انشورنس کمپنیوں کی طرف سے رقوم کی عدم ادائیگی ،انشورنس ٹربیونل میں مقدمات کی بھرمار ہوگئی

انشورنس کمپنیوں کی طرف سے رقوم کی عدم ادائیگی ،انشورنس ٹربیونل میں مقدمات کی ...
انشورنس کمپنیوں کی طرف سے رقوم کی عدم ادائیگی ،انشورنس ٹربیونل میں مقدمات کی بھرمار ہوگئی

لاہور(کامران مغل)پہلے سبزباغ دکھا کر انشورنس کی جاتی ہے ،مرنے کے بعدپھرگھر والوں کو خوار کیاجاتا ہے ،جائیں تو کہاں جائیں کوئی فریاد سننے والا نہیں ، انشورنس کمپنیوں کی طرف سے ستائے پالیسی ہولڈر کے بیوی بچوں نے پالیسی کی رقم نہ ملنے پردربدر کے دھکے کھانے کے بعد انشورنس ٹربیونل سے رجوع کرنا شروع کردیا، رقم کی ادائیگی کے لئے رجوع کرنے والے شہریوں کے باعث انشورنس ٹربیونل میں بھی کیسوں کا دباﺅ بڑھنے لگا ہے ،کئی کئی سالوں سے متاثرین اپنے پیاروں کے مرنے کے بعد رقم لینے کے لئے ٹھوکریں کھا رہے ہیں لیکن ان کا کوئی پرسان حال نہیں ہے ۔

تفصیلات کے مطابق انشورنس کمپنیوں کی جانب سے پالیسی ہولڈر کی وفات کے بعد مبینہ طور پر رقم مذکورہ کمپنیوں کی جانب سے بروقت ادا نہیں کی جاتی جس کے باعث متاثرین کا انشورنس ٹربینول سے رجوع کرنے کا رجحان بڑھنے لگا ہے ،واضح رہے کہ 4،4 سال سے لوگ اپنی پالیسی کی رقم کے حصول کے لئے کمپنیوں کے چکر لگانے پر مجبورہیں اور تھک ہار کر انہوںنے آخر کر انشورنس ٹربیونل کا رخ کیا ہے تاہم وہاں پر بھی ذرائع کے مطابق وہ کئی کئی سالوں سے انشورنس کی رقم کی ادائیگی کے لئے صرف تاریخیں ہی بھگت رہے ہیں ۔اس ضمن میں انشورنس ٹربیونل پہلے ہی 500سے زائدمقدمات التوا میں جانے پر مذکورہ انشورنس کمپنیوں کو پیش ہوکر اپنے اپنے جوابات داخل کرانے کا حکم دے چکا ہے جبکہ عدالت میں صبح سے ہی خواتین اور بچے عدالت کے باہر وکلا ءکے چیمبروں میں بیٹھے اپنی پالیسی کا انتظار کرتے رہتے ہیں۔اس حوالے سے وکلاءمدثر چودھری ،مرزاحسیب اسامہ ،مجتبی چودھری ،ارشاد گجر کا کہناہے کہ انشورنس ٹربیونل پنجاب کی عدالت میں مختلف انشورنس کمپنی کے خلاف دعوے دائر کئے جاتے ہیں ،عدالت میں بے شمار کیس ایسے ہیں جن میں پالیسی ہولڈرفوت ہوگیاہے لیکن اس کی پالیسی کی رقم اس کے بیوی بچوں کو نہ دی گئی بیوی بچے کئی کئی سال سے رقم کے حصول کے لئے عدالت کے چکر کاٹ رہے ہیں ،عدالت میں آنے والے شہریوں ندیم، اشتیاق ،جمال ،نصیر احمد وغیرہ نے نمائندہ پاکستان سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ مذکورہ انشورنس کمپنیاں پالیسی کرتے وقت سبزباغ دیکھاتی ہیں کہ پالیسی کرانے سے ان کا اور بچوں کا مستقبل بہتر ہو جائے گا لیکن جب پالیسی کرالی جائے اور دوران پالیسی اگر کوئی فوت ہوجائے تو کمپنی اس کے بچوں کو پیسہ تک نہیں دیتی یہی وجہ ہے کہ لوگ عدالتوں سے رجوع کرتے ہیں ،انہوں نے مزید کہا کہ پالیسی کی رقم متاثرہ لوگوں کو ملتی ہے جن کی پالیسی کنفرم ہو جاتی ہے حالانکہ پالیسی ہولڈر سے پالیسی کرتے وقت وعدہ کیا جاتا ہے کہ اگر وہ پالیسی دینے کے دوران انتقال کرجاتا ہے تو پوری پالیسی کی رقم اس کے بچوں کو دی جائے گی تاہم پالیسی کی رقم نہ ملنے پر لوگ اپنی پالیسی کی رقم کے حصول کے لئے عدالت کے چکر لگانے پر مجبور ہیں جو کہ ان کے ساتھ انتہائی ظلم ہے ۔

مزید : بزنس

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...