رئیل سٹیٹ کے مسائل اور VALUATION کا نیانظام

رئیل سٹیٹ کے مسائل اور VALUATION کا نیانظام
 رئیل سٹیٹ کے مسائل اور VALUATION کا نیانظام

ہم بحیثیت قوم ٹیکس دینے پر یقین نہیں رکھتے۔ لیکن یہ کوئی عجیب بات نہیں ۔ دنیا میں کوئی بھی قوم خوشی سے ٹیکس نہیں دیتی۔ ٹیکس حکومت کو مجبوری میں ہی دیا جا تا ہے، بلکہ یہ کہنا غلط نہ ہو گا کہ حکومتیں شہریوں کو ٹیکس دینے پر مجبور کر دیتی ہیں۔ ایک اچھی حکومت اور ایک اچھا نظام حکومت ٹیکس چوری کے راستے بند کرتا ہے اور ملک میں ٹیکس کلچر کو پروان چڑھاتا ہے۔ لیکن اس کے باوجود مہذب ممالک اور ترقی یافتہ ممالک میں بھی بڑے بڑے ٹیکس چوری کے سکینڈل سامنے آتے رہتے ہیں۔

پاکستان میں بھی ٹیکس کلچر نہیں ہے بلکہ ٹیکس چوری عام ہے۔ یہاں ٹیکس چوری کے راستے عام ہیں۔ پاکستان کی جمہوری اور غیر جمہوری حکومتیں بلاامتیاز ملک میں ایک ا چھا ٹیکس نظام رائج کرنے میں نا کام رہی ہیں۔ اسی لئے پاکستانی معاشرہ میں کالا دھن عام ہے، بلکہ حکومت کے ناقص نظام ٹیکس سے کئی بار سفید دھن بھی کالا دھن بن جاتا ہے ۔

یہ کہنا غلط نہ ہو گا کہ موجودہ حکومت نے ملک کے ٹیکس نظام میں بہت سی اصلاحات کی ہیں۔ بہت سے نئے سیکٹرز کو ٹیکس کے دائرے میں لانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ اس میں حکومت کو کافی حد تک کامیابی بھی ہوئی ہے اور نا کامی بھی ۔ فائلر اور نان فائلر کا کھیل ابھی جاری ہے۔ یہ حکومت اور ٹیکس چوروں کے درمیان ایک اعصابی جنگ ہے جو بہرحال جاری رہنی چاہئے اور دعا ہی کی جا سکتی ہے کہ اس میں حکومت کامیاب ہو، تا کہ پاکستان میں ہر صاحب روزگار اپنا ٹیکس ریٹرن فائل کرنے پر تیار ہو جائے۔

جہاں ایک طرف عوام ٹیکس نہیں دینا چاہتے وہاں دوسری طرف ہمارے ٹیکس اکٹھا کرنیو الے ادارے بھی بہت کرپٹ ہیں اور عوام کو ان پر اعتماد نہیں ہے۔ عوام ان اداروں کو اپنا دشمن سمجھتے ہیں۔ ان پر عوامی اعتماد کا فقدان بھی ٹیکس چوری کی ایک وجہ ہے۔ یہ چور سپاہی کا کھیل جاری ہے اور لگتا ہے جاری رہے گا۔ حکومت نے نئے بجٹ میں رئیل سٹیٹ کے سیکٹر کے لئے کچھ ٹیکس اصلاحا ت کی ہیں۔ ان اصلاحات میں جہاں ٹیکسوں کی شرح میں اضافہ کیا گیا ہے۔ وہاں جائیداد کی خرید و فروخت کے وقت اس کی valuation کے ایک نئے نظام کو بھی متعارف کروانے کی کوشش کی گئی ہے۔ یہ بات اپنی جگہ حقیقت ہے کہ اس وقت ملک میں آپ کوئی بھی جائیداد خریدیں آپ رجسٹری یا ٹرانسفر کم قیمت ہی کی کرواتے ہیں۔ حکومت سمجھتی ہے کہ کم قیمت کی رجسٹری اور ٹرانسفر کی وجہ سے حکومت کو ٹیکس میں نقصان ہو تا ہے۔ اس لئے حکومت چاہتی ہے کہ جائیداد کی خرید و فروخت کے وقت اصل قیمت پر ہی ٹرانسفر اور رجسٹری ہو سکے۔ اسی کو ممکن بنانے کے لئے valuation کے نئے نظام کو متعارف کروانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

