ترک ایئرفورس کے سابق سربراہ اُزترک نے ترکی میں فوجی بغاوت کا اعتراف کر لیا

ترک ایئرفورس کے سابق سربراہ اُزترک نے ترکی میں فوجی بغاوت کا اعتراف کر لیا
ترک ایئرفورس کے سابق سربراہ اُزترک نے ترکی میں فوجی بغاوت کا اعتراف کر لیا

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

انقرہ(مانیٹرنگ ڈیسک)سابق ترک ایئرفورس کے چیف اُزترک نے پراسیکیوٹر کے سامنے طیب اردگان کی حکومت کا تختہ الٹنے اور ملک میں فوجی بغاوت کروانے کا اعتراف کر لیاہے ۔

ڈان نیوز نے ترک میڈیا کے حوالے سے کہاہے کہ جمعہ کی شب فوجی باغی گروہ کی جانب سے ترکی کے اقتدار پر قبضہ کرنے کی ناکام کوشش کی گئی ،باغی فوجیوں کی جانب سے ملک کی اہم عمارتوں اور دفاتر کا محاصر کر لیا گیا لیکن طیب اردگان کی فیس ٹائم سوشل میڈیا ایپ عوام سے سڑکوں پر نکلنے کی اپیل کے بعد صورتحال یکسر مختلف ہو گئی اور لوگوں نے سڑکوں پر نکل کر فوجی بغاوت کوناکا م بنا دیا ۔فوجی باغیوں اور طیب اردگان کے حامیوں کے درمیا ن جھڑپوں میں 200سے زائد افرادجاں بحق ہوئے جبکہ باغیوں کی جانب سے گن شپ ہیلی کاپٹرز کے ذریعے عوام پر گولیاں بھی برسائیں گئی۔

ترک ایئرفورس کے سابق سربراہ اُز ترک تل ابیب قونصل خانے میں بطور اتاشی 1998ءتا 2000ءتک تعینات رہے جس کے بعد انہوں نے ترک فوج کے کمانڈر کے فرائض بھی انجام دیئے ۔وہ ترک ایئر فورس کے کمانڈر کے عہدے سے ایک سال قبل مستعفیٰ ہو گئے تھے لیکن انہوں نے ترکی کی سپریم ملٹری کونسل میں اپنی خدمات جاری رکھیں۔

مزید : بین الاقوامی /اہم خبریں