ترکی میں باغیوں کی قیادت کرنے والے فوجی جنرل اور اسرائیل میں کیا تعلق ہے؟ایسا انکشاف منظر عام پر کہ ہنگامہ برپا ہو گیا‎

ترکی میں باغیوں کی قیادت کرنے والے فوجی جنرل اور اسرائیل میں کیا تعلق ...
ترکی میں باغیوں کی قیادت کرنے والے فوجی جنرل اور اسرائیل میں کیا تعلق ہے؟ایسا انکشاف منظر عام پر کہ ہنگامہ برپا ہو گیا‎

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

انقرہ(مانیٹرنگ ڈیسک)ترکی میں جمعہ کی شب باغی فوجی گروہ کی جانب سے اقتدار پر قبضہ کرنے کی ناکام کوشش کی گئی جس پر ترک ایئرفورس کے سابق کمانڈر اور اسرائیل میں ترک فوج کے سابق اتاشی جنرل آکن اُزترک کو بغاوت کے الزام کے تحت حراست میں لیا گیا ۔

تفصیلات کے مطابق حراست میں لیے گئے ترک ایئرفورس کے کمانڈراُز ترک تل ابیب قونصل خانے میں بطور اتاشی 1998ءتا 2000ءتک تعینات رہے جس کے بعد انہوں نے ترک فوج کے کمانڈر کے فرائض بھی انجام دیئے ۔وہ ترک ایئر فورس کے کمانڈر کے عہدے سے ایک سال قبل مستعفیٰ ہو گئے تھے لیکن انہوں نے ترکی کی سپریم ملٹری کونسل میں اپنی خدمات جاری رکھیں ۔جسے اب ترک حکام کی جانب سے بڑا دشمن سمجھا جارہاہے ۔سابق ایئرفورس کمانڈر کو حراست میں لیے جانے کے بعد ترک میڈیا میں ہنگامہ برپا ہوگیا ہے اور بغاوت کے تانے بانے اسرائیل سے جوڑے جانے کی اطلاعات ہیں کیونکہ اُزترک کے اسرائیل کے ساتھ اچھے سفارتی تعلقات ہیں جس کی بنا پر اس خدشے کا اظہار کیا جارہاہے۔

ترک پراسیکیوٹر آفس سے جاری بیان میں کہا گیاہے کہ جنرل از ترک نے اپنے ساتھیوں کے ساتھ مل بغاوت کی کوشش کی جس پر ان کیخلاف مقدمہ چلایا جائے گا ۔انہوں نے کہاسزائے موت کا قانون ختم کیے جانے کے بعد کسی بھی غدار کو سزائے موت نہیں دی گئی اور اسی مستقبل میں ایسا کچھ نہ ہو اس حوالے سے سزائے موت کو بحال کرنے سے متعلق غور کیا جارہاہے ۔

مزید : بین الاقوامی