متبا دل کون؟

متبا دل کون؟
متبا دل کون؟

  

دنیا بھر کے بڑے بزنس اور پروفیشنل اداروں میں ایک اصطلاح استعمال ہوتی ہے۔۔۔ Succession Planning ۔۔۔ اداروں کی لیڈرشپ باصلاحیت اور ابھرتے ہوئے لوگوں کو قیادت کے لئے تیار کرتی ہے۔ یہ عمل اگر معاشرے کی سیاست اور قیادت شروع کر دے تو اجتماعیت میں برسوں سے جاری جمود اور قیادت کا قحط ختم ہو جائے۔ جس طرح دین میں اجتہاد اسے نئے زمانوں سے ہم آہنگ کرتا ہے،اسی طرح نئی قیادت بھی سیاست کو روانی عطا کرکے اسے بدبو دار جوہڑ بننے سے رو کتی ہے۔ جے آ ئی ٹی کی رپورٹ کے بعد پاناما لیکس کے بحران کا رخ اپنے انجام کی سمت بتا رہا ہے، مگر اب ملک کو جس حقیقی بحران کا سامنا ہے، وہ حکمران جماعت میں نئی قیادت کا نظر نہ آ نا ہے۔ درحقیقت یہ وہ مسئلہ ہے جو وزیراعظم نواز شریف کے استعفے کی راہ میں اصل رکاوٹ ہے۔

جمہوریت کے لئے بیتاب وزیراعظم کی جماعت میں رائج جمہوری کلچر ایسی قیادت پیدا نہیں کر سکا جو اس وقت سامنے آ کر وزیراعظم کے گھر جانے کے عمل میں ان کی مدد کرے اور اقتدار پر ان کی جما عت کی کمزور ہوتی گرفت کو دوبارہ مضبوط کرے۔ ان کے سامنے اس وقت آ گے چڑھائی اور پیچھے کھائی کا منظرنامہ ہے۔ دائیں ہاتھ بیٹھے ان کے رفیقوں کو اپنا اقبال بلند ہوتا نظر آ رہا ہے اور بائیں ہاتھ بیٹھے جاں نثاروں کو اپنی فکر کھا ئے جا رہی ہے۔ میاں صاحب کے اقتدار کی ڈنڈا ڈولی میں انہیں صرف اتنی دلچسپی ہے کہ ان کی باری ہے یا نہیں؟

ایک ایسا سیاسی عمل، جس میں شخصیات اور لیڈرز اپنے آپ کو ناگزیر سمجھ بیٹھتے ہیں، اپنی افا دیت کھو دیتا ہے، اور یہ طرز سیاست ایک اعتراف جرم بھی ہوتا ہے کہ وہ قوم کو نئی قیادت دینے میں ناکام رہے ہیں، یوں جمہوری حکومتیں بادشاہت یا موروثیت کی دلدل میں اتر جاتی ہیں۔ کیا کو ئی عام شہری جانتا ہے کہ مسلم لیگ کا چیئرمین، سیکرٹری جنرل اور چاروں صوبائی صدور کون ہیں؟ اس جماعت کا لاہور میں دفتر کہاں ہے؟ مرکزی سیکرٹریٹ کہاں واقع ہے؟ کیا ہم تصور کر سکتے ہیں کہ مر یم نواز نے مسلم لیگ(ن) کا ممبر شپ فارم پر کیا ہو گا؟ ورکر بنا کر سیا سی عمل سے گزارے بغیر جب آپ اپنی اولاد کو براہِ راست قیادت کے منصب پر لے آ تے ہیں تو سب سے پہلا حملہ اپنی پارٹی اور سب سے بڑا ڈاکہ اپنے ورکروں کے حق قیادت پر ڈالتے ہیں۔ پا رٹی میں جمہوریت کا چال چلن اس بات سے ملاحظہ فرمائیے کہ پارٹی کے سیکرٹری جنرل نے سینیٹ کے ٹکٹ کے لئے درخواست دی (ایک سینئر صحافی نے انہیں منع کیا تھا کہ ٹکٹ اپلائی نہ کریں) شہباز شریف کو انٹر ویو دیا، پھر بھی ٹکٹ کے حصول میں نا کام رہے۔زرداری کی پیپلز پارٹی کیا ہے؟ ان کے عزائم اور لوٹ مار کا ایک راجواڑہ بن چکی ہے۔ ۔۔۔Succession Planning ۔۔۔کا جو عمل ذوالفقار علی بھٹو نے بینظیر بھٹو کی سیا سی تر بیت کے لئے اختیار کیا تھا، اب وہ ختم ہو چکا ہے۔ متبادل قیادت کی تیاری اور مورو ثیت کے درمیان باریک فرق کو سمجھنا ہے تو بینظیر بھٹو اور بلاول بھٹو زرداری کی سیاسی تر بیت پر غور کریں۔ تبدیلی کے لئے نڈ ھال عمران خان کی جماعت کی حا لت دیکھیں تو عمران خان کے بعد اندھیرا ہے، ان کی پارٹی میں تمام شخصیات کے اپنے اپنے گروپس ہیں اور پارٹی میں شا مل ہو نے وا لے نئے لوگ تحریک انصاف کی بجائے ان متحارب گروپوں اور شخصیات کی وفاداری کو مقدم سمجھتے ہیں۔

