وہ آدمی جس کا جنازہ دیکھ کر طیب اردگان بے اختیار رو پڑے، یہ کون تھا کہ ساتھ ہی ترک صدر نے ایسا خطرناک اعلان کردیا کہ مخالفین کی نیندیں اُڑادیں

وہ آدمی جس کا جنازہ دیکھ کر طیب اردگان بے اختیار رو پڑے، یہ کون تھا کہ ساتھ ہی ...

انقرہ(مانیٹرنگ ڈیسک)ترک صدر رجب طیب ایردوگان گزشتہ روز ناکام فوجی بغاوت میں جاں بحق ہونے والے افراد کے جنازے میں شریک ہوئے۔ ان میں ایک ایسے شخص کا جنازہ بھی شامل تھا جسے دیکھ کر ترک صدر اپنے جذبات پر قابو نہ رکھ سکے اور بے اختیار رو پڑے۔ یہ میت رجب طیب ایردوگان کے دوست ایرول اولکیک کی تھی جسے آبنائے باسفورس کے پل پر16سالہ بیٹے سمیت گولیاں مار کر قتل کیا گیا تھا۔ بیٹے کا جنازہ بھی باپ کے پہلو میں موجود تھا۔ برطانوی اخبار ڈیلی میل کی رپورٹ کے طابق باسفورس پل پر دیگر درجنوں افراد کو بھی موت کے گھاٹ اتارا گیا۔ اپنے دوست کے جنازے کو دیکھ کر ترک صدر اس قدر غمناک ہوئے کہ باغی فوجیوں اور ان کے حامیوں میں سے ایک ایک سے انتقام لینے کا اعلان کر دیا۔

رپورٹ کے مطابق آبنائے باسفورس کے پل پر موت کے گھاٹ اتارے گئے افراد میں ایردوگان کے چیف سپروائزر کا بھائی الحان ویرانک بھی شامل تھا جو کمپیوٹر سائنس کا پروفیسر تھا۔ شہیدوں کی نمازجنازہ کے دوران لوگوں نے ”اللہ اکبر“ ، ”فتح اللہ کو اس کی قیمت چکانی پڑے گی“ اور ”باغیوں کو پھانسی دو“کے نعرے لگائے۔ اس موقع پر رجب طیب ایردوگان نے حاضرین سے خطاب میں فتح اللہ گولن کے حامیوں کو وائرس قرار دیتے ہوئے کہا کہ ”ہم ملک کو اس وائرس سے نجات دلائیں گے۔“

اس تقریب میں ایردوگان نے ایک مرتبہ پھر اس فوجی بغاوت کا الزام لگاتے ہوئے کہا کہ ”ہم ملک کے ہر ایک ادارے میں تطہیر کا عمل برپا کرکے فتح اللہ گولن کے حامیوں کو نکال باہر پھینکیں گے۔ اس کے علاوہ ہم وزارت انصاف اور وزارت خارجہ کے پلیٹ فارمز استعمال کرتے ہوئے فتح اللہ گولن کو امریکہ سے واپس ترکی لانے کی ہر ممکن کوشش کریں گے۔“ واضح رہے کہ ترک صدر کے مخالفین اس قدر قتل و غارت کے بعد بھی پراپیگنڈہ کر رہے ہیں کہ رجب طیب ایردوگان نے خود فوجی بغاوت کا ڈرامہ رچایا ہے تاکہ اقتدار پر اپنے ہاتھ مزید مضبوط کر سکے۔ ایردوگان نے مخالفین کے اس الزام کو سختی کے ساتھ مسترد کر دیا ہے۔

مزید : بین الاقوامی

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...