ہائی کورٹ :عدالتی فیصلے کے باوجود تایا بچہ ماں سے چھین کر عدالت سے فرار

ہائی کورٹ :عدالتی فیصلے کے باوجود تایا بچہ ماں سے چھین کر عدالت سے فرار
ہائی کورٹ :عدالتی فیصلے کے باوجود تایا بچہ ماں سے چھین کر عدالت سے فرار

  

لاہور(نامہ نگار خصوصی ) لاہور ہائیکورٹ نے بچے حوالگی کیس کا فیصلہ سناتے ہوئے چار بچے تایاسے لے کر ماں کے حوالے کر دیے،عدالتی فیصلے کے بعد بچے کے ددھیال اور ننھیال والے بچے چھیننے کے لئے ایک آپس میں الجھ پڑئے،تایا بڑا بچہ لے کر احاطہ عدالت سے فرار ہو گیا۔

جسٹس سردارشمیم احمد خان نے کیس کی سماعت کی۔عدالتی سماعت کے موقع پرننکانہ صاحب کی درخواست گزار خاتون فوزیہ نے موقف اختیار کیا کہ اس کے خاوند کی وفات کے بعد اس کے بعد اس کے چار بچوں کو اسکے تایانے زبردستی اپنے پاس رکھا ہے۔ان کے مکان پر قبضہ کر کے اسے بھی محبوس کیا جا رہا ہے۔بیلف نے عدالتی حکم پر 11سالہ صائم علی،10سالہ فضہ،7سالہ علی اور ڈیڑھ سالہ احرام کو بازیاب کر کے عدالت میں پیش کر تے ہوئے بتایا کہ بچوں کے تایا نے بیلف کو بھی یرغمال بنانے کی کوشش کی۔ عدالت نے چاروں بچوں کو ماں کے ساتھ جانے کی اجازت دے دی،عدالتی بیلف سے بدتمیزی کرنے پر عدالت نے بچوں کے تایا کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کا بھی حکم دے دیا۔عدالتی کاروائی کے بعد کمرہ عدالت سے باہر آتے ہی بچوں کا تایا سب سے بڑے بیٹے صائم علی کو ماں سے چھین کر فرار ہو گیا جس پر بچوں کی ماں شدت غم سے نڈھال ہو گئی۔

مزید : جرم و انصاف