بغاوت کے دوران استنبول ائیرپورٹ پر لینڈنگ سے قبل طیب اردگان کا طیارہ ہوا میں 2 باغی پائلٹوں کے F-16 جہازوں کی رینج میں تھا، نشانہ کیوں نہیں بنایا گیا؟ ایک واقعہ جس نے میڈیا کو چکرا دیا

بغاوت کے دوران استنبول ائیرپورٹ پر لینڈنگ سے قبل طیب اردگان کا طیارہ ہوا میں ...
بغاوت کے دوران استنبول ائیرپورٹ پر لینڈنگ سے قبل طیب اردگان کا طیارہ ہوا میں 2 باغی پائلٹوں کے F-16 جہازوں کی رینج میں تھا، نشانہ کیوں نہیں بنایا گیا؟ ایک واقعہ جس نے میڈیا کو چکرا دیا

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

انقرہ(مانیٹرنگ ڈیسک) ترکی میں فوجی بغاوت کے دوران جب صدر رجب طیب ایردوگان ساحلی شہر مرمریس سے استنبول آ رہے تھے تو ایک ایسا واقعہ رونما ہوا کہ جس نے میڈیا کو حیران کر دیا ہے۔ عالمی خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق استنبول ایئرپورٹ پر لینڈنگ سے قبل رجب طیب ایردوگان کا طیارہ باغی فوجیوں کے دو ایف 16طیاروں کی رینج میں تھا مگر انہوں نے اسے نشانہ نہیں بنایا۔ اس سوال نے میڈیا میں کھلبلی مچا رکھی ہے کہ جب طیارہ رینج میں تھا تو باغیوں نے اسے نشانہ کیوں نہ بنایا؟رائٹرز نے ترک فوجی ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ باغی آبنائے باسفورس کا پل سیل کرکے استنبول ایئرپورٹ پر قبضے کی کوشش کر رہے تھے اور پارلیمنٹ پر قبضے کے لیے انہوں نے ٹینک انقرہ روانہ کر دیئے تھے۔

ذرائع کے مطابق اس دوران جب ترک صدر کا طیارہ استنبول کی طرف آ رہا تھا تو باغیوں کے دو طیاروں نے مداخلت کرکے صدرکے طیارے کا ریڈار سے رابطہ منقطع کر دیا تھا۔ اس وقت 2ایف 16طیارے رجب طیب ایردوگان کے طیارے کی حفاظت بھی کرتے آ رہے تھے۔ باغیوں نے ان کو بھی ریڈار سے ہٹا دیا تھا۔ رائٹرز کو اطلاع دینے والے ذرائع کا بھی یہ کہنا تھا کہ ”باغیوں نے اپنی رینج میں ہونے کے باوجود صدر کے طیارے کو نشانہ کیوں نہیں بنایا، یہ سوالات تاحال ایک معمہ بنا ہوا ہے۔رائٹرز کے مطابق ترک حکومت کے ایک سینئر عہدیدار نے بھی رجب طیب ایردوگان کا طیارہ باغیوں کے ایف سولہ طیاروں کی رینج میں ہونے کی تصدیق کی ہے، تاہم انہوں نے بھی اس حوالے سے تفصیل نہیں بتائی۔

مزید : ڈیلی بائیٹس