ہائی کورٹ :سیکرٹری قانون کی تعیناتی چیلنج ،پنجاب حکومت سے جواب طلب

ہائی کورٹ :سیکرٹری قانون کی تعیناتی چیلنج ،پنجاب حکومت سے جواب طلب
ہائی کورٹ :سیکرٹری قانون کی تعیناتی چیلنج ،پنجاب حکومت سے جواب طلب

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

لاہور(نامہ نگار خصوصی )سیکرٹری قانون پنجاب ابوالحسن نجمی کی تعیناتی کو لاہورہائیکورٹ میں چیلنج کر دیا گیاہے،عدالت نے حکومت پنجاب سے 16اگست کو جواب طلب کر لیاہے، چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ مسٹر جسٹس سید منصوعلی شاہ نے ظہیر افضل چدھڑ کی درخواست پرسماعت کی، درخواست گزار کے کیل نے موقف اختیار کیاکہ سیکرٹری قانون پنجاب ابولحسن نجمی کو 2003ءمیں سیکرٹری صوبائی اسمبلی کے عہدے سے ریٹائرڈ ہوئے ،دومرتبہ عہدے میں توسیع دینے کے بعد انہیں ستمبر2009ءسیکرٹری قانون کے عہدے پرتعینات کردیاگیا۔ جو کہ سپریم کورٹ کے فیصلوں کی سنگین خلاف ورزی ہے۔انہوں نے عدالت سے استدعا کی کہ سیکرٹری قانون پنجاب ابوالحسن نجمی کی میرٹ کے برعکس کی جانے والی تعیناتی کوکالعدم قراردیا جائے، اسسٹنٹ ایڈووکیٹ جنرل احمد حسن نے عدالت کو بتایا کہ سیکرٹری قانون پر ریٹائرڈ سول سرونٹ کو دوبارہ کنٹریکٹ پر ملازمت پر رکھنے کی ممانعت کے قانون کا اطلاق نہیں ہوتا، پنجاب سول سرونٹس ایکٹ کی دفعہ 13کے تحت حکومت کو یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ مخصوص حالات اور مفاد عامہ میں ریٹائرڈ سول سرونٹس کی تعیناتی کر سکتی ہے، سیکرٹری قانون پنجاب کا عہدہ جنرل کیڈر میں نہیں آتا اور نہ ہی اس سے کسی جونیئر افسر کی ترقی متاثر ہوتی ہے، عدالت نے سیکرٹری قانون پنجاب کی تعیناتی کے خلاف درخواست سماعت کے لئے منظور کرتے ہوئے پنجاب حکومت سے 16اگست کو جواب طلب کرلیاہے۔

مزید : جرم و انصاف