لیکن رئیل سٹیٹ ایجنٹس اس نئے نظام کے مخالف ہیں۔ ان کا موقف ہے کہ اس وقت ڈی سی ریٹ پر رجسٹریاں اور ٹرانسفر ہو تی ہیں۔ حکومت اسی نظام کو برقرار رکھے ۔جبکہ حکومت کا موقف ہے کہ ڈی سی ریٹ مارکیٹ ریٹ کے عکاس نہیں ہیں۔ اس ضمن میں حقیقت یہ ہے کہ واقعی سندھ میں سندھ حکومت نے گزشتہ دس سال سے ڈی سی ریٹ تبدیل نہیں کئے ۔ جبکہ سندھ اور بالخصوص کراچی میں گزشتہ دس سال میں رئیل سٹیٹ کی قیمتوں میں کئی سو گنا اضافہ ہو چکا ہے۔ اس لئے حکومت کو بالخصوص سندھ اور کراچی میں جائیداد کی خرید و فروخت میں بہت نقصان ہو رہا ہے۔ لیکن پنجاب میں تو صورتحال یکسر مختلف ہے۔ پنجاب میں ہر سال ڈی سی ریٹ پر نظر ثانی کی جاتی ہے اور ان کو بڑھا یا جا تا ہے۔ اگر پنجاب اور بالخصوص لاہور کا جائزہ لیاجائے تو لاہور میں کسی بھی پلاٹ و گھر کی ڈی سی ریٹ قیمت اور مارکیٹ قیمت میں نصف کا فرق ہے۔ اگر ڈی سی ریٹ پانچ لاکھ روپے مرلہ ہے تو مارکیٹ میں قیمت دس لاکھ روپے مرلہ ہے۔ لیکن رئیل سٹیٹ ڈیلرز کا موقف ہے کہ اتنا فرق ہونا چاہئے کیونکہ مارکیٹ پورا سال ایک جیسی نہیں رہتی۔ پھر لوگ اپنی جائیداد سستی و مہنگی ضرورت کے مطابق فروخت کرتے رہتے ہیں۔ اس لئے نصف کا فرق جائز ہے لیکن کئی سو گنا کا فرق کیسے جائز قرا دیا جا سکتا ہے؟ رئیل سٹیٹ ڈیلرز کراچی کے حو الہ سے بتاتے ہیں کہ وہاں ڈیفنس کا ڈی سی ریٹ ایک لاکھ روپے مرلہ ہے جب مارکیٹ میں بیس لاکھ روپے مرلہ ہے ۔ اسی طرح لاہور ڈیفنس میں ڈی سی ریٹ دس لاکھ روپے مرلہ ہے جبکہ مارکیٹ قیمت اٹھارہ لاکھ روپے مرلہ ہے۔

رئیل سٹیٹ ڈیلرز کا موقف ہے کہ نئے valuators کو گیم میں ڈالنے سے معاملات بہتر ہونے کی بجائے پیچیدہ ہو جائیں گے۔ ایک valuator ایک جگہ کی کچھ قیمت لگائے گا دوسرا valuator اسی جگہ کی یا اس کے ساتھ والے پلاٹ کی کچھ اور قیمت لگا دے گا۔یہ فرق مارکیٹ کو خراب کرے گا اور معاملات الجھ جائیں گے۔ اگر حکومت سمجھتی ہے کہ ڈی سی ریٹ ٹھیک نہیں ہیں تو انہیں ٹھیک کیا جائے۔ لیکن جہاں حکومت ڈی سی ریٹ کے نظام کو ٹھیک کرنے سے انکاری ہے وہاں نئے نظام سے حسب عادت ٹیکس نظام کو پیچیدہ بنا یا جارہا ہے۔

لیکن ایسا لگتا ہے کہ اٹھارویں ترمیم کے بعد وفاقی حکومت صوبائی حکومتوں پر اپنا اثر کھو چکی ہے ۔ صوبائی حکومتیں اپنی اپنی سیاسی ضروریات اور مصلحتوں کی وجہ سے حکومت سے تعاون کرنے سے انکاری ہیں۔ اسی لئے جناب اسحاق ڈار نے ایک متبادل نظام بنانے کی ضرورت محسوس کی ہے۔ لیکن حکومت اپنی نااہلیوں کا ملبہ عوام پر کیوں ڈال رہی ہے۔ ایسے پیچیدہ نظام ملک کے ٹیکس نظام کے لئے زہر قاتل کی حیثیت رکھتے ہیں۔ اسی لئے حکومت کو رئیل سٹیٹ میں جائیداد کی خریدو فروخت میں اپنا ٹیکس نظام بہتر بنانے کے لئے ڈی سی ریٹ کو مزید بہتر کرنا ہو گا اسے مارکیٹ ویلیو کے قریب لانے کے لئے اقدامات کرنا ہونگے۔ لیکن کوئی متبادل نظام مسئلہ کا کوئی حل نہیں۔ امید ہے کہ حکومت کو یہ بات سمجھ آجائے گی۔

مزید : کالم

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...