چین نے پاک چائنا اکنامک کوریڈور فوج کو دینے کا مطالبہ کر دیا: ڈان کا دعویٰ

چین نے پاک چائنا اکنامک کوریڈور فوج کو دینے کا مطالبہ کر دیا: ڈان کا دعویٰ
چین نے پاک چائنا اکنامک کوریڈور فوج کو دینے کا مطالبہ کر دیا: ڈان کا دعویٰ

  

اسلام آباد(نیوز ڈیسک) پاکستان میں خراب سیاسی حالات اور پاک چین کوریدور پر سیاسی اتفاق رائے نہ ہونے کی وجہ سے پاک چین اکنامک کوریڈور کا منصوبہ بیک ڈور پر چلا گیا ہے جس پر چین نے اظہار تشویش کرتے ہوئے اس کو فوج کے حوالے کرنے اور اس منصوبے کیلئے ایک الگ اتھارٹی یا الگ وزارت بنانے کا مطالبہ کر دیا ہے ۔ چین کے اس مطالبے سے پاکستان کی سول حکومت اور فوجی اسٹیبلشمنٹ میں ایک بار پھر تناو پیدا ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔

معروف انگلش اخبار ڈان میں چھپنے والے ایک آرٹیکل میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ چین کی حکومت اس منصوبے کے تحت شروع ہونے والے منصوبوں کی ناقص مینجمنٹ پر کافی ناخوش ہے۔اس کے علاوہ اس منصوبے کی حفاظت کے بارے میں بھی ان کو تحفظات ہیں۔چین کی حکومت اس میگا پراجیکٹ پر سیاسی اتفاق رائے نہ ہونے کی وجہ سے بھی پریشان ہے۔ اگرچہ فوج پہلے ہی اس میگا پراجیکٹ کو سکیورٹی دینے کیلئے ایک سپیشل ڈویژن بنا چکی ہے لیکن اب چین کی حکومت چاہتی ہے کہ اس پراجیکٹ کو فوج اپنی نگرانی میں لے لے۔ اس وقت وزیراعظم ہاوس میں قائم سپیشل سیکشن اور احسن اقبال کی وزارت پلاننگ اور ڈویلپمنٹ اس منصوبے کے معاملات دیکھ رہی ہے۔ ایک سکیورٹی عہدیدار نے بتایا کہ چینی حکام اس منصوبے پر پیشرفت سے کافی ناخوش ہیں۔وہ اس میں متعدد وزارتوں کی دخل اندازی سے بھی نا خوش ہیںجس کی وجہ سے منصوبوں میں کافی تاخیر ہو رہی ہے۔ اس لئے انہوں نے اس کیلئے الگ وزارت یا اتھارٹی بنانے کا کہا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ یہ منصوبہ ملک کیلئے بہت اہمیت کا حامل ہے اگر ہمیں کوئی بھی ذمہ داریاں دی گئیں تو فوج انکار نہیں کرے گی۔پاکستان میں چینی سفیر نے بھی سات جون کو آرمی چیف سے ملاقات میں دوسرے امور کے ساتھ ساتھ اس کوریڈور پر بھی کافی زیادہ بات کی گئی۔ذرائع کا کہنا ہے کہ چینی حکام سویلین حکومت اور فوجی حکام کو کئی بار اس بارے میں آگاہ کر چکے ہیں۔چین کے سفاترتخانے کے ایک ترجمان نے پاکستان کی سیاسی جماعتوں پر بھی زور دیا ہے کہ وہ اس منصوبے پر اتفاق رائے پیدا کریں۔ڈان سے گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر احسن اقبال نے کہا ہے کہ ایسی خبریں بے بنیاد ہیں چینی حکام اس منصوبے پر پیشرفت اور ہمارے انتظامات پر بہت خوش ہیں۔ایک سرکاری عہدیدار کا کہنا ہے کہ اس منصوبے میں فوج کو حصہ دار بنانے کے بارے میں تجویز کئی ہفتوں سے وزیراعظم نواز شریف کی ٹیبل پر پڑی ہے۔ایسا محسوس ہوتا ہے کہ نواز شریف اس آئیڈیا سے خوش نہیں لیکن دیکھنا ہے کہ اب چینی حکام کس طرح اس معاملے کو ڈیل کرتے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ ن لیگ کی حکومت اس منصوبے کو آئندہ الیکشن میں اپنی سب سے بڑی کارنامہ بنا کر پیش کرنا چاہتی ہے اس لئے وہ اس پر مکمل کنٹرول رکھنا چاہتی ہے۔ن لیگ کی قیادت نے ایسی کسی بھی تجویز کو یہ کہہ کر رد کر دیا ہے کہ اس کا مطلب کسی اور کو اس میگا منصوبے میں شراکت دار بنانا ہے۔

مزید : قومی