فوجی بغاوت کے بعد امریکا اورترکی کے تعلقات کشیدگی کا شکار

فوجی بغاوت کے بعد امریکا اورترکی کے تعلقات کشیدگی کا شکار
فوجی بغاوت کے بعد امریکا اورترکی کے تعلقات کشیدگی کا شکار

  

انقرہ/واشنگٹن(ویب ڈیسک) ترکی اور  امریکا کے تعلقات فوجی بغاوت کے بعد کشیدگی کا شکار ہیں کیوں کہ ترک حکام کا کہنا ہے کہ حکومت کا تختہ الٹنے کے پس پردہ امریکا کا بھی کردار ہے جس پرامریکا نے اپنے ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ترک حکومت کی جانب سے منتخب حکومت کا تختہ الٹنے میں امریکا کو مورد الزام ٹھہرائے جانا قابل افسوس ہے۔ایکسپریس نیوز کے مطابق امریکی وزیرخارجہ جان کیری نے اپنے ترک ہم منصب مولود شاویش اوگلو سے ٹیلیفون پر بات چیت کی اور بغاوت کچلنے کے بعد ترک حکومت کی جانب سے امریکا کو مورد الزام ٹھہرانے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ترک حکومت کی جانب سے منتخب حکومت کا تختہ الٹنے میں امریکا کو مورد الزام ٹھہرائے جانا قابل افسوس ہے جب کہ اس قسم کے الزامات نیٹو کے 2 اہم رکن ممالک کے درمیان تعلقات خراب کرنے کی کوشش ہے۔ امریکی وزیرخارجہ نے ترکی میں جلد قیام امن اور حالات کے کنٹرول میں آنے کی خواہش کا اظہار کیا اور کہا کہ ترک عوام اور حکومت تحمل کا مظاہرہ کریں اور فوجی بغاوت کی سازش کی تحقیقات کے دوران آئین اور قانون کی عمل داری کو یقینی بنایا جائے۔

امریکی وزیرخارجہ نے کہا کہ امریکا ترکی میں حکومت کے خلاف فوجی بغاوت کی تحقیقات میں ہرممکن تعاون فراہم کرنے کو تیار ہے مگر امریکا کو فوجی بغاوت کی سازش میں ملوث قرار دینے کے بیانات اور اشارے جھوٹ پر مبنی ہیں تاہم امریکا اور ترکی کے درمیان تعلقات معمول کے مطابق رہیں گے۔

واضح رہے کہ ترکی میں فوجی بغاوت کو ناکام بنائے جانے کے بعد ترک حکام کی جانب سے الزام عائد کیا گیا تھا کہ فوجی بغاوت کی سازش کو امریکا میں مقیم جلا وطن مذہبی رہنما فتح اللہ گولن کی جانب سے ہدایات مل رہی تھیں جب کہ ترکی کے سینئروزیر کا کہنا تھا کہ حکومت کا تختہ الٹنے کے پس پردہ امریکا کا بھی کردار ہے۔

مزید : بین الاقوامی