پشاور میں ٹریفک کی روانی کیلئے 2ارب روپے کی لاگت سے مزید فلائی اوور تعمیر کئے جائینگے :پوریز خٹک

پشاور میں ٹریفک کی روانی کیلئے 2ارب روپے کی لاگت سے مزید فلائی اوور تعمیر کئے ...

پشاور(پاکستان نیوز)وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا پرویز خٹک نے پشاور شہر اور حیات آباد میں گنجان ترین مقامات پر ٹریفک کی روانی کو یقینی بنانے کیلئے پشاور شہر میں زکوڑی کے مقام پر جبکہ حیات آباد میں ڈیٹور چوک پر فلائی اوور بنانے کا اعلان کیا ہے۔ منصوبے پر تقریباً دو ارب روپے لاگت آئے گی ۔ انہوں نے رواں سال اگست میں منصوبے کا افتتاح ممکن بنانے کیلئے انتظامات کو حتمی شکل دینے کی ہدایت کی ہے۔ وہ وزیراعلیٰ سیکرٹریٹ پشاور میں اعلیٰ سطح اجلاس کی صدارت کر رہے تھے سینئر صوبائی وزیر عنایت اﷲ خان، چیف سیکرٹری امجد علی خان، ایڈیشنل چیف سیکرٹری اعظم خان، سیکرٹری بلدیات ، پی ڈی اے، نیسپاک ، این ایل سی کے ڈائریکٹر جنرلز اور دیگر متعلقہ حکام اجلاس میں موجود تھے ۔ وزیراعلیٰ نے ہدایت کی کہ حکومت پشاور میں میٹرو سروس چلانے کی پہلے سے منصوبہ بندی کر چکی ہے لہٰذا مذکورہ بالا منصوبوں کو اس طریقے سے ڈیزائن کیا جائے کہ میٹرو سروس کے راستے میں رکاوٹ نہ ڈالیں ۔ انہوں نے اس فلائی اوور کیلئے اراضی کے حصول اور منصوبے کے متاثرین کو مناسب مراعات دینے کی ہدایت کی ۔انہوں نے اجلاس کے شرکاء کو شہر میں عوامی اہمیت کے حامل دوسرے منصوبے پلان کرنے کی بھی ہدایت کی ۔ انہوں نے کہاکہ ان تمام تر کوشش کا ہدف پشاور سٹی کو ماڈل سٹی بنانا ہے۔ وزیراعلیٰ نے اس موقع پر پشاور شہر سے تجاوزات کا مکمل خاتمہ کرنے اور اس سلسلے میں کوئی سمجھوتہ نہ کرنے کی ہدایت کی ۔انہوں نے باڑہ روڈ کی مرمت اور سٹیک ہولڈرز کے ساتھ مشاورت کے تحت اس کی توسیع کا پلان بنانے کا بھی حکم دیا۔ انہوں نے اس موقع پر علاقے کا سروے کرنے کی ضرورت پر زور دیا تاکہ عوام کے وسیع تر مفاد میں بہترین فیصلہ کیا جا سکے۔ پرویز خٹک نے دلہ زاک روڈ کا سروے کرکے اس کی خوبصورتی کیلئے پلان مرتب کرنے کی بھی ہدایت کی ۔ اسی طرح انہوں نے اسمبلی پل اور پشاور شہر کی خوبصورتی کیلئے اقدامات کرنے کا حکم دیا ۔ مزید برآں انہوں نے ورسک روڈ اور ناصر باغ پر کام کی رفتار تیز کرنے اور اسے ایکسپریس وے کی طرز پر ڈویلپ کرنے کی ہدایت کی ۔

