچھ بھی نہیں سیکھا۔ دوسری جنگِ عظیم میں تباہی و بربادی کے باوجود جاپان کی بے مثال ترقی ہماری سوچ و عقل کا کچھ نہیں بگاڑ سکی، دبئی کے بدّوؤں کی بے مثال ترقی بھی ہماری توجہ حاصل نہیں کرسکی، سنگاپور کی انتہائی تیز رفتار ترقی بھی ہماری آنکھیں نہیں کھول سکی، ڈاکٹر مہاتیر محمد کی انتہائی زود اثر پالیسیاں بھی ہماری نظرِ التفات نہیں پاسکیں کیونکہ ہماری تمام تر توانائیاں ہمسایہ ممالک سے پٹرول کی قیمتوں اور مہنگائی کا مقابلہ کرنے میں صرف ہورہی ہیں۔ اعداد و شمار اور کاغذوں کی حد تک ہمارا ملک انتہائی تیزی سے ترقی کررہا ہے لیکن حقائق کچھ اور صورتحال بیان کرتے ہیں۔ ہمیں توانائی کے بدترین بحران کا سامنا ہے، صنعتیں بند اور لوگ بے روزگار ہورہے ہیں، ہمارا برآمدی ہدف پورا نہیں ہوپارہا ،ہر سال ملک کا تجارتی خسارہ تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ جاتا ہے لیکن کوئی پرواہ نہیں۔ بس وہی اعلانات کہ جلد ہی ترقی یافتہ ممالک کی صف میں شامل ہو جائیں گے مگرکب تک یہ کوئی نہیں بتاتا۔ پیداواری لاگت میں بے تحاشا اضافے کی وجہ سے صنعت بند ہورہی ہے، بین الاقوامی خریدار دیگر ممالک کا رْخ کررہے ہیں، ملک توانائی کے بدترین بحران سے دوچار ہے جس کی وجہ سے صنعت کی پیداوار کم اور پیداواری لاگت میں اضافہ ہورہا ہے۔ عوام لوڈ شیڈنگ اور بے پناہ مہنگائی کا عذاب جھیل رہی ہے مہنگی اعلیٰ تعلیم مخصوص طبقے تک مخصوص ہے۔ جاپان، جرمنی اور امریکہ میں یونیورسٹیوں اور کالجوں کی تفصیلات کے متعلق باقاعدہ کتابیں بنی ہوئی ہیں جبکہ ہم اپنے ہاں موجود سرکاری تعلیمی اداروں کی لسٹ مرتب کرنے بیٹھیں تو شاید چند صفحات بھی نہ بنیں امن و امان کی صورتحال جنگل کا منظر پیش کررہی ہے، طاقتور کمزور کو پیروں تلے روند رہا ہے، ٹیکسٹائل کی عالمی منڈی میں بنگلہ دیش نے ہماری جگہ پر قبضہ کرلیابین الاقوامی خریدار بنگلہ دیش ، بھارت اور چین سے ٹیکسٹائل مصنوعات خریدنے لگے ہماری صنعت بند ہوگئی لاکھوں افراد کا روزگار چھن گیاہزاروں خاندان فاقہ کشی کے خطرے سے دوچار ہوگئے ۔

اگر ترقی صرف تصورات کی حد تک محدود رکھنی ہے اور اگر ہمسایہ ممالک سے آٹے دالوں اور پٹرول کی قیمتوں کا موازنہ کرکے دل کو تسلی دینی ہے پھر تو جیسے چل رہا ہے ویسے ہی ٹھیک ہے لیکن اگر واقعی ہی ملک کو ترقی کی راہ پر گامزن کرنا ہے صنعتی و تجارتی شعبے کو ترقی دینا اور عوام کو خوشحال کرنا ہے تو پھر دوسروں کی ترقی کی وجوہات کا جائزہ لے کر خود بھی ویسے ہی اقدامات کرنے چاہیئیں۔ ملک کی ترقی کی غرض سے سب سے بنیادی چیز صنعتی شعبے کی ترقی ہے۔ بے شمار صنعتی یونٹس کی بندش آنکھیں کھول دینے کے لیے کافی ہونا چاہیے۔ یہاں یہ ذکر کرنا ضروری ہے کہ صنعتی یونٹس کی بندش ایسے المیوں کو بھی جنم دے رہی ہے جو عام نظروں سے پوشیدہ ہیں۔ ایک باقاعدہ سروے کے نتیجے میں سامنے آیا ہے کہ لاہور میں جتنے صنعتی یونٹس بند ہوئے تقریباً اُن تمام کے ساتھ سکول یا ہسپتال کی صورت میں کوئی نہ کوئی رفاہی و فلاحی منصوبہ بھی چل رہا تھا۔ سکولوں میں غریب لوگوں کے بچوں کو تعلیم بالکل مفت دی جارہی تھی جبکہہ سپتالوں میں غریب و نادار افراد افراد کا علاج بالکل مفت کیا جارہا تھا۔ صنعتی یونٹس کی بندش کے ساتھ ہی یہ فلاحی منصوبے بھی ختم ہوگئے اور بے شماربچے تعلیم اور لاتعداد لوگ علاج و معالجے کی سہولیات سے محروم ہوگئے۔

ا یہ بھی یاد رکھنا ضروری ہے کہ بدحالی جرائم کو جنم دیتی ہے۔عوام کو مہنگائی اور لوڈ شیڈنگ کے بوجھ تلے دباکر گھنٹوں تک ٹریفک جام میں پھنسا کر کسی خیر کی توقع نہیں رکھی جاسکتی۔ اب یہ اشد ضروری ہے کہ حکامِ بالا اپنی "مصروفیات"میں سے تھوڑا وقت نکال کر صنعتی شعبے بہتری اور عوام کے مسائل حل کرنے کے لیے عملی اقدامات کریں۔

مزید : ایڈیشن 2

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...