وہ پاکستانی خاتون صحافی جسے بھارتی پولیس نے قتل کے مقدمے کی تفتیش کیلئے بھارت بُلالیا، گھنٹوں پوچھ گچھ، یہ صحافی کون ہے؟ جان کر آپ کو بھی بے حد حیرت ہوگی

وہ پاکستانی خاتون صحافی جسے بھارتی پولیس نے قتل کے مقدمے کی تفتیش کیلئے ...
وہ پاکستانی خاتون صحافی جسے بھارتی پولیس نے قتل کے مقدمے کی تفتیش کیلئے بھارت بُلالیا، گھنٹوں پوچھ گچھ، یہ صحافی کون ہے؟ جان کر آپ کو بھی بے حد حیرت ہوگی

  

نئی دلی (مانیٹرنگ ڈیسک) دو سال قبل بھارتی سیاست دان و سابق سفارتکار ششی تھرور کی اہلیہ سنندا پشکر کی پر اسرار موت کے واقعے نے جہاں بھارتی میڈیا میں ایک بڑا ہنگامہ کھڑا کردیا وہیں پاکستانی صحافی مہر تارڑ کو اس واقعہ کے ساتھ منسلک کرنے کی کوششوںنے پاکستان میں بھی ہلچل مچادی۔ اس ہنگامے کی گرد بظاہر بیٹھ چکی تھی مگر اخبار ٹائمز آف انڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ حال ہی میں مہر تارڑ بھارت گئیں جہاں دلی کے ایک فائیوسٹار ہوٹل میں بھارتی پولیس نے ان سے تین گھنٹے تک تفتیش کی۔ اخبار کا کہنا ہے کہ تفتیش انتہائی خفیہ رکھی گئی اور اس کی اطلاع دینے والے ذرائع کا کہنا ہے کہ اس معاملے کی پورے بھارت میں صرف چند افراد کو ہی خبرتھی۔

اخبار کے مطابق دلی پولیس کی جانب سے مہرتارڑ کو گزشتہ سال دسمبر میں تحریری طور پر درخواست بھیجی گئی جس میں تحقیقات میں تعاون کرنے کو کہا گیا تھا۔ رپورٹ کے مطابق مہرتارڑ نے تعاون پر رضامندی ظاہر کی اور دو یا تین ماہ قبل وہ اس مقصد کے لئے بھارت پہنچی تھیں۔

سنندا پشکر کی ہلاکت جنوری 2014ءمیں ہوئی۔ اس وقت ششی تھرور یونین منسٹر کے عہدے پر فائز تھے، جبکہ میڈیا میں یہ اطلاعات بھی سامنے آئیں کہ سنندا پشکر کی موت سے اک دن قبل ان کا سوشل میڈیا پر مہر تارڑ کے ساتھ جھگڑا ہوا تھا، جس کی وجہ مہر تارڑ اور ششی تھرور کے درمیان مبینہ روابط بتائے گئے تھے۔

بھارتی صحافی نالنی سنگھ نے یہ دعویٰ بھی کیا تھا کہ سنندا پشکر نے انہیں بتایا تھا کہ ششی تھرور اور مہر تارڑ 2014ءکے لوک سبھا انتخابات کے بعد شادی کرنے والے تھے۔ واضح رہے کہ مہر تارڑ سنندا پشکر کی موت سے اپنے کسی بھی قسم کے تعلق کی پہلے ہی تردید کرچکی ہیں۔ ان پر بھارتی پولیس کی تفتیش میں شامل ہونے کے لئے کوئی قانونی پابندی بھی نہ تھی مگر وہ اس معاملے کے آغاز میں ہی کہہ چکی تھیں کہ وہ تحقیقات میں مکمل تعاون کریں گی۔

مزید : ڈیلی بائیٹس