پشاور(پاکستان نیوز)وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا پرویز خٹک نے خواتین کیڈٹ کالج مردان کیلئے اراضی کا انتخاب کرنے کیلئے صوبائی وزیر تعلیم محمد عاطف خان کی سربراہی میں مشترکہ ٹیم تشکیل دینے کی ہدایت کی ہے جو موجودہ ویمن یونیورسٹی ، زرعی یونیورسٹی اور دوسرے مناسب مقامات کا دورہ کرکے جگہ کا انتخاب کرے گی تاکہ کالج کی تعمیر پربروقت کام شروع کیا جا سکے یہ ہدایات انہوں نے وزیراعلیٰ سیکرٹریٹ پشاور میں اعلیٰ سطح اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے جاری کیں۔ صوبائی وزیر تعلیم محمد عاطف خان، اراکین صوبائی اسمبلی زاہد درانی، افتخار علی مشوانی، عبید اﷲ مایار، طفیل انجم، متعلقہ محکموں کے انتظامی سیکرٹریوں اور دیگر اعلیٰ حکام نے اجلاس میں شر کت کی۔وزیراعلیٰ نے صوبے میں نئی قائم کی جانے والی یونیورسٹیوں کیلئے کثیر المنزلہ عمارتیں تعمیر کرنے کی ہدایت کی۔وزیراعلیٰ نے مردان فلائی اوور، ویمن یونیورسٹی اور واٹر سپلائی کمپنی سمیت مردان کے دیگر میگامنصوبوں پر پیش رفت اورا نکی تکمیل میں حائل رکاوٹوں پر رپورٹ طلب کی ۔ وزیراعلیٰ نے ویمن یونیورسٹی مردان کیلئے اراضی کا مسئلہ حل کرنے اور عملہ ہائر کرنے کیلئے آسامیاں مشتہر کرنے کی ہدایت کی ۔ اسی طرح وزیراعلیٰ نے جیل پارک مردان کی جگہ کو جوڈیشل کی سائٹ سے تبدیل کرکے وہاں پارک بنانے کی تجویز سے اتفاق کیا۔ وزیراعلیٰ نے فیصلوں پر عمل درآمد یقینی بنانے کی ہدایت کی علاوہ ازیں انہوں نے امیر محمد خان پارک مردان کیلئے منتخب شدہ اراضی کو مردان ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے سپر د کرنے اور متبادل جگہ پر پارک تعمیر کے قیام کی تجویز سے بھی اتفاق کیا ۔ انہوں نے مردان ڈویلپمنٹ اتھارٹی کو فوری طور پر اراضی آکشن کرنے کی ہدایت کی تاکہ آمدن کو پارک کی تعمیر اور مردان شہر کی خوبصورتی کیلئے بروئے کا ر لایا جا سکے ۔ وزیراعلیٰ نے کہاکہ صوبائی حکومت نے نکاسی آب، صفائی اور خوبصورتی کے منصوبوں کیلئے 30 کروڑ روپے دیئے ہیں پر عمل درآمد کو یقینی بنا یاجا سکے۔وزیراعلیٰ نے واٹر سپلائی اینڈ سینٹیشن کمپنی مردان کو اخراجات کی فراہمی کیلئے سمری بھیجنے اور ڈمپنگ گراونڈز کیلئے مختلف مناسب مقامات کی نشاندہی کرنے کا حکم دیا ہے انہوں نے کمشنر مردان کو ہدایت کی کہ وہ کچرااُٹھانے میں عوام کی طرف سے کمپنی کو درپیش مسائل کا ازالہ کریں اور اس سلسلے میں عدالتی احکامات پر عمل درآمد یقینی بنائیں ۔ وزیراعلیٰ نے کہاکہ صوبے کی ہر تحصیل میں ڈمپنگ گراونڈ کا ہونا ناگزیر ہے پرویز خٹک نے اس موقع پر تمام اضلاع کی ضلعی انتظامیہ کو متعلقہ اضلاع سے تجاوزات کا خاتمہ کرنے اور نرخ ناموں پر عمل درآمد یقینی بنانے کی بھی ہدایت کی ۔ انہوں نے کہاکہ جہاں کہیں بھی نرخوں کا مسئلہ درپیش ہے وہ محکمہ زراعت اور خوراک کے ساتھ مل کر حل کیا جائے اسی طرح انہوں نے منڈی کی سطح پر نرخوں کو کنٹرول کرنے اور کاروائی کی ہفتہ وار رپورٹ بھیجنے کی ہدایت کی ہے۔

مزید : کراچی صفحہ اول