عمران خان کے بعد کے منظرنامے میں قیادت کے خدوخال کیا ہوں گے؟ اس سوچ اور تصور کا بھی دور دور تک کوئی امکان نہیں۔ اے این پی کی قیادت بھی خان عبدالغفار خان کے خانوادے سے آ گے کا سفر نہیں کر رہی۔بڑے خان صاحب کے بعد ولی خان، بیگم نسیم ولی خان اور اب اسفند یارولی خان، اجمل خٹک صاحب اس پارٹی میں کچھ دیر کے لئے ابھرے تھے، مگر وہ بھی ڈوب گئے۔ جما عتِ اسلامی کے سوا ہر سیاسی جماعت میں یہی چلن عام ہے۔ نیچے سے اوپر آنے کے کٹھن عمل سے گزرے بغیر جو شخصیات سسٹم میں خرابیوں کی بدولت اقتدار کے ایوانوں میں گھس آتی ہیں، ان کا انجام امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی طرح ہو تا ہے، چو نکہ وہ خود سیا سی میدان میں کسی جدوجہد کے بغیر آئے ہیں، اس لئے اپنے دورِ صدارت میں اپنی جانشینی کے لئے ابھی سے اقرباء پروری کی بنیاد ڈال رہے ہیں، ان کی بیٹی اور داماد کی اہلیت اور انہیں خارجہ پا لیسی کے امور میں شامل کر نے کے میرٹ پر بھی سوالات اٹھائے جا رہے ہیں، ان کا کو ئی ایک بھی ایسا بیرونی دورہ نہیں ہوا جو تنازعات سے خالی رہا ہو، قیادت کے انتخاب میں بہتر روایات رکھنے والا امریکہ ان کے انتخاب اور حرکتوں پر بر سوں شر مندہ رہے گا۔

جمہوریت کو آئینہ دکھانے کے لئے کسی بادشاہت کی دہلیز تک لے کر جانا اچھی بات تو نہیں، مگر سعودی بادشاہت کے اس کریڈٹ کا اعتراف کر نا پڑے گا کہ وہ آ ئندہ کے با دشاہ کو پہلے ولی عہدی کے دور میں ٹریننگ کے عمل سے گزارتے ہیں، انہیں دفاع ، خارجہ پالیسی اور انٹیلی جنس کے امور میں بڑی اہم ذمہ داریاں ادا کر نے کو کہا جاتا ہے۔ شاہ عبداللہ، شاہ سلمان، شہزادہ مقرن کے بعد اب و لی عہد محمد بن سلمان کو تر بیت کے ان کڑے مراحل سے گزار کر قیادت کے لئے تیار کیا جا رہا ہے۔۔۔بد قسمتی سیمجمو عی قو می سطح پر شخصیت پرستی اور اپنے آپ کو ناگزیر سمجھنے کا عمل جاری ہے۔ وزیراعظم نواز شریف بھی اسی سیاسی روایت سے اقتدار میں آئے اور اسی کلچر کو بڑ ھاوا دے رہے ہیں۔ وزارتِ عظمیٰ تو چھوڑیئے پنجاب کی وزراتِ اعلیٰ کے لئے بھی ان کی نظرِ انتخاب میاں شہباز شریف کے سوا کسی اور پر نہیں ٹھہرتی۔ ہما ری جمہوریت میں سیاسی ورکر بنے بغیر براہِ راست قیادت تک پہنچنے کا سکہ را ئج ہے، یہاں کچھ سیاسی خاندانوں کی مائیں صرف حکمران پیدا کرتی ہیں۔ صدام حسین، معمر قذافی اور حسنی مبارک جیسے مردِ آ ہن ہما رے سامنے ماضی کا حصہ بن گئے ہیں۔ کوئی فطر ت کے اشا رے سمجھنے سے قا صر ہو اورسیا سی ماحول میں گھٹن اور حبس طا ری رکھنے پر بضد ہو تو تا ریخ ایک نیا مو ڑ مڑ جاتی ہے، جہاں ناگزیر شخصیات پیچھے رہ جا تی ہیں اور امکانات کا دروازہ کسی اور پر کھل جاتا ہے۔ قوم جان لے کہ اب ان کی غلامی کے بو جھ ڈھو نے کا وقت ختم ہو رہا ہے اور معاشرے میں پیدا ہونے والے سیاسی شعور کے ذریعے متبادل قیا دت کی حو صلہ افزا ئی کرے ۔

مزید : کالم