عمران خان کا دھماکہ یا سیاسی پھلجھڑی ؟مارشل لاء لگنے پر تو حلوے کی دیگیں پکتی رہیں

عمران خان کا دھماکہ یا سیاسی پھلجھڑی ؟مارشل لاء لگنے پر تو حلوے کی دیگیں پکتی ...

تجزیہ : قدرت اللہ چودھری

کیا یہی وہ سیاسی دھماکہ تھا جو عمران خان پاکستان آکر کرنا چاہتے تھے؟ جس کا اعلان انہوں نے لندن سے روانگی کے وقت کیا تھا، ان کا کہنا ہے کہ پاکستان میں فوج آئی تو عوام مٹھائیاں بانٹیں گے۔ عمران خان نے یہی بات اپنے تاریخی اور تاریخ ساز دھرنے کے دنوں میں باانداز دگر کہی تھی۔ وہ کنٹینر سے بار بار یہ اعلان کرتے تھے کہ امپائر کی انگلی اٹھنے والی ہے۔ دھرنے کے دوران ہی ایک شب عمران خان اور ڈاکٹر طاہر القادری دونوں نے آرمی چیف جنرل راحیل شریف سے ملاقات بھی کی تھی۔ اس ملاقات میں ان کی جنرل راحیل شریف سے کیا باتیں ہوئیں، ان پر تو یہ خاکسار کوئی روشنی ڈالنے کی پوزیشن میں نہیں، کیونکہ یہ دونوں رہنماؤں کی ایسی ملاقات تھی جس میں کوئی تیسرا نہیں تھا۔ اس میں جو باتیں ہوئیں، ان کا مالہ، و ماعلیہ وہی بہتر جانتے ہوں گے، لیکن ہما شما کو اتنا معلوم ہے کہ اس ملاقات کے بعد بھی عمران خان مہینوں دھرنا دے کر بیٹھے رہے تھے۔ اگرچہ آخر آخر میں یہ دھرنا محض ایک ثقافتی شو کا روپ دھار گیا تھا، اسلام آباد کے بدلتے موسم میں لوگ غروب آفتاب کے بعد گھروں سے نکلتے، دو تین گھنٹے گانے وغیرہ سنتے اور پھر خوشی خوشی گھروں کو لوٹ جاتے۔ شرکاء کی تفریح بھی ہو جاتی اور دل پشوری بھی ہو جاتا۔ پھر یہ دھرنا اپنے ’’منطقی انجام‘‘ کو پہنچا۔ آپ کو یہ یاد دلانے میں کوئی حرج نہیں کہ عمران خان جب لاہور سے دھرنا دینے کے لئے چلے تو انہوں نے اعلان کیا تھا کہ وہ جب اسلام آباد سے لوٹیں گے تو وزیراعظم کا استعفا ان کے ہاتھ میں ہوگا۔ پھر انہوں نے اور ڈاکٹر طاہر القادری نے اسلام آباد میں دو مختلف مقامات پر، مگر قریب قریب پڑاؤ ڈال دیا۔ کئی دن تک یہاں مقیم رہنے کے بعد دونوں سیاسی کزن بیک وقت ڈی چوک کی جانب بڑھے اور وہاں دھرنا دیدیا، کہا جاتا ہے کہ دونوں نے وعدہ کیا تھا کہ وہ ریڈ زون میں نہیں جائیں گے، لیکن وہ چلے گئے۔ پھر ایک دن وہ ایوان وزیراعظم کی تنگ سڑک کے ذریعے وزیراعظم ہاؤس کی جانب بڑھ گئے۔ جانے سے پہلے دونوں رہنماؤں نے اعلان کیا کہ وزیراعظم کو گھسیٹ کر وزیراعظم ہاؤس سے نکالا جائیگا، اگلے روزعلی الصباح ایک ٹولی نے قریب ہی واقعہ پی ٹی وی ہیڈ کوارٹر میں گھس کر اس کی نشریات آدھ پون گھنٹے کیلئے بند کرا دیں۔ اس دوران کنٹینروں کے ذریعے اعلان ہوا کہ آدھی کامیابی مل گئی ہے، باقی آدھی بھی مل جائے گی۔ وزیراعظم ہاؤس کی جانب بڑھنے سے پہلے مخدوم جاوید ہاشمی یہ انکشاف کرچکے تھے کہ عمران خان نے انہیں کہا تھا کہ ان کی بات ہوگئی ہے اور کامیابی یقینی ہے۔ ان دونوں دھرنوں میں اور تو جو کچھ بھی ہوگیا ہو، عمران خان کو استعفا بہرحال نہ مل سکا حالانکہ ایک بار انہوں نے کہا کہ انہیں استعفے کی اس لئے بھی جلدی ہے کہ وہ شادی کرنا چاہتے ہیں شادی کب کی انجام کو پہنچ چکی استعفا اب تک نہیں آیا۔ اس وقت سے لے کر اب تک حالات ایسی نہج پر پہنچ چکے ہیں کہ عمران خان لندن میں سیاسی دھماکے کی خوشخبری سنا کر جہاز پر سوار ہوتے ہیں تو اترتے ہی یہ اعلان کر دیتے ہیں کہ پاکستان میں فوج آئی تو لوگ مٹھائیاں بانٹیں گے۔ یہاں اس مٹھائی کا تذکرہ بھی ہو جائے جو ان کی حلیف جماعت، جماعت اسلامی کے کارکنوں نے کراچی اور حیدر آباد میں بانٹی ہیں تو بے محل نہ ہوگا۔ یہ مٹھائیاں ترکی میں بغاوت کی ناکامی پرتقسیم کی گئیں۔

