بغاوت کے بعد ہیلی کاپٹر چُرا کر یونان کیوں بھاگے؟ فرار ہونے والے ترک فوجی منظر عام پر آگئے، ایسی وجہ بتادی کہ سب دنگ رہ گئے

بغاوت کے بعد ہیلی کاپٹر چُرا کر یونان کیوں بھاگے؟ فرار ہونے والے ترک فوجی ...
بغاوت کے بعد ہیلی کاپٹر چُرا کر یونان کیوں بھاگے؟ فرار ہونے والے ترک فوجی منظر عام پر آگئے، ایسی وجہ بتادی کہ سب دنگ رہ گئے

  

ایتھنز (مانیٹرنگ ڈیسک) جمعہ کے روز ترکی میں بغاوت کا ہنگامہ برپاہوا تو ایک اہم اور حیران کن واقعہ یہ بھی پیش آیا کہ 8 ترک فوجی ایک ہیلی کاپٹر چرا کر یونان کے ایک ائرپورٹ پر جااترے۔ ترک صدر رجب طیب اردوان کی حکومت کے یونان کے ساتھ کشیدہ تعلقات کے پیش نظر یہ خیال کیا جارہا تھا کہ یونان فرار ہونے والے ترک فوجی باغی ٹولے کے اہم رکن اور یونان کی حکومت یا ایجنسیوں سے رابطے میں ہوسکتے ہیں، مگر اب ان فوجیوں کا ایک بیان سامنے آیا ہے جس میں انہوں نے کچھ اور ہی کہانی سنادی ہے۔

روسی جریدے سپوتنک نیوز کی رپورٹ میں ویب سائٹ دی ٹائمز آف چینجز کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ یونان فرار ہوجانے والے ترک فوجیوں کا کہنا ہے کہ ان کا بغاوت سے کوئی تعلق نہیں ہے اور وہ تو اپنی جان بچانے کیلئے یونان گئے تھے۔ یہ آٹھ فوجی ہفتے کی صبح ایک بلیک ہاک ملٹری ہیلی کاپٹر میں سوار ہوکر یونان کے شمالی شہر سکندروپولی کے ائیرپورٹ پر پہنچے تھے۔ ان فوجی افسران میں تین میجر، تین کیپٹن اور دو سارجنٹ میجر شامل تھے، جنہوں نے یونان میں اترتے ہی سیاسی پناہ کا مطالبہ کردیا تھا۔

ترک فوجی افسروں کا کہنا ہے کہ انہیں بغاوت کے منصوبے کے متعلق کچھ بھی معلوم نہیں تھا، وہ تو صرف اپنے اعلیٰ افسران کے حکم پر عمل کررہے تھے، جنہوں نے دو ہیلی کاپٹر استنبول شہر سے باہر اتارنے کا حکم دیا تھا۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ زخمیوں کو منتقل کررہے تھے کہ ان پر زمین سے فائرنگ شروع ہوگئی، جس کے بعد انہوں نے اپنی جان کے خوف سے یونان کا رخ کیا۔

ترک فوجیوں کو یونانی پولیس نے ملک میں غیر قانونی طور پر داخل ہونے کے الزام میں گرفتار کرلیا اور گزشتہ روز انہیں عدالت کے سامنے پیش کیا گیا۔ ایتھنز نیوز ایجنسی کا کہنا ہے کہ اس بات کا امکان موجود ہے کہ گرفتار فوجیوں کو ترکی کے حوالے کردیا جائے گا، لیکن سیاسی پناہ کی درخواست کے پیش نظر اس عمل میں طویل تاخیر ہوسکتی ہے۔

دوسری جانب ترک پارلیمنٹ موت کی سزا کو بحال کرنے پر غور کر رہی ہے، جس کے نتیجے میں یونان یورپی قوانین کی پابندی کرتے ہوئے مفرور ترک فوجیوں کو واپس نہ بھیجنے کا پابند ہوگا۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ صورتحال دونوں ممالک کے پہلے سے کشیدہ تعلقات کو مزید بگاڑسکتی ہے۔

مزید : بین الاقوامی