ترکی میں فوجی بغاوت کی ناکام کوشش ، امریکی فنڈز سےفتح اللہ گولن کے امریکہ میں سکول چلتے ہیں :جنرل (ر)امجد شعیب

ترکی میں فوجی بغاوت کی ناکام کوشش ، امریکی فنڈز سےفتح اللہ گولن کے امریکہ میں ...
ترکی میں فوجی بغاوت کی ناکام کوشش ، امریکی فنڈز سےفتح اللہ گولن کے امریکہ میں سکول چلتے ہیں :جنرل (ر)امجد شعیب

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

کراچی(ویب ڈیسک)لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ امجد شعیب نے کہا کہ فتح اللہ گولن امریکہ میں ایک بہت بڑا سکول چلاتے ہیں جو بچوں کو بالکل مفت تعلیم دیتا ہے اور اس کا فنڈ انہیں امریکا مہیا کرتا ہے کیونکہ اس کے پیچھے امریکا کے مقاصد ہیں جو انہیں استعمال کررہا ہے،دوسری طرفمسعود خان نے کہا کہ پاکستان اور ترکی دو مختلف ریاستیں ہیں ان دونوں میں موازنہ کرنا ممکن نہیں ہے ، طیب اردگان بہت مضبوط اسلامک لیڈر ہیں ترکی اور امریکا کے درمیان کشیدگی سے داعش کو فائدہ ہوگا۔

 جیو نیوز کے پروگرام ”کیپٹل ٹاک “میں گفتگوکرتے ہوئے لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ  امجد شعیب نے گفتگو کے دوران بتا یا  کہ فتح اللہ گولن امریکہ میں ایک بہت بڑا سکول چلاتے ہیں جو بچوں کو بالکل مفت تعلیم دیتا ہے اور اس کا فنڈ انہیں امریکہ مہیا کرتا ہے کیونکہ اس کے پیچھے امریکا کے مقاصد ہیں جو انہیں استعمال کررہا ہے، فوج کا جو مزاج ہے اس میں وہ اپنے لوگوں کو سڑکوں پر ذلیل ہوتے نہیں دیکھیں گے ،یہ اب اردگا ن پر منحصر ہے کہ وہ آگے کس طرح سے چلتے ہیں ، پوری اسلامک دنیا کو امریکہ  ایک حکمت عملی کے تحت غیر مستحکم کررہا ہے جس کی مثال لبیا،سیریا، عراق ہے۔

 فرخ سہیل گوئندی نے کہا کہ اردگان کے طرز حکومت میں آمریت کا رجحان بڑھتا جا رہا تھا ، اس فوجی بغاوت کا ناکام ہوجانا جمہوریت کی فتح ہے لیکن اس بغاوت کا ہوجانا ترکش جمہوری نظام کے لیے بہت بڑی بات ہے، انہوں نے کہا کہ فوجیوں نے صرف دو شہروں میں حملہ کیا ایک صدارتی محل اور پارلیمنٹ ہاﺅس حالانکہ ان کے لیے 15ہزار لوگوں کو اپنے راستے سے ہٹانا کوئی مسئلہ نہیں تھا، ان کے پاس ٹینکس اورجدید ہتھیار موجود تھے اس کے باوجود انہوں نے ایسا نہیں کیا چونکہ ترک سیاست میں ،ترک سماج میں ترک فوج کا بڑا کردار ہے ،ترکی کے عوام میں فوجیوں کی بڑی اہمیت اور عزت ہے وہ عوام کے دلوں میں بستی ہے ، انہوں نے مزید کہا کہ اس وقت بھی اونچے لیول کی فوجی بغاوت کا خطرہ موجود ہے ، ترکی میں ایک ایسی فوجی بغاوت ہوسکتی خدانخواستہ کہ صرف ٹیلی فون آئے گا کہ اقتدار پر قبضہ کرلیا گیا  ،یہ کہنا کہ کہ وہاں پر لاکھوں لوگ تھے تو درست نہ ہوگا ، فوجی ٹینکوں کے آگے صرف 10ہزار کے قریب لوگ تھے جن میں 200کے قریب مارے گئے لیکن سڑکوں پر فوجی اہلکاروں نے گولیاں نہیں چلائی تھیں جو مارے گئے وہ گن شپ ہیلی کاپٹر کی فائرنگ سے مارے گئے تھے، اگر وہ فوجی چاہتے تو 10ہزار کا مجمع صاف کرنا ان کے لیے مشکل نہ تھا۔

سابق سفیر مسعود خان نے کہا کہ ترکی اور امریکہ کے درمیان کشیدگی سے داعش کو فائدہ ہوگا ، دونوں ملکوں کے مفاد میں نہیں ہے کہ داعش کامیاب ہو اس لیے وہ ابھی کچھ حکمت عملی ترتیب دے رہے ہیں ، اس وقت بھی فوجی بغاوت کی دراڑیں موجود ہیں اگر چہ وہاں پر طیب اردگان کو فتح حاصل ہوئی ہے لیکن یورپی یونین سے یہ پیغامات آرہے ہیں کہ نہ بندوق کے ذریعے تبدیلی یا استحکام لایا جا سکتا ہے اور نہ ہی آمریت کے ذریعے تبدیلی لائی جاسکتی ہے ، ترکی سیاست میں طیب اردگان کا کردار کسی ایک بغاوت سے ہٹائی نہیں جاسکتی کیونکہ جس ملک کو ایک زمانے میں مرد بیمار کہا جا تا تھا طیب اردگان نے اس ملک کی معیشت کو بہت نچلے مقام سے دنیا کی 18بڑی معیشت بنا دیا ہے ، وسطی ایشیا،  افریقہ اور دوسرے ممالک نے ترکی کی مدد کرنا شروع کردی تھی اور اس دور میں پاکستان اور ترکی کے تعلقات بھی بہت مضبوط ہوئے۔

ترکی میں فوجی بغاوت کے پیچھے فتح اللہ گولن ملوث ہونے پر پر بات کرتے ہوئے ندیم خان کا کہنا تھا کہ یہ بات درست سے کہ اس بغاوت میں فتح اللہ گولن کا حصہ ہے ، فتح اللہ گولن کی شروع میں جو تحریک تھی وہ ایک تعلیمی تحریک تھی لیکن ایک سٹیج کے بعد جب 2002میں حکومت آئی اس کے بعد آہستہ آہستہ دراڑیں پیدا ہونا شروع ہوگئیں ، جب 2013میں کرپشن کا کیس سامنے آیا اس وقت تو مزید پیش رفت ہوئی، اصل میں امریکا کی مکمل حمایت حاصل ہے طیب اردگان کی اس موجودہ حکومت کو گرانے کے لیے اور امریکا فتح اللہ گولن کو استعمال کیا ہے ۔

مزید : بین الاقوامی