1977ء میں قومی اتحاد کی تین ماہ پر محیط تحریک جب جنرل ضیاء الحق کے مارشل لاء پر منتج ہوئی تھی تو بات مٹھائیوں سے آگے بڑھ گئی تھی اور زندہ دلان لاہور کئی دن تک بلکہ ہفتوں تک حلوے کی دیگیں پکا پکا کر تقسیم کرتے رہے تھے۔ ان دیگوں کا پس منظر یہ تھا کہ ذوالفقار بھٹو مولویوں پر ’’حلوہ خور‘‘ کی پھبتی کستے تھے۔ اس لئے جب ان کی حکومت ختم ہوئی تو لوگوں نے حلوے پکانے شروع کر دئیے۔

جو قومی اتحاد بھٹو کی حکومت کے خلاف متحد ہوکر تحریک چلا رہا تھا، جنرل ضیاء الحق کے مارشل لاء کے بعد وہ ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوگیا۔ سب سے پہلے ایئر مارشل اصغر خان قومی اتحاد سے الگ ہوئے، جنہوں نے تحریک کے دوران فوجی قیادت کو ایک خط بھی لکھا تھا جس کے مندرجات چھپ چکے ہیں۔ اصغر خان کے بعد سردار شیرباز مزاری اور بیگم نسیم ولی خان بھی قومی اتحاد سے الگ ہوگئے۔ باقی ماندہ جماعتیں جنرل ضیاء الحق کی حکومت میں شامل ہوگئیں۔ پھر ان جماعتوں نے جو جنرل ضیاء الحق کی حکومت میں شامل رہی تھیں، پہلے اے آر ڈی اور پھر ایم آر ڈی بنائی جس میں پیپلز پارٹی بھی شامل تھی، جس کے خلاف قومی اتحاد تحریک چلاتا رہا تھا۔

اب اگر عمران خان یہ کہتے ہیں کہ فوج کے آنے پر لوگ مٹھائیاں بانٹیں گے تو اس میں انکشاف والی اور دھماکے والی تو کوئی بات نہیں۔ البتہ جس طرح وہ امپائر کی انگلی اٹھنے اور وزیراعظم کا استعفا لئے بغیر اسلام آباد سے واپس نہ آنے کی بات کر رہے تھے، کہیں یہ بھی تو اسی طرح کی خوشخبری نہیں ہے۔ عمران خان کے اس بیان کے بعد تحریک انصاف اور ’’موو آن پاکستان‘‘ کے درمیان فاصلے سمٹتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ کچھ بعید نہیں کہ آئندہ کسی وقت دونوں جماعتوں کے کارکن مل کر وہ پوسٹر لگائیں جو گزشتہ دنوں اُنہیں مختلف شہروں میں بڑی تیز رفتاری سے اہم شاہراہوں پر لگا دئیے گئے تھے۔ ابھی عمران خان کے سیاسی دھماکے کا انتظار ہے، جو وہ معلوم نہیں کب کریں گے۔ البتہ مٹھائیوں والی بات تو کوئی دھماکہ نہیں، اسے زیادہ سے زیادہ ایک سیاسی پھلجھڑی کہا جاسکتا ہے۔

مزید : تجزیہ

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...