قندیل بلوچ قتل، پولیس کا مفتی عبدالقوی کو بھی شامل تفتیش کرنے کا فیصلہ

قندیل بلوچ قتل، پولیس کا مفتی عبدالقوی کو بھی شامل تفتیش کرنے کا فیصلہ
قندیل بلوچ قتل، پولیس کا مفتی عبدالقوی کو بھی شامل تفتیش کرنے کا فیصلہ

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

ملتان (مانیٹرنگ ڈیسک) ماڈل قندیل بلوچ قتل کیس میں پیش رفت ہوئی ہے اور پولیس نے مفتی عبدالقوی کو بھی شامل تفتیش کرنے کا فیصلہ کر لیاہے جبکہ قندیل بلوچ کے بڑے بھائی اسلم شاہین کی گرفتاری کیلئے بھی حساس ادارے کے سربراہ کو خط لکھ دیا گیا ہے۔

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کیلئے یہاں کلک کریں

سی پی او ملتان اظہر اکرام کا کہنا ہے کہ مقتولہ کے بھائی اسلم سے بھی تفتیش کی جائے گی اور مفتی عبدالقوی کو بھی شامل تفتیش کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ فرانزک رپورٹ کا انتظار کر رہے ہیں جس کے آنے کے بعد تفتیش کا دائرہ کار مزید وسیع کر دیا جائےگا۔ انہوں نے کہا کہ مفتی عبدالقوی سے اس سلسلے میں تفتیش کی جائے گی البتہ انہیں حراست میں نہیں لیا جائے گا۔ پولیس ذرائع کے مطابق وسیم نے اپنے اعترافی بیان میں کہا ہے کہ قندیل بلوچ کی مفتی عبدالقوی کے ساتھ ویڈیو آنے کے بعد سے لوگوں نے اس کا جینا حرام کر دیا تھا اور اسے طعنے دئیے جا رہے تھے جس کے بعد اس نے انتہائی قدم اٹھایا ہے اور اس پر اسے کوئی شرمندگی نہیں ہے۔

روزنامہ پاکستان کی خبریں اپنے ای میل آئی ڈی پر حاصل کرنے اور سبسکرپشن کیلئے یہاں کلک کریں

پولیس ذرائع کے مطابق قندیل بلوچ کے بڑے بھائی اسلم شاہین، جو حساس ادارے میں ملازم ہیں، کی گرفتاری کیلئے بھی حساس ادارے کے سربراہ کو خط لکھ دیا گیا ہے تاہم ابھی ان کی جانب سے کوئی جواب نہیں ملا اور جیسے ہی خط کا جواب ملے گا اور اسلم شاہین کو حراست میں لیا جائے گا تو اس سے بھی تفتیش کی جائے گی۔ پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ قندیل کے باقی بھائی سعودی عرب میں ہیں اور بظاہر ان کا اس کیس سے کوئی تعلق نظر نہیں آ تا۔

واضح رہے کہ ماڈل قندیل بلوچ کو ان کے بھائی وسیم نے غیرت کے نام پر گلا گھونٹ کر قتل کر دیا تھا جسے پولیس نے گرفتار کر لیا ہے اور اس نے دوران تفتیش اپنے جرم کا اعتراف بھی کر لیا ہے۔

مزید : ملتان /اہم خبریں